ایران میں یوگا کی کلاسز لینے پر 30 افراد گرفتار

ایران تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران میں ایک نجی یوگا کلاس میں حصہ لینے پر 30 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس گرفتاری نے ملک بھر میں سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔

انھیں ایران کے شمالی شہر گورگن کی ایک نجی رہائش گاہ میں قید کیا گیا جہاں وہ بظاہر ایک مخلوط یوگا کلاس میں حصہ لے رہے تھے۔

محکمہ قانون کے مقامی اہلکار مسعود سلیمانی کا کہنا تھا کہ یوگا انسٹرکٹر جنھیں گرفتار بھی کیا گیا ہے کہ پاس یوگا کلاس چلانے کا لائسنس نہیں تھا اور انھوں نے اس کلاس کی تشہیر انسٹاگرام پر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے!

ایران میں زمبا رقص پر پابندی کے مطالبے پر تنقید

ایران میں حجاب پہننے کا فیصلہ درست تھا: سویڈن

ایران میں سینکڑوں خواتین کو فٹبال میچ دیکھنے کی اجازت

مزاحمت کی علامت بن جانے والی خاتون

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY CREATIVE STOCK
Image caption ایرانی سپورٹس فیڈریشن نے ملک بھر میں زمبا پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا

ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق محکمہ قانون کے اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس یوگا کلاس میں حصہ لینے والوں نے 'نامناسب لباس' پہنا تھا اور ان کا 'رویہ بھی نامناسب' تھا۔ ایران کی مذہبی انتظامیہ ملک میں کھیلوں کی مخلوط سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتی۔ ملک میں پیشہ وارانہ سطح پر یوگا کی تربیت پر بھی پابندی عائد ہے۔

مسعود سلیمانی جو ایرانی شہر گورگن میں اسلامی انقلاب کی عدالت کے ڈپٹی چیف ہیں نے ان زیر حراست افراد کے لباس اور رویہ کے متعلق مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز نے گرفتاری سے قبل اس رہائش گاہ پر کچھ عرصے سے نظر رکھی ہوئی تھی۔

گورگن شہر ایرانی صوبے گلستان کا دارلخلافہ ہے۔

مسنوخ کلاسز

یہ خبر جسے 'ینگ جرنلسٹس کلب ' نے بھی رپورٹ کیا ہے، اس نے انٹرنیٹ پر ہلچل مچا دی ہے اور آن لائن سماجی مباحثوں میں یہ موضوع ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے ٹویٹ کیا کہ 'یہ (ایرانی حکام) شریعہ کے مطابق یوگا لفظ کو بھی مسئلہ سمجھتے ہیں۔'

ایک اور ٹوئٹر صارف نے خطے میں امریکی جنگی بیڑے کی تعیناتی کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ 'ایک ایسی حکومت جو یوگا کو نقصان دہ سمجھتی ہے، اس کو اپنے وجود کو ختم کرنے کے لیے امریکی جنگی بیڑے ابراہم لنکن کی ضرورت نہیں۔'

دیگر کا کہنا تھا کہ کہ گورگن میں گرفتاریوں کے بعد انھوں نے یوگا کلاسز میں داخلہ لینے کے اپنے ارادے ترک کر دیے ہیں۔

ایک اور ٹوئٹر صارف نے کہا کہ 'میرے خیال میں حکام کو ہمیں واضح طور پر یہ بتانے کی ضرورت ہیں کہ ہمیں اس ملک میں کیا کام کرنے کی اجازت ہے۔'

سنہ 2017 میں ایران کی کھیل انتظامیہ نے کولمبیا کی ڈانس نما ایروبک ورزش زومبا اور 'کسی بھی موسیقی کے ساتھ ہم آہنگ جسم کی حرکات' پر پابندی لگائی گئی تھی۔

اس وقت ایران کی سپورٹس فیڈریشن نے ایران کی وزارت برائے امور نوجوانان اور کھیل کو خط لکھا تھا کہ ایسی تمام سرگرمیوں سمیت زومبا ہر پابندی عائد کی جائے جو اسلامی نظریات کے مخالف ہیں۔

اگرچہ گذشتہ چند سالوں میں ملک میں یوگا کے حامیوں کی جانب سے کیے جانے والے اجتماعات کو سوشل میڈیا پر بڑھاوا دیا جا رہا ہے جبکہ ان کو غیر اسلامی تصور کرتے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد اب بھی اس کو قابل اعتراض سمجھتی ہے

گرفتاریوں کا بتاتے ہوئے اہلکار سلیمانی نے ملک میں سوشل میڈیا پر ہونے والی سرگرمیوں کی ناقص نگرانی پر بھی تنقید کی۔ ملک میں ٹویٹر پر سرکاری طور پر پابندی عائد تاہم حال ہی میں ایران کے حکام کی طرف سے انسٹاگرام کی نگرانی بڑھائی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران میں زمبا رقص کھیلوں کے کلب میں بہت مقبول ہے

اس ہفتے کم از کم تین موسیقکاروں کے سوشل میڈیا اکاونٹس کو ایرانی حکام کی جانب سے مجرمانہ مواد شائع کرنے پر بند کیا گیا ہے۔ جبکہ گلوکار نگار معظم صوبے اسفحان میں چند سیاحوں کے ایک گروہ کے لیے پرفارم کرنے پر اس وقت زیر تفتیش ہیں۔ اب ان کا انسٹاگرام اکاونٹ بھی بند ہے۔

اس خبر کے لیے بی بی سی مانیٹرنگ نے بھی مدد فراہم کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں