انڈین الیکشن 2019: ’مودی اور ان کے ایک نئے انڈیا کے تصور کی فتح ہے‘

مودی تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مودی سنہ 1971 کے بعد پہلے انڈین رہنما ہیں جنہوں نے مسلسل دوسری مرتبہ کسی دوسری جماعت سے اتحاد کے بغیر اپنی جماعت کو فتح دلوائی ہے (فائل فوٹو)

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات واضح سبقت سے جیت لیے ہیں اور اب تک کے نتائج کو دیکھا جائے تو بی جے پی انڈین پارلیمان کی 543 میں سے 300 نشستیں جیت رہی ہے۔

* تازہ ترین نتائج یہاں دیکھیں

وزیر اعظم نریندر مودی نے دوسری مرتبہ اپنی جماعت کو ایک واضح فتح سے ہمکنار کر کے پانچ سال کی دوسری مدت کے لیے ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔

سنہ 2014 کے انتخابات میں مودی کی کامیابی میں کانگریس پارٹی پر بدعنوانی کے الزامات کا بھی ہاتھ تھا۔

لیکن اس مرتبہ کی کامیابی عوام کی جانب سے مودی کی ذات پر اعتماد کا اظہار ہے۔ وہ سنہ 1971 کے بعد پہلے انڈین رہنما بن چکے ہیں جنہوں نے مسلسل دوسری مرتبہ کسی دوسری جماعت سے اتحاد کے بغیر اپنی جماعت کو فتح دلوائی ہے۔

سیاسی امور کے ماہر مہیش رنراجن کے بقول ’یہ فتح مودی اور ان کے ایک نئے انڈیا کے تصور کی فتح ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ہمارے اتحاد پر اعتماد کا شکریہ: نریندر مودی

’مرد آہن‘ مودی نے ایک مرتبہ پھر کر دکھایا

انڈین الیکشن کے نتائج کے بعد کہیں جشن تو کہیں خاموشی

ایک انتہائی منقسم اور تلخ انتخابی مہم کے دوران مسٹر مودی نے قوم پرستی اور ترقی کے وعدوں سے لبریز تقاریر سے لوگوں کو باآسانی بی جی پی کی حمایت پر قائل کر لیا تھا۔

اکثر تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ مودی کو ووٹروں کو قائل کرنے میں ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جو کسی بھی برسر اقتدار جماعت کو دوبارہ ووٹ لیتے ہوئے ہوتا ہے لیکن مودی نے ان اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

مودی کے دور اقتدار میں بیروزگاری میں ریکارڈ اضافہ ہوا، زرعی پیداوار میں شدید کمی ہوئی اور صنعتی پیداوار میں بھی سست روی دیکھنے میں آئی۔ کرنسی پر پابندی کی وجہ سے اکثر لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کاروباری دنیا کے لوگ اضافی سیلز ٹیکس کے پیچیدہ نظام کی شکایت بھی کرتے رہے۔

اس سب کے باوجود انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہو گیا ہے کہ عوام ان چیزوں کا ذمہ دار مسٹر مودی کو نہیں سمجھتے۔

لگتا ہے کہ مسلسل دوسری مرتبہ انتخابات میں مودی کی کامیابی کی وجہ ان کی یہ حمکت عملی ہے جس میں انہوں نے دھواں دھار قوم پرست تقاریر، ڈھکے چھپے الفاظ میں مذہبی تفرقات کے پیغامات اور عوامی بہبود کے پروگراموں کے نہ ختم ہونے والے پرچار سے خوب فائدہ اٹھایا۔

اس کے علاوہ مودی قومی سلامتی کے معاملات کو جس طرح ووٹروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے استعمال کیا، اس کی مثال انڈیا کی حالیہ تاریخ میں نظر نہیں آتی۔

کوکلتہ کے ایک ووٹر کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسٹر مودی کی یہ حمکت عملی کتنی کامیاب رہی ہے۔

’اگر ترقی تھوڑی ہوتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن (اصل بات یہ ہے) مسٹر مودی قوم کو محفوظ بنا رہے ہیں اور انڈیا کو سربلند کر رہے ہیں۔‘

مسٹر مودی ایک مضبوط شخص کے طور پر ابھرے ہیں اور لگتا ہے کہ لوگوں کو مسٹر مودی کی یہ بات پسند ہے۔

دوسری جانب حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس اور ان کی حلیف جماعتوں کی کارکردگی اتنی خراب رہی ہے کہ انہیں خلاف توقع بہت کم نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا ہے۔

نتائج کیا بتاتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کانگریس کے سربراہ راہل گاندھی اپنی جماعت کے مضبوط ترین گڑھ امیٹھی میں بھی مشکلات سے دوچار ہیں

یہ تو واضح ہے کہ نہ صرف جیت بی جے پی کی ہے بلکہ ان کی جیت کا فرق پہلے سے بھی زیادہ ہے۔

لیکن یہ نتائج ہمیں کیا بتاتے ہیں؟ پہلی بات تو یہ کہ نریندر مودی کی کرشماتی شخصیت کا جادو ابھی بھی ان کے چاہنے والوں کو مسحور کر رہا ہے۔

دوسری بات یہ کہ بی جے پی نے بڑی تعداد میں وسائل ہونے کا فائدہ اٹھایا ہے اور ان کے جماعتی نظام نے ترسیل کے تمام ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے جیت حاصل کی اور اب انھیں ہرانا مشکل نظر آتا ہے۔

ہم نے ان نتائج میں یہ بھی دیکھا کہ حزب اختلاف کو حکمراں جماعت سے متضاد بیانیہ قائم کرنے میں مکمل ناکامی ہوئی ہے اور بی جے پی کی انتخابی مہم جو کہ قوم پرستی، ترقیاتی منصوبے اور مذہبی تفریق جیسے وعدوں پر مشتمل تھی، اسے پذیرائی ملی ہے۔

کانگریس کو اشد ضرورت ہے کہ وہ خود کو تبدیل کرے تاکہ مستقبل میں بی جے پی کا مقابلہ کر سکے۔ انھیں بہت زیادہ محنت کرنے والی جماعت بننا ہوگا اور نچلی سطح پر کارکنان اور ملک بھر میں رہنما تیار کرنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ووٹنگ کی الیکٹرونک مشینیں دھاندلی سے کتنی محفوظ ہیں؟

گاندھی کے قاتل کو محبِ وطن قرار دینے پر تنازع

کیا اپوزیشن مودی کو شکست دے پائے گی؟

انڈین پارلیمان میں مسلمانوں کی کم ہوتی ہوئی نمائندگی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’مودی نے بی جےپی کو ملک گیر جماعت بنا دیا‘

روایتی طور پر بی جے پی کو انڈیا کے ہندی بولنے والے شمالی علاقوں میں زیادہ حمایت حاصل ہوتی ہے۔ سنہ 2014 میں یہاں کی 282 نشستوں میں سے ان کی جماعت نے 193 نشستیں حاصل کی تھیں۔

سوائے مودی کے آبائی حلقے گجرات کے جہاں بی جے پی کی کامیابی کا تسلسل ہے اور مہاراشٹر جہاں بی جے پی کا مقامی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد ہے۔

مودی کی قیادت میں بی جے پی نے جغرافیائی پھیلاؤ حاصل کیا۔

انھوں نے اہم شمال مشرقی ریاستوں آسام اور تریپورہ میں حکومت بنائی۔ یہاں زیادہ تر آسامی اور بنگالی زبان بولی جاتی ہے۔

اس الیکشن میں بی جے پی اوریسہ اور مغربی بنگال میں بھی زیادہ نشستیں لی ہیں جہاں ہندی نہیں بولی جاتی۔

جنوبی انڈیا میں پارٹی کی معتدل موجودگی کی وجہ سے بی جے پی اس طرح سے تو ملک گیر جماعت نہیں بن سکی جس طرح ماضی میں کانگرس تھی تاہم وہ یقیناً اس جانب بڑھ رہی ہے۔

’کانگریس ایک تھکی ہوئی جماعت‘

انڈین نیشنل کانگریس کے صدر راہل گاندھی کی جانب سے ایک ترقی پسند منشور اور اچھی انتخابی مہم چلانے کے باوجود انتخابی نتائج کے ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس کو مسلسل دوسرے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھوں شکست ہو گی۔

نچلی سطح پر کارکنان کی کمی، گاندھی خاندان پر ضرورت سے زیادہ انحصار، ملک کے مختلف علاقوں میں مقامی رہنماؤں کی کمی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرنے میں ناکامی اس ہزیمت کے عوامل میں شامل ہیں۔

کانگریس ایک زمانے میں پورے انڈیا کی نمائندگی کرتی تھی جس میں ہر نسل، رنگ، ذات پات کے رہنما شامل تھے اور ان کا منشور معتدل بنیادوں پر تھا۔

لیکن اب کانگریس ایک تھکی ہوئی جماعت کی مانند دکھتی ہے جس کی رہنمائی ایک قدیم خاندان کے ہاتھ میں ہے جو اپنا اثرو رسوخ کھو رہا ہے۔

تو کیا انڈیا کی 'گرینڈ اولڈ پارٹی' کا وقت اب ختم ہو گیا ہے، جیسا کہ ایک مبصر نے کہا تھا؟ ایسا کہنا تو شاید قبل از وقت ہوگا اور سیاسی جماعتیں خود کو نئے ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کرتی ہیں۔

لیکن کانگریس کی گرتی ہوئی مقبولیت ایک ایسا خلا پیدا کر دے گی جسے بی جے پی خود پر کرنا چاہے گی۔

لیکن یہ بات واضح ہے کہ کانگریس اب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس کا سامنا ایک انتہائی طاقتور، منظم اور بااثر حریف سے ہے جس کی رہنمائی اندرا گاندھی کے بعد انڈیا کے سب سے کرشماتی شخصیت کے پاس ہے۔

Image caption نتائج کے دن راہل گاندھی کے دفتر پر تالا لگا ہوا ہے

اسی بارے میں