حوثی باغیوں کا سعودی عرب میں ڈرون حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یمن میں حوثی باغیوں نے کہا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کے جنوبی صوبے نجران میں ایئرپورٹ پر اسلحے کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔

حوثیوں کے المصیرہ ٹی وی کی ویب سائٹ پر منگل کی صبح شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اِس حملے میں ’کے ٹو قصیف ایئرکرافٹ' کا استعمال کیا گیا ہے۔ حوثیوں کے مطابق اِس حملے کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق اِس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے یمن میں سعودی اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سے لیس ایک ڈرون کے ذریعے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو عام لوگوں کے زیرِ استعمال تھیں۔

سعودی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ 'ایرانی حمایت یافتہ حوثی دہشتگردوں کی کارروائیاں جاری ہیں جو خطے اور دنیا کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ ALMASIRAH

پیر کو سعودی ٹی وی العربیہ کی ویب سائٹ نے عینی شاہدین کے حوالے سے خبر دی تھی کہ 'مکہ کو میزائل سے نشانہ بنانے کی حوثی باغیوں کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔'

جبکہ حوثی باغیوں نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی تھی کہ انھوں نے مسلمانوں کے مقدس ترین شہر مکہ کو میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے العربیہ نے خبر شائع کی تھی کہ 'سعودی عرب کی ایئر ڈیفنس فورسز نے طائف اور جدہ کے اوپر حوثی باغیوں کے دو میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا ہے جن میں سے ایک کے ٹکڑے وادی جلیل میں گرے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشمکش کے باعث خطہ اِس وقت کشیدگی کا شکار ہے۔ متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود میں چار بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات اور حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں آئل پمپنگ سٹیشنز پر حملوں کے بعد سعودی عرب گلف کوآپریشن کونسل اور عرب لیگ کی ہنگامی سربراہی کانفرنس بلانے کا کہہ چکا ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے بھی مزید جنگی جہاز اور اسلحہ خطے میں بھیج دیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے خطرے کے ردعمل میں یہ اقدام کیا ہے۔

اسی بارے میں