دولتِ اسلامیہ کی انڈیا، پاکستان میں نئی شاخیں: ’یہاں داعش نہیں، لیکن کچھ لوگ داعش نواز ضرور ہیں‘

کمانڈر ذاکر بٹ عرف ذاکر موسیٰ اور ساتھی
Image caption تازہ اعلان سے پہلے پاکستان دولتِ اسلامیہ کی 'ولایت خراسان' برانچ کے ماتحت ہوتا تھا (فائل فوٹو)

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے حال ہی میں انڈیا اور پاکستان کے لیے اپنی دو نئی شاخوں ’ولایت ہند‘ اور ’ولایت پاکستان‘ کے قیام کا اعلان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے کیا ہے۔

پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کی نئی شاخ کے قیام کا اعلان انڈیا میں ’ولایت ہند‘ کے قیام کے پانچ روز بعد کیا گیا ہے۔

پاکستان میں نئی شاخ کے قیام کے اعلان کے فوراً بعد 15 مئی کو جاری ہونے والے دو الگ الگ اعلامیوں میں ’ولایت پاکستان‘ نے 13 مئی کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک پولیس افسر کو ہلاک کرنے اور کوئٹہ میں پاکستانی طالبان کے ایک شدت پسند کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔

دوسری جانب حال ہی میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے شوپیاں میں ہونے والی ایک کارروائی کی ذمہ داری بھی ’ولایت ہند‘ نے قبول کی ہے۔

شدت پسند تنظیم کے پرانے نظام کے تحت پاکستان دولتِ اسلامیہ کی ’ولایت خراسان‘ برانچ کے ماتحت ہوتا تھا اور ملک میں ہونے والے دولتِ اسلامیہ کے حملوں کی ذمہ داری ولایت خراسان ہی قبول کرتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ابوبکر البغدادی کو پکڑنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

’کشمیری تنظیم کا دولت اسلامیہ سے وفاداری کا اعلان‘

پانچ سال بعد دولتِ اسلامیہ کے رہنما کی ویڈیو منظرعام پر

ولایت خراسان کے قیام کا اعلان دولتِ اسلامیہ نے سنہ 2015 میں کیا تھا اور اس کے زیر اثر علاقوں میں افغانستان، پاکستان اور دیگر قریبی علاقے آتے تھے۔

ان اعلانات کے بعد انڈیا اور پاکستان میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا شدت پسند تنظیم حقیقت میں ان ممالک میں اپنا باقاعدہ وجود رکھتی ہے یا نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2017 میں پاکستان کے صوبہ سندھ میں لال شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے حملے میں 90 زائرین ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی

کیا دولتِ اسلامیہ پاکستان میں ہے؟

پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت پہلے بھی یہ کہتی رہی ہے کہ ملک میں پہلے سے موجود شدت پسند گروپس دولتِ اسلامیہ کا نام استعمال کر رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کے سابق سربراہ احسان غنی نے بتایا ’پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کا وجود ہے، اس بات کو ہم یکسر مسترد نہیں کر سکتے۔ ایسا سوچنا کہ دولتِ اسلامیہ نہیں ہے اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہو گا۔‘

ان کے مطابق دولتِ اسلامیہ، جو کہ اپنے عربی مخفف ’داعش‘ سے بھی جانی جاتی ہے، جیسے گروہوں کا کوئی خاص تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہوتا: ایک سربراہ ہوتا ہے، جیسا کہ ابوبکر البغدادی، جن کی پانچ برسوں کے وقفے کے بعد حال ہی میں ایک ویڈیو سامنے آئی ہے۔

’آپ ان تنظیموں کی واضح موجودگی کو محسوس نہیں کر سکتے کیونکہ ماضی کے برعکس اب شدت پسند تنظیموں کے باقاعدہ دفاتر، بھرتی یا ٹریننگ سینٹر نہیں ہوتے کیونکہ وہ اپنا طریقہ کار تبدیل کر چکے ہیں۔‘

احسان غنی کا کہنا تھا کہ چند افراد ایسی تنظیموں کی فکر اور تشدد کے فلسفے سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کو درست سمجھتے ہیں اور یہی افراد مختلف نیٹ ورکس کے ذریعے ایسی تنظیموں سے رابطے میں آ جاتے ہیں جس کے بعد وہ اپنے طور پر کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

’ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے حامی، ہمدرد اور ہم خیال موجود ہیں اور اس طریقے سے ان کی موجودگی بالکل ہے۔‘

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دو سال قبل گجرات میں چند لوگ پکڑے گئے تھے جو شام گئے تھے اور کچھ وہ تھے جو جانے کا سوچ رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب عراق اور شام میں بھی پہلے جیسے حالات نہیں رہے ہیں جیسا کہ دولتِ اسلامیہ پہلے سوچ رہی تھی کہ یہاں وہ قدم جما سکتے ہیں۔

’تاہم اب افغانستان اور مشرق بعید کے ممالک میں شدت پسند تنظیموں کو قدم جمانے کی جگہ مل سکتی ہے۔ یہ وہاں رہیں گے اور وہاں سے حملے پلان کریں گے اور وہی مرکز رہے گا۔‘

’تاہم وہ شدت پسند جو بہت زیادہ مخلص ہیں اور ان کے کچھ نہ کچھ رابطے ہیں وہ کہیں اور بیٹھ کر کارروائیاں پلان کر سکتے ہیں۔‘

سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا کہتے ہیں کہ پاکستان میں چند شدت پسند گروہ موجود ہیں جن کا جھکاؤ پہلے ہی دولتِ اسلامیہ کی طرف ہے۔

'گذشتہ برسوں میں ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں یہ گروہ کمزور ضرور ہوئے ہیں، مگر مکمل ختم نہیں ہوئے۔ وہ شدت پسند جن کے لیے مواقع کم ہو رہے تھے، شاید ولایت پاکستان کا قیام ان کے لیے کشش کا باعث ہو۔'

عامر رانا نے بتایا کہ یہ ممکن ہے کہ ولایت پاکستان کو افرادی قوت پہلے سے موجود تنظیموں اور افراد کی صورت میں میسر آ پائے۔

'نئی بنتی صورتحال پر کس طرح قابو پانا ہے۔ یہ سکیورٹی اداروں کے لیے یہ چیلنج ہو گا۔ جب پرانے شدت پسندوں کو نئے مواقع میسر آتے ہیں تو ان کی آپریشنز کی صلاحیتیں بڑھتی ہیں، مدد اور تعلقات بڑھتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دیواروں پر دولتِ اسلامیہ یا داعش کے حق میں ہونے والی وال چاکنگ (فائل فوٹو)

ولایت پاکستان کے قیام کے اثرات؟

اس سوال پر کہ ولایت پاکستان کے قیام سے شدت پسندی کی کارروائیاں تیز ہوں گی، احسان غنی کا کہنا تھا کہ ’میری نظر میں اس کے قیام سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں اب صورتحال پہلے جیسی نہیں اور متعدد فوجی آپریشنز اور کریک ڈاؤنز کے بعد اب شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں کم ہو گئی ہیں۔

’دولتِ اسلامیہ اور دوسرے گروپ افغانستان میں اپنی جگہیں بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر پاکستان میں شاید ان کے لیے اب ایسا کرنا بہت مشکل ہو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آپ ایک مسئلے کو اس وقت تک حل نہیں کر سکتے جب تک آپ اس کو تسلیم نہ کر لیں دوسری صورت یہ ہے کہ حملے بھی ہوتے رہیں گے اور ان کی طرف سے ذمہ داریاں بھی قبول ہوتی رہیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے شاید دہشت گرد تو ختم کر دیے ہوں گے مگر دہشت گردی نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں نوجوان بظاہر پاکستان اور دولت اسلامیہ کے پرچم اٹھائے ہوئے (فائل فوٹو)

کشمیر میں عسکریت پسندی

دوسری جانب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے شوپیاں میں گذشتہ ہفتے ہوئے تصادم کے بعد فوج نے دعویٰ کیا کہ اس میں جو تین عسکریت پسند مارے گئے وہ 'دولتِ اسلامیہ سے متاثر' تھے۔

اس جھڑپ کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے اپنی نئی شاخ 'ولایت ہند' کے توسط سے قبول کی تھی۔

تاریخی پسِ منظر پر نظر ڈالیں تو مقبول کمانڈر برہان وانی کی جولائی سنہ 2016 میں ہلاکت کے بعد ’برہان گروپ‘ سے الگ ہونے والے کمانڈر ذاکر بٹ عرف ذاکر موسیٰ نے کئی ویڈیو پیغامات جاری کیے جن میں انھوں نے کشمیر میں جاری عسکری تحریک کے عالمی اہداف اور وادی میں نفاذِ شریعت کا ایجنڈا بیان کیا۔

وادی میں اکثر مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی لاشوں کو سبز ہلالی پرچم، جو پاکستان کے قومی پرچم جیسا دکھتا ہے، میں لپیٹ کر جنازے کا جلوس نکالا جاتا ہے۔ لیکن ذاکر نے اس روش کو 'غیر اسلامی' قرار دیا۔

بعد ازاں ذاکر موسی کے مارے جانے والے ساتھیوں کے تابوت پر سفید رنگ سے کلمہ طیبہ لکھے سیاہ پرچم میں لپیٹا گیا۔ یہ پرچم دولتِ اسلامیہ کے پرچم کے مشابہہ ہے۔

مظاہروں کے دوران بھی ایک ٹولی اکثر داعش کا پرچم لہرانے لگی، تو انڈین میڈیا میں یہ خبریں آنے لگیں کہ کشمیر میں داعش آ گئی ہے۔

دوسری جانب فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ دولت اسلامیہ کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے، تاہم اس رحجان پر تشویش کا بھی اظہار کیا گیا۔

بعض عسکریت پسندوں نے کشمیر کی سب سے پرانی عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے ناتا توڑ کر 'اسلامک سٹیٹ جموں کشمیر' یا 'دولت اسلامیہ جموں کشمیر' کا اعلان کر کے ذاکر کو اس کا قائد قرار دیا، تاہم اس پر علیحدگی پسندوں اور عسکری گروپوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

مورخ اور کالم نویس پی جی رسول کہتے ہیں 'بھارت امریکہ کا خاص حلیف بن رہا ہے۔ کشمیر میں دولتِ اسلامیہ آ گئی تو کشمیر میں انڈیا کی جنگ امریکہ کی عالمی جنگ کا حصہ بن جائے گی، اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم انسانی حقوق کی پامالی نہیں بلکہ عالمی سطح پر جاری ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے زمرے میں دیکھے جائیں گے۔'

Image caption کشمیر کی بعض ریلیوں میں بھی دولت اسلامیہ کے پرچم نظر آئے ہیں

دولت اسلامیہ کے بجائے القاعدہ سے متاثر

گذشتہ برس ذاکر موسیٰ نے اسلامک سٹیٹ جموں کشمیر سے لاتعلقی کا اظہار کیا تو 'انصار غزوۃ الہند' کے نام سے نئی تنظیم کا اعلان ہوا، جس نے ذاکر کو تنظیم کا سربراہ قرار دیا۔ بعد میں ذاکر کے جو پیغامات نشر ہوئے اُن کے مطابق غزوہ کا موقف داعش سے قدرے مختلف ہے۔

یہ تنظیم کشمیر کی مسلح تحریک کو پاکستان کے کنٹرول سے الگ کرنا چاہتی ہے، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کا کسی عالمی نیٹ ورک کے ساتھ بھی کوئی واسطہ نہیں۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ذاکر موسیٰ کی نئی تنظیم داعش نہیں بلکہ القاعدہ سے متاثر ہے۔

پولیس اور فوج کے بعض افسروں نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا 'شام اور افغانستان میں پسپائی کے بعد عالمی دہشت گرد تنظیمیں انڈیا کو نیا وار زون بنانا چاہتے ہیں، اور اس کے لیے انھیں کشمیر مناسب لانچ پیڈ لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے اعلان میں 'ولایہ ہند' کہا گیا ۔حالانکہ ابھی تک ایسے شواہد نہیں ملے ہیں کہ یہاں داعش یا القاعدہ کا کوئی نیٹ ورک ہے، لیکن یہ رحجان قابل تشویش ہے۔'

صحافی اور تجزیہ نگار اظہر قادری کئی سال سے سکیورٹی امور کی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی ہند مخالف مسلح تحریک میں کچھ نوجوان ایسے ضرور ہیں جو دولت اسلامیہ کے عالمی جہاد کے نظریہ سے متاثر ہیں۔ 'یوں سمجھ لیجیے کہ کشمیر میں داعش موجود نہیں البتہ کچھ لوگ داعش نواز ضرور ہیں۔'

اسی بارے میں