انڈیا: پارلیمانی انتخابات کے چھٹے مرحلے کی پولنگ جاری

ریلی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈیا کے پارلیمانی انتخابات کے چھٹے مرحلے میں اتوارکی صبح سات ریاستوں کے 59 حلقوں میں پولنگ شروع ہو گئی ہے۔

آج جن ریا ستوں میں ووٹنگ ہو رہی ہے ان میں اترپردیش کی 14، مدھیہ پردیش کی آٹھ، دلی کے سبھی ساتوں حلقے، ہریانہ کی دس، بہار کی آٹھ، جھارکھنڈ کی چار اوربنگال کی آٹھ سیٹیں شامل ہیں۔ گذشتہ انتخابات میں بی جے پی نے ان میں سے 45 نشستیں حاصل کی تھیں۔

آج دلی کی سبھی سات سیٹوں کے لیے بھی ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ یہاں بی جے پی، ‏عام آدمی پارٹی اورکانگریس کے درمیان سہ رخی مقابلہ ہے۔ انتخاب لڑنے والے اہم رہمناؤں میں سابق وزیر اعلی شیلا دکشت، کرکٹ کھلاڑی گوتم گمبھیر اور آتشی شامل ہیں۔

اتر پردیش میں اعظم گڑھ سے سابق وزیر اعلی اورسماجوادی پارٹی کے رہنما اکھیلیش یادو، سلطان پور حلقے سے بی جے پی کی مینکا گاندھی اور پیلی بھیت سے ان کے بیٹے ورون گاندھی انتخاب لڑ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

غلط ووٹ ڈالنے پر آدمی نے اپنی انگلی کاٹ لی

مسلمان اب کسی کا ووٹ بینک نہیں

بھوپال میں کانگریس کے رہنما اور سابق وزیراعلی دگ وجے سنگھ کا مقابلہ بی جے پی کی امیدوار پراگیہ سنگھ سے ہے جن پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

اس مرحلے کی انتخابی مہم میں وزیر اعظم نریندرمودی نے راہل گاندھی کے آنجہانی والد اور سابق وزیر اعظم راجیوگاندھی پر شدید حملے کیے تھے اور انھیں 'بدعنوان نمبر ون' قرار دیا تھا۔ مودی نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ راجیو نے انڈین بحریہ کے جہاز کو اپنی فیملی کی چھٹیاں منانے کے لیے استعمال کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

بنگال میں حکمراں ترنمول کانگریس کی رہنما ممتا بینرجی اوربی جے پی کے درمیان انتخابی مہم انتہائی تلخ رخ اختیارکرچکی ہے۔ ممتا بینرجی نے کہا کہ وہ مودی کو اپنا وزیر اعظم نہیں مانتیں اور جمہوریت انھیں سبق سکھائے گی۔

پولنگ سے ایک روز قبل کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ الیکشن کمیشن حکومت کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ یہ الزام حزب اختلاف کی دوسری جماعتیں بھی عائد کر چکی ہیں۔

پارلیمانی انتخاب کا اب صرف ایک اورمرحلہ باقی ہے۔ 19 مئی کو آخری مرحلے میں بھی 59 سیٹوں پر پولنگ ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی پورے ملک میں ایک ساتھ 23 مئی کی صبح شروع ہو گی۔ لیکن اس بار نتائج آنے میں نسبتاً تاخیرہوسکتی ہے۔ کیونکہ ہر پارلیمانی حلقے میں الکٹرانک مشینوں کے ووٹ کے ساتھ ساتھ پانچ مشینوں پرکاغذ پردرج کیے گئے ووٹوں کی گنتی بھی کی جائے گی۔

لیکن انتخابات کے نتیجوں کا کچھ اندازہ ووٹنگ کے آخری مرحلے کے روز 19 مئی کی شام میں ہو جائے گا جب ملک کے کئی ٹی وی چینل اور اخبارات پولنگ ختم ہونے کے فوراً بعد انتخابات کے ایگزٹ پولز جاری کریں گے۔

اسی بارے میں