انڈیا: سمندری طوفان فانی کے پیشِ نظر لاکھوں افراد کی نقل مکانی

سمندری طوفان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈیا کے مشرقی ساحلی علاقوں سے شدید سمندری طوفان کے خطرے کے پیش نظر لاکھوں افراد نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ سائیکلون فانی نامی سمندری طوفان انڈیا کی ریاست اڑیسا کی جانب 200 کلومیٹر کی رفتار کی ہواؤں سے بڑھ رہا ہے اور جمعہ کو اس طوفان کے ساحلی پٹی سے ٹکرانے کا امکان ہے۔

مشرقی ریاست اڑیسا سے تقریباً دس لاکھ افراد کو نکال لیا گیا ہے۔

حکام نے مشرقی ساحل پر قائم دو بندرگاہوں پر جہازوں کی آمد و رفت سمیت تمام آپریشنز بند کر دیے ہیں اور ہزاروں اہلکار نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو نکالنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ آندھرا پردیش اور تامل ناڈو کی ریاستوں میں بھی ممکنہ طوفان کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

سمندری طوفان :تقریباً 10 لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل

سمندری طوفان نیٹ: چار ریاستوں میں الرٹ جاری

امریکہ میں سمندری طوفان ’مائیکل‘ سے تباہی

انڈیا میں طوفان اور آسمانی بجلی گرنے سے 47 ہلاک

انڈیا میں آنے والے حالیہ طوفان اتنے تباہ کن کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکام کو سمندری طوفان کے باعث 858 سال قدیم جگن ناتھ مندر کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے

سیاحتی شہر پوری میں 858 سال قدیم جگن ناتھ مندر بھی ہے جس کو سمندری طوفان کے باعث نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اوڑیسا کے تمام سکولوں اور یونیورسٹیوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

انڈین بحریہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے علاقے میں سات جنگی جہاز بھیجے ہیں جبکہ چھ جہاز اور سات ہیلی کاپٹر کسی بھی طرح کے ہنگامی حالات سے نمٹنے اور امدادی آپریشن کے لیے تیار ہیں۔

موسم کی پیش گوئی کرنے والوں نے خبردار کیا ہے کہ طوفانی بارشوں کے باعث اڑیسا کے نشیبی علاقوں میں پانچ فٹ تک سیلاب کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ سائیکلون فانی چوتھا سمندری طوفان ہوگا جو گذشتہ تین دہائیوں میں ملک کے مشرقی ساحل سے ٹکرائے گا۔

سنہ 2017 میں اچکی نامی سمندری طوفان سے 200 سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں جبکہ سیکڑوں نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ گذشتہ برس اکتوبر میں بھی ایک اور سمندری طوفان کی وجہ سے اڑیسا کے حکام نے لاکھوں افراد کو علاقے سے بحفاظت نکالا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حکام کے مطابق اب تک آٹھ لاکھ افراد کو علاقوں سے نکال لیا گیا ہے

کون سے علاقے متاثر ہوں گے؟

فانی نامی سمندری طوفان اس وقت آندھرا پردیش کے مشرق میں بنگال کی بندرگاہ کی جانب بڑھ رہا ہے۔

انڈیا کی نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے مشرقی ساحل پر رہنے والوں خصوصاً مچھیروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر معمولی حالات کے پیشِ نظر وہ سمندر میں مت جائیں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ’مٹی کے گھروں کی مکمل تباہی‘ کے ساتھ ساتھ دیگر عمارتوں کو بھی ’شدید نقصان‘ پہنچ سکتا ہے۔

سمندری طوفان کے ایک بار انڈیا کے مشرقی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد توقع ہے کہ طوفان سنیچر کو ایک کمزور شکل میں بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ کی جانب منتقل ہو جائے گا. سمندری طوفان کے بنگلہ دیش میں اونچی سمندری لہروں کے ساتھ ٹکرانے سے وہاں ممکنہ سیلاب کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں.

کوکس بازار کے ساحلی شہر جہاں لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں کو بھی ہنگامی حالات کے لیے ہائی الرٹ کیا گیا ہے۔ تاہم سمندری طوفان کا اس وقت ان کمیپوں سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں ہے جب تک کہ وہ اپنا رخ نہ تبدیل کر لے۔

فروری میں ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ تنظیموں کی جانب سے علاقے میں ’سائیکلون کے موسم‘ سے پہلے ترپالوں کی تقسیم شروع ہوئی تھی لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی مہلک طوفان میں پھنس جائیں تو، ٹوٹے ہوئے بانس اور پلاسٹک سے بنے ہوئے گھر تھوڑا تحفظ فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے.

انڈیا نے طوفان سے نمٹنے کی کیا تیاری کی ہے؟

حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے 850 سے زائد پناہ گاہیں تیار کی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ تقریباً دس لاکھ افراد کو پناہ فراہم کر سکیں گی۔

بحریہ، کوسٹ گارڈ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کی رسپانس فورس کو بھی تعیناتی کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔ ایک حکام نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ جنوبی ساحلی شہروں وشکاپٹنم اور چنائی میں دو جہازوں کو ڈاکٹروں اور غوطہ خوروں کے ساتھ تیار کھڑا کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انڈیا کی نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے مشرقی ساحل پر رہنے والوں خصوصاً مچھیروں کو سمندر میں جانے سے منع کیا ہے

مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ان ساحلی علاقوں سے آنے جانے والی 81 ٹرینوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

انڈیا کے انتخابی کمیشن نے بھی اپنے قوانین میں نرمی کی ہے کہ حکومت انتخابی مرحلوں کے دوران کیا کرسکتی ہے تاکہ حکام امدادی کام کرسکیں. انڈیا میں اس وقت کئی مراحل میں انتخابات ہو رہے ہیں جو گذشتہ ماہ شروع ہوئے تھے.

عام حالات میں موجودہ حکومت نے بعض اختیارات معطل کر دیے ہیں تاکہ یہ نئے منصوبوں کا اعلان نہ کر سکے یا ووٹ کی مدت کے دوران نئے فیصلے کر سکے. اگرچہ مئی کے اختتام تک انتخابات جاری رہیں گے اور اڑیسا میں ووٹ کا عمل مکمل ہو چکا ہے.

اسی بارے میں