چین: عسکری مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال، کیا مستقبل کی جنگ میں چین کا پلڑا بھاری ہوگا؟

بلو فِش اے ٹو ڈرون تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بلو فِش اے ٹو ڈرون کی نمائش نومبر میں ایئر شو چائنا کے موقع پر کی گئی تھی

ایشیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت چین نے قومی سلامتی کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے اپنی نظریں فوجی ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفشل انٹیلجنس (اے آئی) کے استعمال پر مرکوز کر رکھی ہیں۔

چین میں آرٹیفشل انٹیلجنس کے فروغ کے لیے مخصوص اکیڈمی کی ایک دستاویز کے مطابق ’مصنوعی ذہانت سے لیس ہتھیار نہ صرف مستقبل میں ہونے والی جنگوں کو دور بیٹھے کنٹرول کر سکیں گے بلکہ اس سے میدان جنگ میں لڑائی کی جزیات پر بھی بہتر عبور حاصل کیا جا سکے گا۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے میدان جنگ کی منصوبہ بندی کو چھوٹے پیمانے پر دیکھنا ممکن ہو جائے گا۔‘

اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمینویکیشن کی اس دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین مصنوعی ذہانت کی جدید ترین ٹیکنالوجی کو کس قدر اہم سمجھتا ہے۔

فوجی اور غیر فوجی ٹیکنالوجی کو یکجا کر کے ایسی چیزیں بنانا جو عسکری اور دیگر مقاصد کے لیے یکساں طور پر مفید ہوں، اس حوالے سے چین کے طاقتور ادارے سٹیٹ کونسل نے اپنی حکمت عملی کا اعلان سنہ 2017 میں کر دیا تھا۔

سٹیٹ کونسل کی اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فوجی اور غیر فوجی ٹیکنالوجی کو یکجا کرنے کے اس منصوبے میں مصنوعی ذہانت کو کلیدی حیثیت حاصل ہو گی۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

’روس نہیں اب چین امریکہ کا عسکری حریف‘

’چین کی موجودہ طاقت کا امریکہ سے کوئی موازنہ نہیں‘

تیز ترین سپر کمپیوٹر: امریکہ پہلے، چین تیسرے نمبر پر

اس منصوبے کا دوسرا بڑا مقصد چین کی بڑی بڑی نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں سمیت تمام متعلقہ اداروں کو دفاعی آلات کی صنعت کا حصہ بنانا ہے جس میں مصنوعی ذہانت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے گا۔

سنہ 2018 کے اعداد وشمار کے مطابق جو چینی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سب سے زیادہ جملہ حقوق حاصل کرنے میں کامیاب رہیں وہ ’بیڈو‘ اور ’ٹین سینٹ‘ تھیں جنھوں نے امریکی کپمنیوں کے ساتھ مل کر باالترتیب 2368 اور 1168 جملہ حقوق خریدے۔

تاہم اب چین اس سے آگے بڑھ چکا ہے اور خود اپنے ملک میں نئی کمپنوں میں سرمایہ کر کے انھیں جدید ٹیکنالوجی پر تحقیق کے سرکاری ڈھانچے میں شامل کر رہا ہے۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی حالیہ خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں فوج اور نجی کمپنیوں کے درمیان اشتراک کو کس قدر اہمیت دی جا رہی ہے۔

اس بات کا اندازہ اس بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر تحقیق کو یکجا کرنے کے لیے بنائی گئی تنظیم ’چائنا ایسوسی ایشن فار آرٹیفشل انٹیلیجنس‘ کے سربراہ، لی ڈائی، پیپلز لبریشن آرمی میں میجر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔

چین کے قومی سلامتی کے قوانین کے مطابق یہ کمپنیوں کا فرض ہے کہ وہ ’انٹیلیجنس کے سرکاری کام میں حکومت کی مدد، اعانت اور تعاون کریں۔‘

چین کی ان کوششوں کے نتائج بالکل واضح ہیں جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ مارچ 2019 میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق کے لیے مختلف تعلیمی اداروں نے جو جملہ حقوق حاصل کیے ان میں چین نے امریکہ کو مات دے دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2019 میں بیجنگ میں ایک نمائش میں رکھا جانے والا ایک ڈرون جو خاص طور پر سراغرسانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا

اور دنیا کو اپنی کامیابیاں دکھانے کے لیے چین گزشتہ چار سے باقاعدگی سے سوِل ملٹری اشتراک کے عنوان کے تحت بہت بڑی نمائش کا انعقاد کر رہا ہے۔

ان نمائشوں میں مختلف ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈرونز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، ہوابازی کی تربیت کی مشینیں اور جنگی ساز وسامان پیش کرتی ہیں۔

ڈرونز

کچھ دیگر چیزوں کے علاوہ ایک شعبہ جس میں مصنوعی ذہانت کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں وہ ڈرون ٹیکنالوجی کا شعبہ ہے۔

یہ ٹیکنالوجی پائلٹ کے بغیر چلنے والی ہوائی گاڑیوں (یو اے وی) میں یہ صلاحیت پیدا کر سکتی ہے کہ وہ میدان جنگ میں خود بخود اپنے ہدف کا انتخاب کریں اور اسے نشانہ بنائیں۔

مصنوعی ذہانت سے لیس ( اے آئی پاورڈ) ڈرونز بنانے میں جو دو چینی کمپنیاں سب سے آگے ہیں وہ زیاں یو اے وی اور چِنگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری ہیں۔

جنگی طیارے بنانے والی چِنگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری وہی ہے جو جے۔10، جے۔11، جے ایف۔17 اور جے ۔20 جنگی طیارے بناتی ہے۔

زیان یو اے وی نے ایک ڈرون بلوفِش اے 2 کے نام سے بنایا ہے۔ یہ ڈرون خود بخود پیچیدہ جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتا ہے جن میں اپنے ہدف کو تلاش کرنا، دشمن کی حرکات پر نطر رکھنا اور منتخب ہدف کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ انسانوں کے بغیر چلنے والے اس قسم کے سسٹم چین کی اُن صلاحتیوں میں اضافہ کریں گے جن کا مقصد ایسا جدید نظام بنانا ہے جو دشمن کی چینی علاقے تک رسائی کو روکنے میں مدد کر سکیں۔

فوجی اصطلاح میں اس قسم کے نظاموں کو رسائی روکنے والے (اینٹی ایکسس) یا دشمن کو اپنے علاقے سے دور رکھنے (اینٹی ایریا ڈینائل) کی صلاحیت کہا جاتا ہے۔

اور چینی کمپنی ایہانگ نے 184 اے اے وی نامی ایک گاڑی نما ڈرون بنا لیا ہے جو ایک سمت میں سیدھا پانچ سو میٹر تک بغیر انسانی مدد کے اڑ سکتا ہے اور اس پر مسافر بھی سوار ہو سکتے ہیں اور سامان بھی چڑھایا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بغیر ڈرائیور کے چلنے والی ایک فضائی ٹیکسی (ایہانگ 216)

یعنی اسے ’ڈرون ٹیکسی‘ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس ڈرون کے بطور ٹیسکی غیر فوجی استعمال کو اگر چین کی ان کوششوں کے تناظر میں دیکھا جائے جن کے تحت غیر فوجی ٹیکنالوجی اور عسکری ٹیکنالوجی میں ضم کیا جا رہا ہے، تو یہ ڈرون کے دوہرے استعمال کی ایک مثال ہے۔

فوجی مقاصد کے لیے ڈرونز کے استعمال کے حوالے سے جو تحقیق ہو رہی ہے اس میں اب انسانوں کے بغیر چلنے والی ہوائی گاڑیوں (یو اے وی) میں میدان جنگ میں نگرانی اور جاسوسی کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے ان میں ایسے سینسر لگائے جا رہے ہیں جو ڈیٹا واپس مرکز یا کمانڈ سینٹر کو بھیج سکیں گے۔

اس کے علاوہ ایسے نظام جن میں خود بخود سیکھنے (مشین لرننگ) کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، ان کی مدد سے جنگی صورت حال میں فیصلہ سازی کے لیے درکار وقت میں بھی کمی ہو جائے گی جس سے عسکری مقاصد کے لیے سراغرسانی بہت مؤثر ہو جائے گی۔

فائیو جی ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کی بڑھتی ہوئی مہارت سے یہ ڈرونز سراغرسانی کے لیے جمع کیے گئے اعداد و شمار اور ڈیٹا اتنی تیزی سے کمانڈ سینٹر کو بھیج سکیں گے جس کی مثال نہیں ملتی۔

طلب و رسد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2018 کے ایئر شو چائنا کے موقع پر ملک میں بنائے جانے والے مختلف ڈرونز کی نمائش کی گئی تھی

گذشتہ عرصے میں چین، ڈرونز کی وہ اقسام جنھیں انسانوں کے بغیر چلنے والی ہوائی گاڑیاں (یو اے وی) کہا جاتا ہے، ان کی فروخت میں دنیا میں خاصا نام کما چکا ہے اور متحدہ عرب امارات، پاکستان، لیبیا اور سعودی عرب جیسے ممالک چین کے ڈرون پروگرام سے مستفید ہونے کے لیے تیار ہیں۔

زیان یو اے وی نامی کپمنی اپنے بلوفُش ڈرون متحدہ عرب امارات کو فرخت کر چکی ہے جبکہ پاکستان اور سعودی عرب اس سلسلے میں چین سے بات چیت کر رہے ہیں۔

ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے روزنامہ ساؤتھ چائنا مارنننگ پوسٹ کے مطابق چین سعودی عرب میں ڈرون بنانے والی ایک فیکٹری بھی قائم کر سکتا ہے۔

ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی آتی رہی ہیں کہ گزشتہ عرصے میں لیبیا اور یمن میں جاری جنگوں میں چین کے بنائے ہوئے ڈرون استعمال بھی کیے جا چکے ہیں۔

یاد رہے کہ چین نے کسی ایسے بین الاقوامی معاہدے ہر دستخط نہیں کیے ہیں جس سے ڈرونز یا چھوٹے میزائلوں کی برآمد پر کوئی پابندی لگ سکتی ہے، مثلاً چین ان 35 ممالک میں شامل نہیں ہے جو میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول کے معاہدے کے رکن ہیں۔

جاپانی دفاعی صنعت کے ایک جریدے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2018 میں چین نے یو اے وی کے شعبے کے لیے ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر مختص کیے تھے لیکن 2019 میں یہ رقم بڑھا کر دو اعشاریہ چار ارب ڈالر کر دی گئی ہے۔

مضمون کے مطابق اگر ان اعداد و شمار کی بنیاد پر آئندہ سرمایہ کاری کا اندازہ لگایا جائے تو سنہ 2025 میں چین یو اے وی کے شعبے میں ترقی کے لیے دو اعشاریہ چھ ارب ڈالر خرچ کر رہا ہوگا۔

نگرانی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مصنوعی ذہانت سے لیس سیکورٹی کیمروں کو گزشتہ سال اکتوبر میں نمائش میں رکھا گیا تھا

ڈرونز کی طرح چین چہرے شناخت کر کے نگرانی کرنے والی ٹیکنالوجی کی فروخت میں بھی دنیا میں سب سے آگے جا چکا ہے اور کئی ممالک چین سے ایسے آلات خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔

چین اپنے دشمنوں پر نظر رکھنے کے لیے نگرانی والی جو ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے اسے بہتر بنانے میں اس ٹیکنالوجی سے بھی مدد مل رہی ہے جو وہ بڑے پیمانے پر اپنے انتہائی مغربی صوبے سنکیانگ میں ایغور لوگوں کی نگرانی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ چین کی منسٹری آف پبلک سکیورٹی یا وزارت عوامی تحفظ چہروں سے لوگوں کی شناخت کے لیے ایک بہت بڑا ڈیٹا بیس بھی بنا رہا ہے جس کا بڑا مقصد سنکیانگ کی مسلمان آبادی پر نظر رکھنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کچھ چینی شہروں میں لگی ہوئے ٹریفک کی بتیوں میں چہرے شناخت کرنے کی صلاحت بھی موجود ہے

اس مقصد کے لیے سنکیانگ کی پولیس کو مصنوعی ذہانت سے لیس جو نظام دیا گیا ہے وہ ایک نئی کپمنی ’سینس ٹائم‘ کا بنایا ہوا ہے اور نگرانی کے اس نظام پر حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے چین کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

سنکیانگ کے کیمپوں میں دس لاکھ سے زیادہ ایغور مسلمانوں کو مبینہ طور پر قید کر کے رکھنے کے حوالے سے شدید تنقید کے بعد مذکورہ کمپنی نے اپنے حصص فروخت بھی کیے ہیں۔

جنگی منصوبہ بندی کرنے والا سافٹ وئیر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اپریل 2018 میں ہونے والی ’فرسٹ ڈجیٹل چائنا سمٹ‘ کے موقع پر فائیو جی نیٹورک میں استعمال ہونے والی چِپ کی نمائش کی گئی تھی

سنہ 2007 سے چین ایک ایسا سافٹ ویئر بنانے میں بھی سرمایہ کاری کرتا رہا ہے جو جنگ کی صورت میں فیصلہ سازی کو تیز اور بہتر کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اگرچہ یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ چین اس میدان میں کتنی ترقی کر چکا ہے، تاہم شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ چین اس میدان میں امریکہ اور نیٹو کا مقابلہ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

چین کی خواہش ہوگی کہ وہ اس شعبے میں اگر امریکہ اور نیٹو کو چیلنج کرنے کے قابل نہ ہو سکے تو کم از کم ان کا مقابلہ کرنے کے قابل ضرور ہو جائے۔

کہا جاتا ہے کہ اس شعبے میں چین نے دیگر چیزوں کے علاوہ، افغانستان میں امریکہ کے تجربات سے بھی سیکھا ہے۔

ایک چینی روزنامے کے مطابق اس سلسلے میں چینی حکومت نے بلجیئم کی اُس کمپنی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کا بنایا ہوا سافٹ ویئر نیٹو کی افواج استعمال کرتی ہیں۔

چینی خبر رساں ادارے ژین ہوا نے سنہ 2015 میں چین کی ڈیفنس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی یونیورسٹی کے چیف انجنیئر لی زونگ کے بارے میں ایک مضمون شائع کیا تھا جو ملک میں انفارمیشن سسٹم کی مرکزی لیبارٹی قائم کرنے کے ذمہ دار تھے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق لی زونگ اس بات کے قائل ہو گئے تھے کہ چینی فوج کو منصوبہ بندی میں درپیش مسائل اور ان مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے جس ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے اس میں مصنوعی ذہانت اور آپریشنل ریسرچ کے شعبوں کو منسلک کرنا ضروری ہے۔

میزائل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈی ایف ۔ 21 ڈی میزائل

مصنوعی ذہانت سے لیس فوجی آلات کی صنعت کا ایک اور شعبہ جس میں میں سب سے زیادہ کام ہو رہا ہے وہ ایسے گائیڈِڈ میزائل بنانا ہے جن میں انسانی مدد کے بغیر اہدف تلاش کرنے اور انھیں نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہو۔

جاپانی دفاعی صنعت کے جریدے میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق اس سلسلے میں چین نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو اپنے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل 21 ڈی کے ساتھ کامیابی سے ضم کر لیا ہے۔

سرکاری روزنامے پیپلز ڈیلی کا کہنا ہے کہ اس امتزاج سے بنائے جانے والا ڈی ایف ۔ 21 ڈی قسم کا میزائل ’ایک پورے طیارہ بردار بحری جہاز کو ایک ہی وار میں پانی میں غرق کر سکتا ہے اور اس میزائل کو راستے میں گرانا بھی مشکل ہے۔‘

پیپلز ڈیلی کا مزید کہنا تھا کہ ڈی ایف ۔ 21 ڈی کا ایک پرانا ماڈل ڈی ایف ۔ 26 ’ نہ صرف زمین پر ساکت بڑے اہداف بلکہ چار ہزار کلومیٹر دور پانی میں تیرتے ہوئے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے‘ تاہم اخبار نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ماڈل مصنوعی ذہانت سے لیس ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں