انڈین انتخابات 2019: ایگزٹ پولز کے مطابق ’مودی ہی وزیر اعظم ہوں گے‘

مودی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بی جے پی نے یہ انتخاب وزیراعظم نریندر مودی کے نام پر لڑا ہے جن کی مقبولیت دوسرے رہنماؤں کے مقابلے زیادہ رہی ہے (فائل فوٹو)

انڈیا کے پارلیمانی انتخابات کے آخری مرحلے میں اتوار کو پولنگ ختم ہو چکی ہے اور ملک میں ایگزٹ پولز کے اندازوں کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے جیتنے کے قوی امکانات ہیں۔

لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ’ماضی میں ایگزٹ پولز اکثر غلط ثابت ہوتے رہے ہیں‘۔

چار ایگزٹ پولز کے اندازوں کے مطابق بی جے پی کی سربراہی میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس 280 سے 315 سیٹیں حاصل کرے گا۔

543 رکنی پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے 273 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہیں۔

ایگزٹ پولز کے اندازوں کے مطابق بینگال اور اڑیسہ جہاں بی جے پی پہلے کمزور تھی وہاں اس مرتبہ وہ مضبوط نظر آ رہی ہے۔

مغربی بینگال کی جماعت آل انڈیا ترینمول کانگریس کی رہمنا ممتا بینرجی نے ردعمل میں کہا ہے کہ ’مجھے ایگزٹ پول کی افواہوں پر بھروسہ نہیں۔ گیم پلان یہ ہے کہ ان افواہوں کے ذریعے ای وی ایم میں ردوبدل کیا جائے یا انھیں بدل دیا جائے۔ میں تمام اپوزیشن پارٹیوں سے اپیل کرتی ہوں کہ متحد، مضبوط اور بے خوف ہو جائیں۔ ہم یہ لڑائی مل کر لڑیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

گاندھی کے قاتل کو محبِ وطن قرار دینے پر تنازع

’آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ہندو تھا‘

مودی کی جگہ بی جے پی کون چلا سکتا ہے؟

ووٹوں کی گنتی 23 مئی یعنی جمعرات کی صبح آٹھ بجے پورے ملک میں ایک ساتھ شروع ہوگی۔ کس حلقے میں کون سی پارٹی اپنے حریفوں سے آگے چل رہی ہے، اس کے رحجانات صبج گیارہ بجے سے آنا شروع ہو جائیں گے۔

مختلف حلقوں سے نتیجے شام تک آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

گذشتہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اپنے زور پر اکثریت ملی تھی۔ اترپردیش، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش اور گجرات جیسی ریاستوں میں بی جے پی کوغیر معمولی فتح حاصل ہوئی تھی۔

بی جے پی نے یہ انتخاب وزیراعظم نریندر مودی کے نام پر لڑا ہے جن کی مقبولیت دوسرے رہنماؤں کے مقابلے زیادہ رہی ہے۔

ووٹنگ کا آخری دن

انڈیا کے پارلیمانی انتخابات کے آخری مرحلے میں اتوار کو ملک کی آٹھ ریاستوں کے 59 حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے۔ اتوار کی ووٹنگ کے ساتھ دو مہینے سے جاری 543 رکنی پارلیمنٹ کے انتخابات میں ووٹنگ مکمل ہوگئی اور ووٹوں کی گنتی 23 مئی یعنی جمعرات کی صبح شروع ہو گی۔

آخری مرحلے میں اتر پردیش کی 13، پنجاب کی 13، مدھیہ پردیش کی آٹھ، بہار کی آٹھ، بنگال کی نو، جھارکھنڈ کی تین، ہماچل پردیش کی چار اور چندی گڑھ کی ایک نشست کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران تشدد کے کئی واقعات کے بعد پولنگ سکیورٹی فورسز کی سخت نگرانی میں ہوئی۔

یہ انڈیا کی انتخابی تاریخ کا طویل ترین انتخابات ہیں جسے سات مرحلوں میں پورا کیا گیا۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ 11 اپریل کو ہوئی تھی اور نامزدگیاں داخل کرنے کا عمل اس سے 15 دن پہلے شروع ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

23 مئی کے نتیجے سے معلوم ہو سکے گا کہ عوام نے ان کے حق میں فیصلہ کیا ہے یا ان کے خلاف۔ انتخابی مہم کے خاتمے پر مودی نے اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت دوبارہ اقتدار میں آرہی ہے۔

'ایسا ایک طویل عرصے کے بعد ہو رہا ہے کہ کہ مکمل اکثریت والی کوئی حکومت دوبارہ اقتدار میں آ رہی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 543 رکنی پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے 273 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہیں

نتیجے سے پہلے ہی اپوزیشن کی جماعتیں نتیجے کے بعد کی حکمت عملی طے کرنے لگی ہیں۔

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے کہا ہے کہ بنیادی مقصد بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے کے اتحاد کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کسی بھی ایسے رہنما کی حمایت کریں گے جس پر سبھی جماعتیں متفق ہوں۔

کانگریس کے صدر راہل گاندھی سے انتخابی مہم کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں جب یہ پوچھا گیا کہ انھیں کیا امید ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ 'عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ دو تین دن انتظار کیجیے 23 تاریخ کو پتہ چلے گا کہ عوام کیا چاہتی ہے۔'

ووٹوں کی گنتی سے پہلے ملک کی فضا میں اضطراب اور تجسس کا ماحول ہے۔ دو مہینے کے طویل انتخابی عمل کے بعد لوگوں کو اب 23 مئی کا بے چینی سے انتظار ہے جب ان کے ووٹوں سے ملک کی آئندہ حکومت کا فیصلہ ہوگا۔

اسی بارے میں