لکھنؤ کا ہیپی ہوم: بھکاریوں کے لیے زندگی کی نئی شروعات کا موقع

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
انڈیا کی 22 ریاستوں میں بھیک مانگنا غیر قانونی ہے اور بھکاریوں کو پولیس گرفتار کر لیتی ہے

مایا پانچ ماہ کی حاملہ تھیں جب ایک رات ایک گاڑی انھیں روندتے ہوئے گزر گئی۔ تب سے وہ ایک ہاتھ اور ایک پاؤں سے معذور ہیں۔ تین برس قبل حکومت کی جانب سے ایک وہیل چیئر ملی تھی۔ اس کے بعد کسی نے مڑ کر نہیں ہوچھا کہ وہ یا ان کی بچی کس حالت میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہا ' پتا نہیں کیوں میں نے گاڑی والے کو دیکھا اور نہ ہی اس نے مجھے دیکھا۔ میں لیٹی ہوئی تھی۔ اور وہ میرا ایک ہاتھ اور پاؤں روندتا ہوا نکل گیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ میری زبان سے صرف اتنا ہی نکلا کہ ہائے مار ڈالا۔'

مایا اور ان کی بیٹی کے سر پر گزشتہ ایک ماہ سے تو چھت ہے لیکن ان کے لیے ان دس برسوں کو بھلانا ممکن نہیں جو انھوں نے فٹ پاتھوں پر بھیک مانگتے ہوئے گزارے ہیں۔

مایا اب لکھنؤ کے لکشمن میلہ گراؤنڈ میں واقع خیمے نما 'ہیپی ہوم' آشیانے میں رہتی ہیں۔ ان کی بچی اب سکول جاتی ہے۔ مایا پانی بیچ کر اپنا اور بیٹی کا خرچ اٹھا رہی ہیں تاہم وہ خوش ہیں کہ اب کم از کم وہ عزت سے روٹی کما رہی ہیں اور انھیں پیٹ بھرنے کے لیے مندروں اور ریلوے سٹیشنوں پر لوگوں کا پھینکا ہوا کھانا نہیں ڈھونڈنا پڑتا۔

Image caption مایا اب لکھنؤ کے لکشمن میلہ گراؤنڈ میں واقع خیمے نما 'ہیپی ہوم' آشیانے میں رہتی ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم وہ دن یاد کرتے ہیں جب ہم اور ہمارے بچے جھوٹا کھانا اٹھا کر کھاتے تھے۔ ہماری روح زخم خوردہ ہے۔‘

مایا اور ان جیسے ہیپی ہوم میں رہنے والے دیگر نو افراد اپنے تلخ ماضی سے جان چھڑانے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ لوگ جو ماضی میں بھیک مانگا کرتے تھے اب پھلوں، سبزیوں اور چاٹ کے ٹھیلے لگاتے ہیں اور لفافے بناتے ہیں۔

رامو مجبوری اور نشے کی زندگی چھوڑ کر اب چاٹ کا ٹھیلا لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’والد کے انتقال کے بعد ہمیں سڑک پر آنا پڑا، کہیں فٹ پاتھ پر سو جاتے تھے، کہیں ادھر ادھر سو جاتے تھے۔ نشہ کرتے تھے لیکن یہاں آنے کے بعد سب چھوڑ دیا ہے۔‘

یہ سب 27 سالہ شرد پٹیل کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ شرد نے بتایا کہ جب وہ مرزا پور میں اپنے گاؤں سے تعلیم کے لیے سنہ 2004میں لکھنؤ آئے تو سڑکوں، ریلوے سٹیشنوں اور عبادت گاہوں کے باہر بھیک مانگنے والوں کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئے۔

Image caption رامو مجبوری اور نشے کی زندگی چھوڑ کر اب چاٹ کا ٹھیلا لگاتے ہیں

انڈیا کی 22 ریاستوں میں بھیک مانگنا غیر قانونی ہے۔ بھیک مانگتے ہوئے پکڑے جانے والے شخص کو پولیس گرفتار کر لیتی ہے۔ اس کے بعد ان افراد کو عدالت کی جانب سے باز آبادکاری کے لیے ایسے مراکز میں رکھا جاتا ہے جہاں سے یہ زندگی کی نئی شروعات کر سکیں۔

شرد نے اس بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے رائٹ ٹو انفارمیشن کے قانون کے تحت درخواست دائر کی تو پتہ چلا کہ اترپردیش میں ایسے آٹھ مراکز یا 'بھیکشو گرہ' موجود ہیں۔ تاہم شرد کے بقول ’ان آٹھ میں سے ایک سینٹر میں بھی کوئی شخص نہیں رہتا، سبھی خالی پڑے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ان مراکز کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہ انسانوں کے رہنے کے لائق نہیں۔ تاہم یہاں چوکیداری، دیکھ بھال اور دفتر کے کام کے لیے بھرتی کیے جانے والے ملازمین اپنی تنخواہیں لے رہے ہیں۔‘

لکھنؤ کے بھیکشو گرہ مرکز جائیں تو کھنڈر میں تبدیل ہو چکی عمارت کے کمروں میں گھٹنوں تک گھاس اور دروازوں کی جگہ چھتوں سے لٹکے جالے آپ کا راستہ روکتے ہیں۔

Image caption شرد کے مطابق ایسے میں یہ افراد اگر بھیک مانگنا چھوڑنا بھی چاہیں تو ان کے پاس پیٹ بھرنے کا کوئی اور راستہ نہیں رہ جاتا

مرکز کے منتظم بھانو پرتاپ سنگھ کا کہنا ہے کہ ان سمیت ٹیم کے پانچ افراد کا وہاں ڈیوٹی پر موجود رہنا ضروری ہے کیونکہ دفتر میں اہم فائلیں ہیں جن کی انھیں حفاظت کرنی ہے۔ ان کے مطابق سینٹر میں رہنے والا آخری شخص سنہ 2009 میں چلا گیا تھا اور اس کے بعد وہاں کوئی بھیک مانگنے والا شخص باز آبادکاری کے لیے نہیں لایا گیا۔

بھانو کے بقول عدالت اس عمارت کو ناقابل رہائش قرار دے چکی ہے اور ایک نئے مرکز کے لیے آٹھ برس قبل نئی زمین بھی دی جا چکی ہے لیکن اس پر عمارت کھڑی کرنے کے لیے اور اسے رہنے کے لائق بنانے کے لیے رقم کی منظوری کا انتظار ہے۔

یہ انتظار مزید کتنے برس چلے گا اس کا جواب ان کے پاس نہیں ہے۔

شرد بھیک مانگنے والے افراد کی ذاتی طور پر مدد کر رہے ہیں۔ وہ ایسے افراد سے مل کر ان سے بات کر کے یہ پتہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر وہ کیوں بھیک مانگ رہے ہیں اور یہ کہ کیا اگر موقع ملے تو وہ محنت کر کے کمانا چاہیں گے۔

کراؤڈ فنڈنگ کی مدد سے اب انہوں نے مقامی اہلکاروں سے اجازت لے کر لکشمن میلہ گراؤنڈ میں ایک خیمہ لگا لیا ہے۔ یہاں وہ ایسے افراد کو لے کر آتے ہیں جو کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔ وہ ان کی چھوٹے موٹے کام کا آغاز کرنے میں معاشی مدد بھی کرتے ہیں۔

Image caption بھکاریوں کے بحالی مراکز کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہ انسانوں کے رہنے کے لائق نہیں

تاہم ان کا کہنا ہے کہ بھیک مانگنے والے افراد اگر کوئی ہنر سیکھنا چاہیں بھی تو راستہ بھی آسان نہیں۔ ’ہر جگہ ان سے آدھار کارڈ مانگا جاتا ہے۔ کوئی شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے یہ افراد ان مواقع سے بھی محروم ہو جاتے ہیں جو خاص طور پر متوسط طبقے کے لیے فراہم کیے گئے ہیں۔‘

شرد کے مطابق ایسے میں یہ افراد اگر بھیک مانگنا چھوڑنا بھی چاہیں تو ان کے پاس پیٹ بھرنے کا کوئی اور راستہ نہیں رہ جاتا۔

شرد ایک سکول میں پڑھاتے بھی ہیں تاکہ ان کی اپنی زندگی کی گاڑی چلتی رہے۔ ابتدائی دور میں انہیں والدین کی جانب سے بھی سخت مخالفت کا سامنا تھا۔ والدین چاہتے تھے کہ وہ اپنی پی ایچ ڈی مکمل کریں اور کوئی ایسا روزگار اپنائیں جو ان کی زندگی کو بہتر بنا سکے لیکن انھوں نے یہ راہ اپنائی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ راستہ مشکل ضرور ہے لیکن کسی نہ کسی کو تو اس پر چلنا ہی ہوگا۔ ایک انسان اور اس ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے یہ ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم جس کسی کا ہاتھ تھام کر اسے اٹھا سکتے ہیں اس کی طرف ہاتھ بڑھائیں۔‘

Image caption بھیک مانگنے والے افراد اگر کوئی ہنر سیکھنا چاہیں بھی تو راستہ بھی آسان نہیں

شرد چاہتے ہیں کہ انڈیا میں آنے والی حکومت اپنے ہر شہری کے حق کا خیال رکھے۔ انھوں نے کہا کہ آزادی کے 70 برس بعد بھی اگر انڈیا میں اتنی بڑی آبادی بھیک مانگنے پر مجبور ہے تو یہ یہاں کے ہر شہری کے لیے بےحد شرم ناک بات ہے۔

انھیں یقین ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے ان افراد کو مجرم قرار دیے جانے کے بجائے کوئی ہنر سکھایا جائے اور ان کی روزگار کمانے میں مدد کی جائے تو انڈیا ایک ایسے مستقبل کا خواب دیکھ سکتا ہے جہاں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں