انڈین انتخابات: عورت چاہے گھونگٹ ہی میں کیوں نہ ہوں انتخابی عمل میں اب مردوں سے پیچھے نہیں

انڈیا

حالیہ انڈین انتخابات کا ایک پہلو جو کافی دلچسپ نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ اس بار ووٹ ڈالنے والوں میں مردوں اور خواتین کی شرح برابر ہو گئی ہے۔

سنہ 1962 کے بعد سے خواتین میں ووٹ ڈالنے کا رحجان رفتہ رفتہ بڑھتا رہا ہے اور بالآخر اس مرتبہ اُتنی ہی خواتین اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے نکلیں جتنے کے مرد نکلے۔

انڈیا میں 90 کروڑ رجسٹرڈ ووٹر ہیں جن میں سے لگ بھگ نصف خواتین ہیں۔

جہاں ایک طرف خواتین ووٹروں نے اپنے ہونے کا احساس دلایا وہیں اس مرتبہ کے انتخابات میں الیکشن لڑنے والی خواتین کی تعداد بھی ماضی کے مقابلے میں زیادہ رہی۔

اگرچہ خواتین سے متعلق اعداد و شمار میں بہتری دیکھنے میں آئی تاہم مجموعی طور پر اب بھی مرد ہی ان انتخابات پر چھائے رہے۔

سنہ 2019 کے عام انتخابات میں حصہ لینے والے 8000 امیدواروں میں سے صرف 723 خواتین تھیں۔

اگر سات اہم سیاسی جماعتوں کے امیدواروں پر نظر ڈالیں تو 2014 کے انتخابات کے مقابلے میں خواتین امیدواروں کی تعداد میں صرف 1 امیدوار کا اضافہ ہوا ۔

یہ بھر پڑھیئے

543 ارکان کی لوک سبھا میں گنتی کے مسلمان

مودی کا انتخاب:’اچھی امید رکھیں مگر بدتر کے لیے تیار رہیں‘

اگر مجموعی طور پر ان انتخابات کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو انڈیا بھر میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے کچھ ایسے علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کی ہے جہاں سنہ 2014 میں وہ کامیاب نہیں ہوئی تھی۔

پچھلے انتخابات کے مقابلے میں بی جے پی اس بار تین سو سے زیادہ نشیتیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

بی جے پی نے راجستھان، گجرات، ہریانہ اور دہلی میں کلین سویپ کیا جبکہ اترپردیش، مہاراشٹر، مغربی بنگال، اڑیسہ اور بہار میں بھی اس کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے۔

بی جے پی کے اتحاد نے شمالی ریاست اترپردیش میں 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیا جو حیران کن ہے کیونکہ یہاں بی جے پی کا مقابلہ دو طاقتور علاقائی جماعتوں بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے اتحاد سے تھا۔

مغربی بنگال میں بھی بی جے پی کی کارکردگی اندازوں سے بہتر رہی ہے اور گذشتہ انتخابات میں دو نشستوں کے مقابلے میں اس مرتبہ انھوں نے 17 نشستیں حاصل کیں۔

تاہم انڈیا کی پانچ جنوبی ریاستوں میں سے چار، آندھرا پردیش، تلنگانہ، تمل ناڈو اور کیرالا پر اس بار بھی مودی کا جادو چلتا دکھائی نہیں دے رہا اور وہاں حکمران اتحاد 91 میں سے صرف تین نشستیں ہی جیت پایا ہے۔

پنجاب میں بھی بی جے پی کی کارکردگی کچھ اچھی نہیں رہی ہے اور امریندر سنگھ نے کانگریس کو وہاں فتح دلوا دی ہے۔

اسی بارے میں