کشمیر میں ’القاعدہ کی علامت‘ کمانڈر ذاکر موسیٰ فوجی کارروائی میں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption مظاہرین نے ذاکر موسی کی تصویر والی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی

انڈین فوج نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ’سب سے مطلوب ' قرار دیے جانے والے شدت پسند ذاکر بٹ عرف ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

فوج نے کہا ہے کہ انھیں کشمیر کے ضلع ترال کے ایک گھر میں محصور کرنے کے بعد گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن دادسر ختم ہو گیا ہے جس میں ہلاک ہونے والے شدت پسند کی شناخت ذاکر موسیٰ کے نام سے ہوئی ہے اور مکان سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔

نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ذاکر موسیٰ اپنے ایک ساتھی سمیت ترال کے ڈاڈ سرہ علاقے میں واقع ایک دو منزلہ مکان میں چھپے ہوئے تھے اور سکیورٹی فورسز نے جمعرات کو مکان کا محاصرہ کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا دولتِ اسلامیہ برصغیر میں قدم جما رہی ہے؟

برہان وانی کے ساتھی ہلاک، کشمیر میں کشیدگی

مقامی میڈیا نے ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد انڈین فوج کی 'بڑی کامیابی' قرار دیا ہے۔

جمعرات کو جب ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کی خبر پھیلی تو کشمیر میں حالات کشیدہ ہو گئے۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد سرکاری اور غیر سرکاری تقریبات کو ملتوی کر دیا گیا اور پولیس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کو حساس علاقوں میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

علاقے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئي ہے جبکہ علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

کشمیر میں مقیم ایک صحافی سمیر یاسر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکام ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد ممکنہ تشدد سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موسیٰ کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی وادی میں بےچینی دیکھی جا رہی ہے اور مظاہرین اور پولیس کے درمیان جمعے کی صبح کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئی ہیں۔

صحافی کے مطابق لوگوں کی بڑی تعداد سری نگر کو انڈیا سے جوڑنے والی واحد سڑک پر جمع ہیں اور پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں جبکہ پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس فائر کی ہے۔

ان مظاہروں کے دوران موسیٰ موسیٰ، ذاکر موسیٰ کے نعرے لگتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ HILAL SHAH
Image caption ذاکر موسی کی موت پر مظاہرہ جاری

ذاکر موسیٰ کے نظریات

26 سالہ ذاکر حکومت ہند کے مرکزی نظام تعلیم کے تحت چلنے والے جواہر نوودیا ودھیالیہ کے طالب علم تھے۔ اُن کے ایک ہم جماعت نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جے این وی کے قوم پرست نصاب سے چڑتے تھے اور وہ آٹھویں جماعت میں ہی وہاں سے نکل کر مقامی نظام تعلیم کے تحت چلنے والے سکول میں گئے اور بعد میں پنچاب کے ایک پیشہ ورانہ کالج میں سول انجینیئرنگ کی ڈگری میں داخلہ لیا۔

بعدازاں وہ ڈگری ادھوری چھوڑ کر واپس کشمیر آئے اور روپوش ہوکر حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان وانی کے ساتھی بن گئے۔ تاہم برہان وانی اور پاکستان میں مقیم حزب المجاہدین کے سربراہ صلاح الدین کے ساتھ اختلاف کے بعد وہ حزب سے علیحدہ ہو گئے اور بعد ازاں 'انصار غزوۃ الہند' نام سے تنظیم کی کمان سنبھال لی۔

یہ واضح نہیں کہ وادی میں ذاکر موسیٰ کے بعد انصار غزوۃ الہند کے کتنے جنگجو باقی بچے ہیں کیونکہ گذشتہ برسوں میں ان کے کئی ساتھی مارے جا چکے ہیں۔

جولائی سنہ 2016 میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کمانڈر ذاکر بٹ عرف ذاکر موسیٰ نے کئی ویڈیو پیغامات جاری کیے جن میں انھوں نے کشمیر میں جاری عسکری تحریک کے عالمی اہداف اور وادی میں نفاذ شریعت کا ایجنڈا بیان کیا۔

انھوں نے کہا کہ 'کشمیر میں جانوں کی قربانی کسی بیرونی ملک کے تذویراتی مفادات کی خاطر نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور اللہ کے قانون کے نفاذ کی خاطر دی جا رہی ہیں۔'

یہ وہ دور تھا جب مشرق وسطیِ میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) کا طوطی بول رہا تھا اور ذاکر موسیٰ کو بھی داعش کی علامت سمجھا جانے لگا۔ تاہم انھوں نے جلد ہی اس کی تردید کر دی اور واضح کیا کہ وہ کشمیر میں جہاد محض نفاذ شریعت کے لیے کر رہے ہِیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر کی مسلح تحریک میں پاکستان کی مداخلت یا سرپرستی کو قبول نہیں کرتے۔

اس پر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقیم کئی عسکری جماعتوں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین نے باقاعدہ ویڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ 'ہمارے کچھ دوست دانستہ یا نادانستہ دشمن کے ہاتھ میں کھیل کر قوم و قیادت کی نظریاتی یکسوئی میں رخنہ ڈال رہے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں