ایران-امریکہ کشیدگی کے پیش نظر امریکی جنگی بیڑا خلیج میں تعینات

جنگی بیڑہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی جنگی بحری بیڑے ابراہم لنکن کو پہلے بھی خلیجِ فارس میں تعینات کیا جا چکا ہے (فائل فوٹو)

امریکہ نے ایران کو ایک ’واضح اور بے مغالطہ پیغام‘ بھیجنے کے لئے مشرق وسطی میں اپنا ایک جنگی بحری بیڑا تعینات کیا ہے۔

امریکہ کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن کا کہنا یہ اقدام ایران کی جانب سے ’متعدد دھمکیوں اور اکسانے والے بیانات‘ کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک امریکی سرکاری اہلکار کا حوالے دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ جنگی بیڑے کی تعیناتی امریکی افواج پر ممکنہ حملے کے دعویٰ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

جان بولٹن کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں ’سخت قوت‘ کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے!

امریکی اقتصادی پابندیاں ایران پر کتنی بھاری پڑ رہی ہیں؟

کیا واقعی ایک کروڑ دس لاکھ ایرانی متاثر ہوں گے؟

ایران کے پاسداران انقلاب دہشت گرد قرار

ایران پر پابندیوں کے اثرات: چارٹس میں

جان بولٹن نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکہ اپنا ابراہم لنکن نامی جنگی بحری بیڑا اور ببمبار ٹاسک فورس امریکی سینٹرل کمانڈ کے علاقے میں تعینات کر رہا ہے تاکہ ایرانی حکومت کو واضح اور بے مغالطہ پیغام بھیجا جا سکے کہ ہمارے یا ہمارے اتحادیوں کے مفادات پر کسی بھی قسم کے حملے کا سخت قوت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن

انھوں نے کہا کہ ’امریکہ ایران سے جنگ نہیں چاہتا، تاہم ہم ایرانی فوج یا خصوصی فوجی دستے پاسداران انقلاب کی جانب سے کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔‘

یہ جنگی بحری بیڑا پہلے ہی یورپ میں امریکی اتحادیوں کے ساتھ جنگی مشقوں میں حصہ لے رہا تھا، جو گذشتہ ماہ کے آخر سے جاری ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ امریکی جنگی بیڑے کو خلیج میں تعینات کیا گیا ہو، اگرچہ اس بار یہ تعیناتی امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر عمل میں آئی ہے۔

گذشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے اس یادگارجوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہو گئے تھے جس پر امریکہ اور دیگر ممالک نے سنہ 2015 میں اتفاق رائے کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ ایران کے خصوصی فوجی دستے پاسداران انقلاب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے

اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرتے ہوئے بین الاقوامی مبصرین کو دورے کی اجازت دینے کی آمادگی ظاہر کی تھی جس کے بدلے اسے عائد پابندیوں میں نرمی کا کہا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ امریکی صدارتی دفتر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ امریکہ ایران سے تیل کی خریداری پر پانچ ملکوں کو دیا گیا عارضی استثنیٰ ختم کر دے گا کیونکہ چین، انڈیا، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی تب تک ایران سے تیل خرید رہے تھے۔

اور اسی وقت امریکہ نے ایران کے خصوصی فوجی دستے پاسداران انقلاب کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔

ان پابندیوں نے تیزی سے ایران کی معیشت میں گراوٹ کی ہے، اس کی کرنسی کو ریکارڈ کم سطح پر لے آئی ہیں اور سالانہ افراط زر کی شرح کو چار گنا بڑھانے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دور کرنے، اور ملک میں حکومت مخالف مظاہروں کو فروغ دیا ہے۔

اسی بارے میں