جگن ریڈی کا 430 دنوں کا پیدل سفر اور غیرمعمولی کامیابی کی داستان

جگن موہن ریڈی تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times/Getty Images

انڈیا میں سنہ 2019 کے انتخابات میں بی جے پی کی بڑی کامیابی کے بعد یہ تاثر عام ہے کہ شاید انڈیا مکمل طور پر قوم پرست یا ہندو پرست ہو گیا ہے۔ لیکن انہی انتخابات میں انڈین ریاست آندھرا پردیش کا سیاسی منظر نامہ ایک الگ کہانی سنا رہا ہے جہاں ایک ایسی جماعت مکمل طور پر چھائی رہی جس کا سربراہ ہندو نہیں بلکہ ایک میسحی ہے اور جس کو وجود میں آئے ابھی دس برس بھی نہیں ہوئے۔

ایک حادثے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ایک سیاسی رہنما ہندوستان کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کا وزیر اعلیٰ بننے کے لیے تیار ہے لیکن اس مقام تک پہنچنے کے لیے اس نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک ملک کا پیدل دورہ کیا ہے۔

جگن ریڈی اپنے والد اور آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ راج شیکھر ریڈی کی سنہ 2009 میں ایک طیارہ حادثے میں موت کے نتیجے میں سیاست کے میدان میں آئے لیکن انھیں حالیہ مقام تک پہنچنے میں دس سال لگ گئے۔

ریڈی روایتی طور پر کانگریس پارٹی سے منسلک رہے لیکن پھر انھوں نے اپنی پارٹی وائی ایس آر کانگریس بنائی۔

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے 47 سالہ رہنما کے بارے میں ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ محنت اور لگن سے ہر چیز حاصل کی جا سکتی ہے اور انھوں نے اسے ثابت بھی کیا۔

والد کی موت، کانگریس پارٹی کے ساتھ لڑائی، مختلف معاملات میں سوا سال کا عرصہ جیل میں گزارنے کے باوجود ان کی ہمت نہ توڑی جا سکی۔

یہ بھی پڑھیے

رجنی کانت کے پرستار۔۔۔ بے شمار۔۔۔!

انڈین رکن پارلیمان احتجاج کے لیے ہٹلر بن گئے

جگن ریڈی کی پارٹی یواجن شرمک رائیتھو کانگریس پارٹی (وائی ایس آر کانگریس) نے نہ صرف اسمبلی انتخابات میں کل 175 نشستوں میں سے 151 نشستیں جیت کر غیر معمولی کامیابی حاصل کی بلکہ پارلیمانی انتخابات میں ریاست کی 25 سیٹوں میں سے 22 نشستوں پر بھی کامیابی حاصل کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ysrcp

ان کی اس کامیابی کی اپنی کہانی ہے۔ انھوں نے سنہ 2009 میں کانگریس کے ٹکٹ پر پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی لیکن ان کے والد کی ناگہانی موت سے ان کے پرستار اس قدر دلبرداشتہ ہوئے کہ کئی لوگوں نے خودکشی کر لی۔

جگن ریڈی نے یہ طے کیا کہ وہ ان لوگوں کے اہل خانہ سے ملیں گے جنھوں نے ان کے والد کے غم میں موت کو گلے لگا لیا یا بیمار پڑ گئے۔ والد کی موت کے چھ ماہ بعد انھوں نے ’اودارپو یاترا‘ یعنی تعزیتی یا اشک شوئی کا سفر شروع کیا۔ کانگریس پارٹی کی مرکزی قیادت نے انھیں اس سفر کو ختم کرنے کے لیے کہا لیکن انھوں نے یہ کہتے ہوئے اس سفر کو ختم کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ ان کا 'ذاتی اور جذباتی' معاملہ ہے۔

معاملے نے اتنا طول پکڑا کہ جگن ریڈی نے کانگریس پارٹی کو خیرباد کہتے ہوئے اپنی نئی پارٹی کے قیام کا اعلان کر دیا۔ بعد میں جب ضمنی انتخابات میں ان کی پارٹی میدان میں اتری تو تقریباً تمام نشستیں حاصل کر لیں۔ انھوں نے کڈاپا پارلیمانی حلقے سے تقریبا ساڑھے پانچ لاکھ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔

لیکن اس کے بعد جگن ریڈی کو مختلف مقدمات کے تحت جیل ہو گئی۔ ابھی وہ جیل ہی میں تھے کانگریس کے اتحاد نے آندھرا پردیش سے تلنگانہ کی علیحدگی کی بات تسلیم کر لی۔ جگن ریڈی نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کردی اور تقریبا 125 گھنٹے کے بعد جب ان کی صحت گرنے لگی تو انھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ان کی والدہ بھی ہڑتال پر تھیں اور دونوں نے تلنگانہ کے قیام پر رکن پارلیمان سے استعفی دے دیا۔

سنہ 2014 میں جگن کی پارٹی کو ریاستی انتخابات میں شکست ہوئی اور پارلیمانی انتخابات میں بھی اس کا مظاہرہ اچھا نہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ YSJAGAN/FACEBOOK

3000 کلومیٹر کا پیدل سفر

چھ نومبر سنہ 2017 کو انھوں نے ریاستی سطح پر ایک پیدل سفر کا آغاز کیا تاکہ عوام سے ملاقات کر سکیں۔ اس یاترا یعنی سفر کا نام انھوں نے ’پرجا سنکلپ یاترا‘ یعنی عوام کے عہد کا سفر رکھا۔ اس کے تحت انھوں نے 13 اضلاع کے 125 اسمبلی حلقوں کا دورہ کیا۔ یہ سفر تین ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل رہا جو 430 دنوں تک جاری رہا۔

جگن ریڈی پر غبن اور خیانت کے الزامات کے تحت کئی مقدمات درج ہیں۔ انھوں نے انتخابات لڑنے کے لیے دیے جانے والے اپنے حلف نامے میں اپنے خلاف 31 مقدموں کا ذکر کیا ہے۔

وائی ایس آر کانگریس اور جگن کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف جاری مرکزی تفتیشی بیورو کی جانچ سیاسی سازش ہے لیکن بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تفتیش سوشیل کمار شنڈے اور ولاس راؤ دیشمکھ جیسے رہنماؤں کے خلاف بھی جاری ہے۔

ان کی حالیہ کامیابیوں اور ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ سیاست میں ان کا مستقبل دیر تک روشن ہے۔ ان کے حریف اور ریاست کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے شکست فاش کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔

اسی بارے میں