کشمیر: القاعدہ کمانڈر ذاکر موسیٰ کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں ضلع ترال میں وہ گھر جہاں ذاکر موسیٰ کو ہلاک کیا گیا

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سکیورٹی اداروں کو ’انتہائی مطلوب‘ قرار دیے جانے والے شدت پسند ذاکر موسیٰ کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

انڈین فوج نے کہا ہے کہ ذاکر موسیٰ کو جنوبی کشمیر کے ضلع ترال کے ایک گھر میں محصور کرنے کے بعد گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

موسیٰ نے سنہ 2017 میں حزب المجاہدین سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد القاعدہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ حزب المجاہدین کشمیر میں انڈیا کے خلاف برسرِپیکار شدت پسند گروہوں میں سب سے بڑا گروپ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’مطلوب ترین‘ کشمیری کمانڈر کی ہلاکت پر مظاہرے

کیا دولتِ اسلامیہ برصغیر میں قدم جما رہی ہے؟

برہان وانی کے ساتھی ہلاک، کشمیر میں کشیدگی

ان کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

ذاکر موسیٰ، جن کا اصل نام ذاکر رشید بھٹ تھا، مشہور و معروف کشمیری شدت پسند لیڈر برہان وانی کے انتہائی قریبی رفقا میں سے ایک تھے۔ وانی کی سنہ 2016 میں انڈین سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد پوری وادی میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔

برہان وانی کی ہلاکت کے بعد چار ماہ جاری رہنے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران 100 شہری ہلاک ہوئے تھے۔

مقامی میڈیا نے ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد انڈین فوج کی ’بڑی کامیابی‘ قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ذاکر موسیٰ کے جنازے کے جلوس میں خواتین بھی شامل تھیں

تاہم یہ معلوم نہیں ہے کے اُن کے شدت پسند گروپ انصار غزوۃ الہند میں کتنے جنگجو ہیں۔

انڈین آرمی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک سطری بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن دادسر (پلوامہ) ختم ہو گیا ہے، ایک شدت پسند ہلاک ہوا ہے جس کی شناخت ذاکر موسیٰ کے نام سے ہوئی ہے اور مکان سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا کہنا ہے کے ترال میں ذاکر موسیٰ کے جنازے میں 10 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی ہے۔

کشمیر میں مقیم صحافی سمیر یاسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کے حکام موسیٰ کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق کے بعد پرتشدد واقعات سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کے ہلاکت کی خبر پھیلنے سے کشیدگی پھیلانا شروع ہو چکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صبح سے کئی مقامات پر مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔ مظاہرین ’موسیٰ موسیٰ ذاکر موسیٰ‘ کے نعرے لگاتے ہوئے سری نگر کو انڈیا سے ملانے والی واحد شاہراہ پر اکٹھے ہوئے اور انھوں پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔

سمیر یاسر کا کہنا تھا کے پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل برسائے اور پیلٹ گنز کا استعمال بھی کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

علاقے میں موبائیل انٹرنیٹ سروسز بند ہیں جبکہ کرفیو نفاذ کر دیا گیا ہے۔ جمعے کے روز وادی میں سکول اور کالجوں کو بند رکھنے کی ہدایت دی گئی۔

انڈیا کشمیر میں تشدد پھیلانے اور شدت پسندی کی پشت پناہی کرنے کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے، مگر پاکستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

سنہ 1989 سے کشمیر میں تشدد کے واقعات وقفے وقفے سے پیش آتے رہتے ہیں جن میں اب تک 70 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جس میں کشمیر میں بسنے والے ہندو بھی شامل ہیں جنہیں نوے کی دہائی میں نشانہ بنایا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں