انڈیا الیکشن: پانی کا سنگین مسئلہ جسے سیاست دان نظر انداز کر رہے ہیں

انڈیا میں پانی کی قلت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دنیا کی کُل آبادی میں سے 18 فیصد سے زائد لوگ انڈیا میں مقیم ہیں، لیکن یہاں تازہ پانی کے صرف چار فیصد ذخائر موجود ہیں

انڈیا کے انتخابات میں ووٹنگ کا مرحلہ اب اختتام پذیر ہو چکا ہے اور نتائج آنے میں بھی ایک دن بچا ہے البتہ اس بار ملک میں پانی کے سنگین مسئلے اور آبی وسائل کو درپیش بحران کو ان انتخابات میں اہم مسئلے کے طور پر ضرورت سے کم اہمیت ملی ہے۔

حکمراں جماعت بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ وہ سنہ 2024 تک ہر گھر میں پائپ لائنز کے ذریع پانی کی ترسیل کو یقینی بنائے گی، جبکہ حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والی کانگریس پارٹی کا وعدہ ہے کہ وہ انڈیا کے کونے کونے میں پینے کا صاف پانی فراہم کریں گے۔

لیکن اس کے باوجود اِس بحران کے بارے میں کئی مرتبہ خبردار کیا جاتا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق انڈیا کی 42 فیصد زمین خشک سالی کا شکار ہے۔

اِس سب کے پیشِ نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا انڈیا میں ہر شخص کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کے وعدے پورے کیے جا سکتے ہیں یا نہیں؟

یہ بھی پڑھیے

’انڈیا اپنے حصے کا پانی پاکستان نہیں جانے دے گا‘

’صاف پانی آتا تو بچوں کو سکول بھیجتی‘

’زہریلے پانی سے کروڑوں پاکستانیوں کو خطرہ‘

بحران سے دوچار

دنیا کی کُل آبادی میں سے 18 فیصد سے زائد لوگ انڈیا میں مقیم ہیں، لیکن یہاں میٹھے پانی کے صرف چار فیصد ذخائر موجود ہیں۔

حال ہی میں شائع ہونے والی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق انڈیا اپنی 'تاریخ کے بدترین آبی بحران' سے گزر رہا ہے۔

رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ سنہ 2020 تک ممکنہ طور پر ملک کے 21 شہروں میں زیرِزمین آبی وسائل ختم ہوجائیں گے۔ ان میں دہلی، بنگلور، حیدرآباد، چنئی (مدراس) اور دیگر اہم شہر شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنہ 2030 تک انڈیا کے 40 فیصد شہری تازہ پانی سے محروم ہوجائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق انڈیا اپنی 'تاریخ کے بدترین آبی بحران' سے گزر رہا ہے

پھیلتے شہر

ڈاکٹر وِینا سری نواسن کہتی ہیں کہ پانی کا مسئلہ شہری اور دیہاتی آبادی میں مختلف طریقوں سے اثرانداز ہوتا ہے۔

آشوکا ٹرسٹ فار ریسرچ اینڈ انوائرمنٹ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سری نواسن کہتی ہیں کہ 'شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں اور انھیں پانی کی فراہمی کے لیے کوئی بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔'

سنہ 2030 تک انڈیا کی شہری آبادی 60 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

ڈاکٹر سری نواسن کے مطابق طویل المدت مسئلہ یہ ہے کہ دیہات میں زیرزمین آبی وسائل ضرورت سے زیادہ استعمال ہو رہے ہیں۔

انڈیا میں لگ بھگ 80 فیصد پانی زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں زیادہ تر حصہ زیرزمین پانی کا ہے جو مٹی میں جذب ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خشک علاقوں میں زمین کی گرمائش کی بدولت قحط آنا بہت عام سی بات ہو جائے گی

واٹر ایڈ انڈیا کے چیف ایگزیکٹو وی کے مادھون کے مطابق 'مسئلہ یہ ہے کہ پانی ذخیرہ ہونے سے زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔'

ان کے مطابق گندم، چاول، گنّا اور کپاس سمیت ملک کی بیشتر اہم فصلیں زیادہ پانی میں اُگتی ہیں اور ان کے لیے استعمال کیا جانے والا پانی زیادہ احتیاط سے استعمال نہیں کیا جاتا۔

واٹر فٹ پرنٹ نیٹ ورک کے ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں ایک کلو کپاس اُگانے کے لیے 22500 لیٹر (5000 گیلن) پانی درکار ہوتا ہے، جبکہ یہی فصل امریکہ میں 8100 لیٹر پانی میں اُگا لی جاتی ہے۔

ساتھ ساتھ انڈیا میں سنہ 2017-18 کے دوران کیے گئے اکناک سروے میں یہ کہا گیا ہے کہ پچھلے 30 سالوں کے دوران زیرِ زمین پانی کی سطح تقریباً 17 فیصد تک مزید نیچے جا چکی ہے۔

اِس سنگین مسئلے کو سمجھنے کا ایک اور اہم پہلو زیرِزمین پانی کا سالانہ استعمال اور اِس کی کُل موجودگی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2018 میں جب کنووں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ انکی سطح پچھلے دس سالوں کے دوران 66 فیصد تک گِر چکی تھی

اگرچہ سنہ 2013 میں انڈیا مجموعی طور پر اس حوالے سے محفوظ رہا تھا مگر اُس وقت بھی ملک کے کچھ حصوں میں استعمال کیا جانے والا زیرزمین پانی اس پانی سے کہیں زیادہ تھا جو ان ذخائر میں آ رہا تھا۔

سنہ 2018 میں جب تمام علاقوں کے کنوؤں کا جائزہ لیا گیا تو یہ معلوم ہوا کہ ان کی سطح گزشتہ دس سالوں کے دوران مون سون سے پہلے کی سطح اور اوسط سطح کے موازنے میں 66 فیصد تک گِر چکی تھی۔

گذشتہ فروری میں پارلیمنٹ میں ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق 2011 میں فی کس 1545 مکعب میٹر (چار لاکھ گیلن) پانی دستیاب تھا اور سنہ 2050 تک یہ مقدار 1140 مکعب میٹر رہ جائے گی۔

انڈیا میں پانی کے بحران میں ماحولیاتی تبدیلی کا بھی ایک اہم کردار ہے۔

سُندررم کلائمیٹ انسٹیٹیوٹ کے مریدولا رمیش نے کہا ہے کہ بارشوں میں کمی تاہم اِن کی شدت میں اضافے کی وجہ سے پانی زمین میں جذب ہونے کی بجائے زمینی سطح پر ہی سوکھ جاتا ہے۔

اور یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ خشک علاقوں میں زمین کی گرمائش کی بدولت خشک سالی بہت عام سی بات ہو جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption واٹر ایڈ انڈیا کے چیف ایگزیکٹو وی کے مادھون کے مطابق 'مسئلہ یہ ہے کہ پانی ذخیرہ ہونے سے زیادہ استعمال ہورہا ہے‘

فنڈز میں کٹوتی

انڈیا میں پانی کا استعمال ایک ریاستی مسئلہ ہے لیکن اِس حوالے سے پچھلے کچھ برسوں میں ایک وفاقی سکیم نافذ رہی ہے جس کے تحت صوبوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ پینے کا صاف پانی دیہی علاقوں میں پہنچایا جائے۔

مگر پچھلے پانچ سالوں کے دوران فنڈز رُکے رہے ہیں کیونکہ موجودہ حکومت کی ترجیحات اپنی دوسری سکیمز، جیسے صحت و صفائی، رہی ہیں۔

رواں سال مئی میں کیے جانے والے جائزے کے مطابق صرف 18 فیصد دیہی گھروں میں پائپوں کے ذریع پانی کی ترسیل کا نظام موجود ہے جبکہ یہ پانچ سال پہلے کے اعداد و شمار سے صرف چھ فیصد زیادہ ہے۔

جون سے انڈیا کی حکومت صنعتوں سے پانی ذخیرہ کرنے کی فیس لینا شروع کر دے گی لیکن کچھ لوگ پیسے لینے کے اِس نظام کو ناکافی سمجھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پچھلے پانچ سالوں کے دوران فنڈز رُکے رہے ہیں کیونکہ موجودہ حکومت کی ترجیحات اپنی دوسری سکیمز رہی ہیں

ڈاکٹر سری نواسن کہتی ہیں کہ اس مسئلے کا حل یہ نہیں کہ کسانوں کو درکار پانی پر توجہ مرکوز کی جائے بلکہ یہ ہے کہ ان کے روزی کمانے کی ضرورت کو پورا کیا جائِے۔

انھوں نے کہا 'ہمیں اس پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے کہ کیا، کہاں اور کیسے اُگایا جارہا ہے۔'

ضرورت اِس عمل کی بھی ہے کہ پانی کو صاف کر کے دوبار استعمال کیا جائے اور بارشوں سے ملنے والے پانی کو زیرِزمین بھیج کر آبی ذخائر کو دوبارہ بھرا جائے۔

اسی بارے میں