نیپال کا اردو دان، قتیل شفائی اور عیسیٰ خیلوی کا فین

نیپالی تصویر کے کاپی رائٹ Anmol Mani
Image caption انمول کینیڈا میں اپنی شریک حیات کے ساتھ جو خود بھی صحافی ہیں اور نیپالی ریڈیو سے منسلک رہی ہیں

ہم مقامی میٹرو اسٹیشن سے باہر نکلے تو درجۂ حرارت منفی پانچ ڈگری تھا۔ انمول سرخ رنگ کی ٹی شرٹ اور جیکٹ پہنے، اپنی سرخ ہی رنگ کی ڈاج کاروان گاڑی میں ہمارے منتظر تھے۔

گاڑی میں پاکستانی غزل گائیک سلمان علوی، ڈی وی ڈی کے ذریعے ناصر کاظمی کی غزل 'اجنبی شہر کے اجنبی راستے' سے ہمیں محظوظ کر رہے تھے۔ کینیڈا کا سرخ اور سفید جھنڈا بھی پس منظر میں اپنی بہار دکھا رہا تھا۔

موجودہ دور میں نئی نسل کی اردو سے بڑھتی ہوئی عدم دلچسپی کے باعث اردو زبان کی بقا خطرے میں نظر آتی ہے لیکن آج ہم آپ کی ملاقات ایک ایسے نیپالی شاعر، ادیب اور صحافی سے کرواتے ہیں جو نہ صرف بہت اچھی اردو بولتے ہیں بلکہ اردو شاعری، گائیکی، اور لٹریچر کا بہت اچھا ذوق رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے!

انڈیا: اردو شاعروں کی نئی نسل

'اردو میں سوائے محبت کے کچھ نہیں'

’جشن ادب‘ میں ’ماورائے ادب‘ گفتگو

ایک پاکستانی اداکار نیپال میں پنڈت کیسے بنے؟

نیپالی نوجوان بیرون ملک کیوں جا رہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Anmol Mani
Image caption 38 سالہ انمول، نیپال کے اندھیری نامی گاؤں میں پیدا ہوئے اور گذشتہ پانچ سال سے کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں مقیم ہیں۔

ماؤنٹ ایورسٹ کے دیس نیپال میں پیدا ہونے والے انمول منی پاڈول، ناصر کاظمی اور پروین شاکر کی شاعری، منی بیگم اور عطا الله خان عیسیٰ خیلوی کی گائیکی کے ساتھ ساتھ سعادت حسن منٹو کے افسانوں کے بھی شائق ہیں۔

38 سالہ انمول، نیپال کے دار الحکومت کھٹمنڈو سے چار سو کلومیٹر دوراندھیری نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ یہ دو بیٹوں کے باپ ہیں اور گذشتہ پانچ سال سے کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں مقیم ہیں۔

ان کا کہنا ہے 'دس جماعتیں پڑھ کر جب میں کھٹمنڈو آیا تو مجھے انگریزی میں اپنا نام لکھنا بھی نہیں آتا تھا۔ اسی لئے کالج کا فارم بھرتے ہوئے غلطی سے صحافت پر نشان لگا دیا۔' یہی غلطی ان کے صحافت کی دنیا میں داخلے کا باعث بنی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Anmol Mani
Image caption انمول واٹر گیٹ اسکینڈل کی رپورٹنگ کرنے والے معروف صحافی باب ووڈ ورڈ کے ساتھ

بعد ازاں انمول نے نیپال کے سب سے زیادہ کثیر الاشاعت اخبار کرانتی پور ڈیلی میں دس سال سے زیادہ کام کیا۔ یہ امریکہ میں صحافت کی ایک سالہ فیلو شپ میں بھی شرکت کر چکے ہیں جس میں انھیں چارامریکی ریاستوں میں صحافت کرنے کا موقعہ ملا۔

اردو سیکھنے کی کہانی

ان کے اردو سیکھنے کی داستان بھی بہت دلچسپ ہے۔ انمول نے بتایا کہ کالج کے دور میں ان کے ایک نیپالی مسلم دوست نے انھیں اردو غزلیں سننے کا مشورہ دیا۔ اس دور میں پڑھائی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے انمول ایک جام بنانے والی فیکٹری میں بھی کام کرتے تھے۔

انھیں کسی نے بتایا کہ پاکستانی سفارتخانہ اردو سیکھنے کے لئے ایک فیلو شپ دے رہا ہے۔ ابتداء میں انھیں فیلو شپ سے ملنے والی رقم سے دلچسپی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ 'مجھے فیلو شپ تو نہ ملی مگر کلاس میں بیٹھنے کی اجازت مل گئی۔' اس طرح ان کی اردو کی باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوا۔ 'میرے نیپالی استاد کا کہنا تھا اردو دنیا کی سب سے مٹھاس پورن (میٹھی) زبان ہے، اس میں ایک بات کو کہنے کے بہت سے طریقے ہوتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Anmol Mani
Image caption انمول سعادت حسن منٹو سے بہت متاثر ہیں، انھوں نے افسانوں کی متعدد کتابیں لکھی ہیں

سعادت حسن منٹو

اسی دور میں یہ کھٹمنڈو کی انڈین لائبریری بھی جانے لگے جہاں انھیں ہندی اسکرپٹ میں سعادت حسن منٹو کو پڑھنے کا موقعہ ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں سعادت حسن منٹو سے بہت متاثر ہوں۔‘ انمول نے افسانوں کی متعدد کتابیں لکھی ہیں۔

انمول نے بتایا کہ کھٹمنڈو یونیورسٹی میں چار طلبہ نے ان کی فکشن کی کتابوں پر ایم فل بھی کیا ہے۔ ان کی لکھی ہوئی ایک کہانی نیپالی اسکول کے نصاب میں بھی شامل ہے۔

غزل نیپالی زبان میں بھی مقبول

تصویر کے کاپی رائٹ Anmol Mani
Image caption منی بیگم، غلام علی، خلیل حیدر، سلمان علوی، اور عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی انمول کے پسندیدہ گائیک ہیں

انمول کے مطابق غزل عربی سے اردو اور فارسی میں آئی اور وہاں سے جنوبی ایشیا کی تمام زبانوں میں پھیل گئی۔ نیپالی زبان میں بھی غزل شاعری بہت مقبول صنف ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بہت سے پاکستانی غزل گائیک نیپال میں بہت معروف ہیں۔

'آپکو سن کر حیرت ہو گی کہ غلام علی (پاکستانی غزل گائیک) نیپال آ چکے ہیں اور پندرہ سولہ نیپالی غزلیں بھی گا چکے ہیں۔'

نیپالی زبان میں انمول کی اپنی غزلوں کا ایک مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے جس کا نام ہے 'ندی کنار ماں اوہیر' جس کا مطلب ہے 'دریا کے کنارے کھڑا ہوا۔'

ان کا کہنا ہے 'منی بیگم، غلام علی، خلیل حیدر، سلمان علوی، اور عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی میرے پسندیدہ گائیک ہیں۔ جبکہ قتیل شفائی، پروین شاکر، ناصر کاظمی میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔‘

نیپالی تعلیمی نظام پر افسانے

انمول کے تازہ افسانوں کا مجموعہ ایک نیپالی طالب علم کی خود کشی کے اندوہ ناک حادثے سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے جس نے صرف اس لئے جان دے دی کہ وہ انگریزی کے امتحان میں فیل ہو گیا تھا۔

انمول کا کہنا ہے کہ نیپال میں لوگوں کو انگریزی سیکھنے کا دیوانگی کی حد تک شوق ہے لیکن اسکے لئے بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں اور انکے تازہ افسانے ایسے ہی مسائل کو موضوع بناتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Anmol Mani
Image caption انمول اپنے نو برس کے بیٹے امولیہ کے ہمراہ

انمول سے بات چیت کے دوران ہمیں اندازہ ہوا کہ نیپالی اور اردو میں بہت سے الفاظ ایک جیسے ہیں مثلاً ندی، کنارہ، بالٹی۔ خود انمول کا نام بھی اردو میں مستعمل ہے جس کا مطلب ہے قیمتی۔

انمول سے گفتگو کے دوران ان کا نو سالہ بیٹا ان کے آس پاس رہا جس کا اپنا نام امولیہ ہے یعنی اتنا قیمتی جس کا کوئی مول ہی نہ ہو۔ ان سے مل کر بالکل اجنبیت کا احساس نہیں ہوا، ایسا لگا جیسے ہم اپنے کسی ہم وطن سے مل رہے ہوں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں