چین کا بیلٹ اینڈ روڈ فورم ہے کیا؟

بیلٹ اینڈ روڈ فورم 2019 تصویر کے کاپی رائٹ PM Office

دنیا بھر سے کئی ممالک کے لیڈر، تھنک ٹینکس اور اداروں کے سربراہان بیجنگ میں جمع ہیں اور وہ چین کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے پر بات کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا وقت ہے جب اس منصوبے کو تنقید کا سامنا بھی ہے۔

اور ایسا لگتا ہے کہ چینی قیادت بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے ذریعے انھی بین الاقوامی خدشات کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہم جائزہ لیں گے کہ کیسے چین ان خدشات کو اس فورم کے جاری اجلاس میں دور کر رہا ہے۔

'بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو' یعنی بی آر آئی جسے 'ون بیلٹ ون روڈ' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے چین کی طرف سے رواں صدی کا سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ ہے جس کے تحت 66 سے زائد ممالک کو تجارتی سطح پر جوڑا جا رہا ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ دنیا کی دو تہائی آبادی کو ملائے گا جس میں کم از کم ایک تہائی مجموعی ملکی پیداوار بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

تجارتی معاہدے سے یہ جنگ ختم ہو جائے گی؟

ایئرپورٹ جس کا سنگ بنیاد رکھنے میں 14 سال لگ گئے

عمران خان چین میں: سی پیک منصوبے کا مستقبل کیا ہو گا؟

پاکستان کی خارجہ پالیسی پر منیر نیازی کے اثرات

پاکستانی سیاست اور شاہی دورہ

سی پیک پر 'خاموش سفارتکاری' کا خاتمہ

صدر شی جن پنگ نے 2013 میں اس وسیع منصوبے کا اعلان کیا جو کہ زمانہِ قدیم کی شاہراہ ریشم کے نقشِ قدم پر بنایا گیا ہے۔ اس کے زمینی راستے کو 'سلک روڈ اکنامک بیلٹ' کا نام دیا گیا ہے جو کہ چین کو سڑک اور ریل کی مختلف راہداریوں کے ذریعے ایشیا کے تقریباً تمام ممالک سے ملاتے ہوئے یورپ تک جاتا ہے۔ ان راہداریوں کا ایک اہم حصہ چین پاكستان اقتصادی راہداری ہے جو کہ گوادر سے خنجراب کے راستے 62 ارب امریکی ڈالر کی مالیت پر مشتمل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اس کا دوسرا پہلو 'میری ٹائم سلک روڈ' ہے جو کہ بحری راستہ اپناتا ہوا افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا سمیت پوری دنیا میں بکھر جاتا ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا مقصد کیا ہے؟

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں کیا شامل ہے اور اس کا مقصد کیا ہے، اس کو بہت سے ماہرین نے اپنے انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن کم از کم اس بات پر اتفاق ہے کہ ان اقتصادی راہداریوں میں تجارت، نقل و حمل، توانائی، سرمایہ کاری، ثقافتی تبادلہ اور دیگر بنیادی معاشی ڈھانچے شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM Office

چین کی معیشت اس وقت امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے لیکن اگر قوت خرید کے حساب سے تولا جائے تو سب سے بڑی ہے۔

جن ممالک کو چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل کر رہا ہے ان میں اکثریت ترقی پذیر ممالک کی ہے جو اس منصوبے کو مقامی معیشت میں ترقی کے لیے نہایت اہم موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔

تاحال اس بارے میں ایسے مستند اعداد و شمار نہیں ہیں جو یہ ثابت کر سکیں کہ چین کے اس منصوبے سے ان ممالک میں توقعات کے مطابق اہداف کا حصول ہو رہا ہے یا نہیں، مگر دنیا کے کئی دیگر ممالک میں منصوبے پر تحفظات بھی پائے جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ بیجنگ میں جاری دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب میں چینی صدر نے انھی خدشات اور تحفظات کو دُور کرنے کی کوشش کی ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ فورم 2019 کیا ہے؟

تجزیہ کار پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین کے مطابق یہ کثیر الجہتی فورم ہے، اس کا مقصد دنیا بھر کے ممالک کو قائل کرنا ہے کہ وہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ بنیں، اس کے علاوہ اس منصوبے کی پروجیکشن اور تشہیر کرنا ہے جبکہ تیسرا مقصد منصوبے میں پہلے سے شامل ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے۔'

پہلے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کا انعقاد سنہ 2017 میں بیجینگ میں ہوا تھا جس میں دنیا بھر سے مختلف ممالک کے سربراہان سمیت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی آئے تھے۔ بیلٹ اینڈ روڈ 2019 کے اس تین روزہ فورم میں بھی پاکستان کے وزیر اعظم، ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اور روس کے صدر ولادی میر پوتن کے علاوہ 37 سربراہان بیجنگ میں موجود ہیں۔ دنیا کے 122 ممالک اور 49 عالمی تنظیمیں بھی اس اہم فورم کا حصہ ہیں۔

فورم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ چین کے اس منصوبے کی نہ صرف دنیا بھر میں تشہیر کی جائے بلکہ سب کو اس سے متعلق آگاہی دے کر اس میں شامل کیا جائے۔ اس لیے چین کی جانب سے دیگر ممالک کے تحفظات دور کرنے کی ایک کوشش کی جھلک چینی صدر کے خطاب میں بھی نظر آئی ہے۔

عالمی تحفظات اور چین کا موقف

سینئر صحافی خلیق کیانی کہتے ہیں کہ 'عالمی طور پر بڑی طاقتیں تو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹو یعنی بی آر آئی کی مخالفت کر رہی ہیں، البتہ اس میں شامل ممالک اس کی حمایت کرتے ہیں۔ اور اس کی مخالفت کی ایک وجہ چین کی عالمی سطح پر اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کی کوشش ہے۔'

چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے متعلق یہ تنقید کی جاتی ہے کہ وہ اس منصوبے کو اپنی سیاسی، اقتصادی اور عسکری قوت پھیلانے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور اس سے ترقی پذیر ممالک اس کے قرضے تلے دب جائیں گے۔ اس تنقید کی وجہ سے ہی چین نے اس منصوبے کے لیے 'ون بیلٹ ون روڈ' کی جگہ 'بیلٹ اینڈ روڈ' کا نام استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

'قرضہ سفارتکاری؟‘

ماہرین کے مطابق اس منصوبے کا مقصد اس میں شامل مختلف انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے ذریعے عالمی تجارتی رابطے پیدا کرنا ہے۔ اسی لیے اس کے تحت کئی ممالک میں قرضوں کی صورت میں ٹرینوں، سڑکوں اور بندرگاہوں کا جال بچھایا جا رہا ہے تاکہ وہاں سرمایہ کاری کے راستے کھلیں۔

امریکہ کھل کر چین کی اقتصادی پالسییوں اور منصوبہ بندیوں پر تنقید کرتا رہا ہے، اور اس منصوبہ کو بھی 'قلیل مدتی فوائد اور چین پر طویل مدتی انحصار' کا باعث قراردیتا ہے۔ امریکہ بیلٹ اینڈ روڈ کے اس منصوبے کو 'قرضوں پر منحصر سفارتکاری' یا 'ڈیٹ ڈپلومیسی' کا نام بھی دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کئی ممالک جو اس منصوبے کا حصہ بھی ہیں، اب کچھ احتیاط سے کام لے رہے ہیں، اور اس سلسلے میں سری لنکا کی مثال دی جاتی ہے۔

صحافی خلیق کیانی کہتے ہیں کہ سری لنکا اس صورتحال کا شکار ہوا ہے 'جب اسے 2017 میں اپنی ایک بندرگاہ کا کنٹرول مکمل طور پر چین کے ہاتھ دینا پڑا کیونکہ سری لنکا بیرونی قرضہ وقت پر نہیں لوٹا سکا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہ رائے عالمی سطح پر کچھ ممالک میں ضرور پائی جاتی ہے کہ 'چین قرضے دیتا ہے، اس سے اپنا اثرو رسوخ بڑھاتا ہے اور پھر ان کے اثاثوں پر قبضہ کرتا ہے۔ جیسا کہ سری لنکا کے معاملے میں ہوا اور امریکہ کو یہ شہ ملی کہ وہ قرضوں کا الزام لگا سکے۔ اس لیے یہ رکن ممالک پر منحصر ہے کہ وہ قرضہ کن شرائط پر لے رہے ہیں۔‘

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین کہتے ہیں کہ وہ اس 'ڈیٹ ڈپلومیسی' کے بیانیے سے متفق نہیں 'کیونکہ حقائق کی بات کریں تو سری لنکا پر قرضوں میں چین کا قرضہ دو فیصد سے بھی کم تھا اور یورپ کا دس فیصد سے بھی زیادہ۔ ابھی تو یہ منصوبہ اپنی تکمیل کے مراحل میں ہے، اور آنے والے کچھ سالوں تک جب تک اس کے ثمرات سامنے نہیں آ جاتے تو بغیر ڈیٹا کے ایسی بات کرنا درست نہیں۔

یہاں تک کہ پاکستان میں بھی چینی قرضہ تو صرف دو سے تین فیصد ہے، اگر ہم اپنی معیشت کو درست انداز میں چلائیں تو یہ قرض باآسانی واپس ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ملائشیا نے وہ قرضے نہیں لیے جو انھوں نے سمجھا کہ وہ واپس نہیں کر سکیں گے اور اسی طرح پاکستان نے بھی تاحال ان معاہدوں پر دستخط نہیں کیے جہاں اسے اطمینان نہیں۔'

ماہرین کے خیال میں چین اس فورم کے ذریعے عالمی برادری کو یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ ایک جامع منصوبہ ہے اور اس میں شریک غریب ممالک میں قرضوں کی واپسی کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کرنے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔‘

'ہمسائے کو بھکاری بناؤ' چین کی پالیسی نہیں ہے

تصویر کے کاپی رائٹ PM OFFICE

جیسا کہ بیجنگ میں ہونے والے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے اجلاس میں چین نے مزید سرمایہ لگانے کی بجائے 'مشترکہ ترقی' پر بات کی اور اس ملٹی بلین ڈالر منصوبے پر کی جانے والی تنقید اور شکوک و شبہات کو دُور کرنے پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔

چینی صدر نے اپنے خطاب میں اگرچہ امریکہ یا یورپ کا نام نہیں لیا لیکن ان کا اشارہ انہی ممالک کی جانب ہونے کا تاثر ضرور ملتا ہے۔ ان کے خطاب سے چند گھنٹے قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر جلد ہی امریکہ کا دورہ کریں گے۔

اپنی تقریر میں انھوں نے کہا کہ چین کرنسی کی قدر میں کمی نہیں لانے دے گا اور اس کا استحکام یقینی بنائے گا اور یہ کہ چین 'ہمسائے کو بھکاری بناؤ' جیسی پالیسی پر یقین نہیں کرتا اور یہ چین کی پالیسی ہرگز نہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فائدہ صرف چین کو ہوگا؟

امریکہ سمیت کئی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ چین کے اس اقتصادی پیکج کا فائدہ صرف چین کو ہی ہوگا۔ جبکہ اس فورم میں چین نے اس تاثر کو رد کرنے کی کوشش کی ہے۔

صدر شی جن پنگ نے امریکہ کے ساتھ ہونے والی 'تجارتی جنگ' کا ذکر نہ کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا کہ یہ منصوبہ صرف چین کے لیے نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا 'بیلٹ اینڈ روڈ کوئی امتیازی کلب نہیں ہے۔ اس میں صرف چین کا مفاد نہیں بلکہ اس کے تمام شرکا کا فائدہ ہو گا کیونکہ چین اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسلسل مشاورت، ہم آہنگی اور شفافیت میں یقین رکھتا ہے۔'

پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین کے مطابق اس بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں خطاب کے دوران 'چین نے یہ واضح تاثر دیا ہے کہ وہ درآمد بھی کرنا چاہتا ہے،اور یہ ان کی کمزوری نہیں، یہ ان کی سفارتکاری کا حصہ ہے۔ چین کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے کہ وہ درآمدات کو بھی گنجائش دے رہے ہیں۔‘

جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ

کچھ ممالک اس منصوبے کو چین کی جانب سے جیوپولیٹیکل اثر و رسوخ قائم کرنے کی ایک کوشش بھی قرار دیتے ہیں۔ اس تاثر کو بھی اس فورم میں رد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ایک یہ دلیل بھی پیش کی جاتی ہے کہ چین پیچیدہ جیوپولیٹیکل مسائل کو پیسے کے ذریعے حل کر سکتا ہے۔

چین اسے جیو سٹریٹجک منصوبہ نہیں کہتا، چین کے مطابق یہ 'ان کوششوں کا حصہ ہے' جن کا مقصد ایسی برادری کی تشکیل ہے جو دنیا میں ان ممالک پر مشتمل ہے جو تمام انسانیت کے مستقبل کی ضامن ہوں۔‘

صدر شی جن پنگ نے فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں بھی کہا کہ 'امن و خوشحالی کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لئے اقتصادی تعاون اور آزاد تجارتی معاہدوں کی ضرورت ہے' جبکہ ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ فورم تمام ملکوں کو یکساں مواقع فراہم کرتاہے۔‘

چین کے اصلاحات کے دعوے؟

ان خدشات کے بیچ کہ چین اصلاحات کے دعوے پورے نہیں کر پایا، صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو نہایت اہم گردانتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین تجارتی توازن قائم کرنے کے لیے بیرون ملک سے مزید زرعی مصنوعات اور سروسز درآمد کرنے پر تیار ہے۔ جبکہ چین دیگر پارٹیوں کے ساتھ کیے گئے دو طرفہ اور کثیر الاطرافی تجارتی اور اقتصادی معاہدات پر عملدرآمد پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔‘

فورم میں انڈیا شامل نہیں

اس فورم میں انڈیا نے شرکت نہیں کی، اگرچہ انڈیا اور چین کے درمیان تجارت کا حجم خاصا بڑا ہے۔

لیکن ماہرین کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے، جس سے خاص طور پر خطے میں چین مضبوط ہوگا، پانیوں پر چین کی پوزیشن میں مزید استحکام آئے گا اور اس کا فلیگ شپ منصوبہ یعنی سی پیک، وہ عناصر ہیں جن پر انڈیا کے تحفظات ہیں۔ اس کے علاوہ انڈیا چین کی منڈیوں تک ترجیحی بنیادوں پر رسائی اور مراعات کا خواہشمند بھی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین کہتے ہیں کہ 'انڈیا کے اندرونی مسائل ہیں۔ انڈیا کی چین کے ساتھ تجارت کا حجم تو 80 ارب ڈالر سالانہ کی حد پار کر چکا ہے لیکن اس میں بھی چین کا ہی پلڑا بھاری ہے۔‘

انڈیا اس معاملے میں کچھ مراعات چاہتا ہے اور اس میں شمولیت کو مشروط کرنا چاہتا ہے۔ انڈیا چاہتا ہے کہ اس کی مصنوعات اور کمپنیاں چینی منڈیوں تک پہنچیں۔ دوسرا انڈیا نے پاکستان کا معاملہ بھی سامنے رکھا ہوا ہے، اس کے علاوہ ساؤتھ چائنہ پانیوں میں چین کی مضبوطی اور چین کا جنوبی ایشیا میں بڑی طاقت ہونا بھی انڈیا کو اپنے مفاد کے خلاف لگتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

کیا امریکہ کبھی اس کا حصہ بنے گا؟

ڈاکٹر اعجاز حسین کہتے ہیں کہ 'امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کا ایک کلیہ 'امریکہ سب سے پہلے' ہے، امریکہ تو پراٹیکشنزم کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ چین معیشت کے معاملے میں 'گلوبلائزیشن' کی جانب دیکھتا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے پیچھے یہی وجہ ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اس کی مصنوعات یورپی، چینی اور دیگر عالمی منڈیوں تک پہنچیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ 'اس وقت سرفہرست امریکہ ایک ایسا ملک ہے کہ چین کی خواہش ہے کہ یہ بھی ون بیلٹ ون روڈ کا حصہ بنے، جبکہ جنوبی ایشیا میں انڈیا کی شمولیت بھی اہم ہے، لیکن فی الحال ان دونوں ممالک کے تحفظات اور اندرونی تجارتی مسائل ہیں، لیکن یہ بھی امید ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ دونوں ممالک بھی کسی نہ کسی صورت میں اس کے معاہدوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔‘

کچھ ایسی ہی رائے خلیق کیانی کی بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خطے میں 'چین سب سے بڑی طاقت ہے اور اس کو روکنے کے لیے انڈیا اور امریکہ کا تعلق مضبوط ہوا ہے۔ چین انڈیا کو اپنا حریف سمجھتا ہے لیکن معیشت کے معاملے میں دونوں ملکوں میں تعاون بھی ہو رہا ہے۔‘

میری ٹائم سلک روڈ اور ساؤتھ چائنا سی

ساؤتھ چائنا سی میں چین کی بڑھتی طاقت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'اس میں کوئی مسئلہ نہیں، وہ لائن آف کمیونیکیشن ہے، وہاں تجارت ہو رہی ہے، وہاں محض خدشات ہیں۔ وہاں پاور چیک کرنے کے ایسے بیانات دیئے جاتے ہیں، تو چین اپنی حدود میں جزائر بنا رہا ہے اور امریکہ اور دیگر ممالک اس معاملے پر چین سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ چین بحری طاقت بڑھانے کی طرف جا رہا ہے اور دیگر چند ممالک اس پر تحفظات ہیں۔‘

واضح رہے کہ 3.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ سمندری حصہ دنیا کے بڑے بحری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔ تاہم یہاں موجود جزائر اور پانیوں کی حدود پر چین سمیت مختلف ممالک میں تناؤ ہے۔ چین انھیں اپنی ملکیت کہتا ہے جبکہ فلپائن، ویت نام، ملائیشیا، برونائی اور تائیوان ان مختلف جزائر کو اپنی اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ میری ٹائم سلک روٹ کے مجوزہ راستے اس تناؤ میں شدت کا باعث بھی بن سکتے ہیں، جبکہ کئی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مشترکہ مفاد کے مواقعوں پر مشتمل اس منصوبے سے یہ مسئلہ ختم بھی ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں