رمضان کی آمد، طالبان کا افغان پولیس ہیڈکواٹر پر حملہ

پل خمری افغانستان طالبان تصویر کے کاپی رائٹ بی بی سی پشتو
Image caption افغان صوبے بغلان میں حملے کے بعد اٹھنے والے دھواں۔

شمالی افغانستان کے صوبہ بغلان میں صوبائی پولیس ہیڈ کوارٹرز پر خودکش بم دھماکے اور مسلح شدت پسندوں کے حملے میں متعدد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے میں چالیس سے زیادہ اہلکار اور عام شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔

بغلان میں یہ حملہ افغان صدر اشرف غنی کی اس پیشکش کے دو دن بعد ہوا جس میں انھوں نے طالبان کو ماہ رمضان کے احترام میں جنگ بندی کی پیش کش کی تھی۔

شمالی بغلان صوبے کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پُلِ خمری میں صوبائی پولیس ہیڈکوارٹر کے قریب حملے کا آغاز ایک بم دھماکے سے ہوا۔ اس کے بعد مسلح لوگوں نے گولیاں چلانا شروع کردیں۔

بی بی سی پشتو کے مطابق، طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور ہیڈکوارٹر کے اندر داخل ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

طالبان سے مذاکرات امن لائیں گے یا بد نظمی؟

افغان لویا جرگہ کیا ہے اور اس کی ضرورت کیوں آن پڑی؟

طالبان ترجمان کے مطابق، 'کئی ایک طالبان اب بھی پوزیشن سنبھالے ہوئے سرکاری سکیورٹی اہلکاروں سے لڑ رہے ہیں۔'

طالبان کے جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا ایک خودکش حملہ آور بارود سے بھری ایک ہموی جیپ پر سوار تھا، اس نے اس جیپ کو ہیڈکوارٹر کے سامنے دھماکے سے اُڑا دیا۔

بغلان کے گورنر کے ترجمان، محمود حقمل وائی، نے حملے کی تصدیق کی ہے لیکن نقصانات کے بارے میں کہا کہ تاحال ان کے پاس کافی معلومات نہیں تھیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور مارے گئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق، بم دھماکے ہیڈکوارٹر کے قریب ہوئے، ایک حملہ آور نے ہدف سے قبل اپنے آپ کو ہلاک کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ بی بی سی پشتو
Image caption طالبان نے یہ حملہ افغان صدر اشرف غنی کی رمضان میں جنگ بندی کی پیشکش کا بعد کیا۔

دوسری طرف، بغلان کے پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر مبارک حبیب نے کہا کہ ہسپتال میں زخمیوں کی ایک بڑی تعداد لائی گئی ہے۔

ڈاکٹر حبیب کا کہنا ہے کہ بغلان کے سینٹرل ہسپتال میں گولیوں سے زخمی 40 افراد لائے گئے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

بغلان کے ایک نجی اسپتال کے سربراہ فواد احمدی نے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں آٹھ اہلکاروں کو لایا گیا جن میں دو اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے۔

علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک عینی شاہد نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ اب بھی گولیوں کی آوازیں سنائی دی جا رہی ہیں۔

اس دوران طالبان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک اور بیان میں طالبان نے حال ہی میں ہونے والے پانچ روزہ لویہ جرگے کو ایک ناکام کوشش قرار دیا ہے۔

پاکستان میں قائم افغان اسلامک پریس کی جانب سے طالبان کے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ جرگہ امریکی قبضے کو جواز فراہم کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں