راہل گاندھی نے شکست تسلیم کر لی: ’جنتا مالک ہے، مالک نے آرڈر دیا ہے، مودی جی کو مبارک‘

راہل گاندھی تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption راہل گاندھی امیٹھی سے اپنی سیٹ ہار گئی ہیں

کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے بی جے پی کو اور وزیر اعظم نریندر مودی کو جیت کی مبارکباد دی ہے لیکن اپنے کارکنوں سے ہمت نہ ہارنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس محبت سے اپنے نظریے کی جیت حاصل کرے گی۔

* تازہ ترین نتائج یہاں دیکھیں

اب تک کے اہم نتائج میں کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی امیٹھی سے اپنی آبائی نشست بی جے پی کی امیدوار سمرتی ایرانی کے مقابلے میں ہار چکے ہیں۔ راہل گاندھی ملک کی جنوبی ریاست کیریلا سے بھی امیدوار تھے جہاں سے وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے ہیں۔

انھوں نے دلی میں کانگریس کے صدر دفتر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: 'میں نے انتخابی ریلی میں کہا تھا کہ عوام مالک ہے اور مالک نے آرڈر (حکم) دیا ہے۔ تو میں سب سے پہلے نریندر مودی جی کو، بی جے پی کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔'

انھوں نے اپنے کارکنوں اور امیدواروں کو بھی مبارکباد دی۔

یہ بھی پڑھیے

ہمارے اتحاد پر اعتماد کا شکریہ: نریندر مودی

’مودی اور ان کے ایک نئے انڈیا کے تصور کی فتح ہے‘

انڈین الیکشن کے نتائج کے بعد کہیں جشن تو کہیں خاموشی

راہل گاندھی نے کہا 'ہمارے کانگریس پارٹی کے کارکن اور امیدوار جو پورا زور لگا کر دل سے لڑے، میں ان کا دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔'

راہل گاندھی نے کانگریس اور بی جے پی کے نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی لڑائی نظریے کی لڑائی ہے جو جاری رہے گی۔

انھوں نے کہا 'یہ نظریے کی لڑائی ہے۔ ایک نریندر مودی اور بی جے پی کی سوچ ہے اور دوسری کانگریس کی سوچ ہے۔ یہ دو الگ سوچ (فکری نظریات) ہیں اور یہ ماننا پڑے گا کہ ان انتخابات میں ان کی جیت ہوئی ہے۔ تو میں ان کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔'

ان کے مختصر سے بیان کے بعد نامہ نگاروں نے ان سے سوال کیا کہ کانگریس سے کہاں غلطی ہوئی تو راہل گاندھی نے کہا کہ اس پر 'ہم کانگریس کی مجلس عاملہ کے ساتھ بات کریں گے اور یہ آپ فی الحال ہم پر چھوڑ دیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انھوں نے کہا: 'آج یہ کہنا بے معنی ہوگا کہ کہاں غلطی ہوئی۔ آج ہندوستان کے عوام نے فیصلہ سنایا ہے کہ نریندر مودی وزیر اعظم بنیں گے اور ایک ہندوستانی کے طور پر میں ان کا پورا احترام کرتا ہوں۔'

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اپنے کارکنوں، رہنماؤں اور امیدواروں سے جو جیتے ہیں یا ہارے ہیں، ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ڈرو مت۔ ہم ایک ساتھ لڑ کر اپنے نظریے کو فتح یاب کریں گے۔ آپ اپنا اعتماد نہ کھوئیں۔ میں جانتا ہوں کہ اس ملک میں بہت سے لوگ ہیں جو کانگریس کے نظریے کے حامی ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

ووٹنگ کی الیکٹرونک مشینیں دھاندلی سے کتنی محفوظ ہیں؟

گاندھی کے قاتل کو محبِ وطن قرار دینے پر تنازع

کیا اپوزیشن مودی کو شکست دے پائے گی؟

انڈین پارلیمان میں مسلمانوں کی کم ہوتی ہوئی نمائندگی

امیٹھی کے نتیجے پر ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’اگر سمرتی ایرانی جیتی ہیں تو میں ان کو مبارکباد دیتا ہوں اور امیٹھی کے عوام نے جو فیصلہ سنایا ہے میں اس کا احترام کرتا ہوں۔ وہ امیٹھی کے عوام کے لیے کام کریں، جو بھروسہ امیٹھی کے عوام نے ان پر دکھایا ہے اس پر پورا اتریں۔'

خیال رہے کہ پہلے راہل گاندھی امیٹھی سے مسلسل جیت حاصل کرتے آئے تھے۔

انھوں نے آخر میں کہا کہ یہ لمبی انتخابی مہم تھی اور اس میں انھوں نے اپنا ایک اصول رکھا تھا کہ ان کے خلاف جو بھی کہا جائے جتنے بھی دشنام دیے جائیں وہ اس کا جواب محبت سے دیں گے۔

اسی بارے میں