ممبئی: اس لیڈی ڈاکٹر کی جان کس نے لی؟

پایل تڈوی تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/PAYAL TADVI

انڈیا کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی میں تین ڈاکٹروں کو ان الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے کہ وہ اپنی نوجوان ساتھی ڈاکٹر کو ہراساں اور پریشان کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے انھوں نے خودکشی کر لی۔

بی بی سی مراٹھی سروس کی جھانوی مولے اور پروین ٹھاکرے کی رپورٹ یہاں پیش کی جا رہی ہے۔

عابدہ تڈوی پرنم آنکھوں سے پوچھتی ہیں: 'میں فخر سے کہتی تھی کہ میں ڈاکٹر پایل کی ماں ہوں، لیکن اب میں کیا کہوں گی؟'

ان کی 26 سالہ بیٹی پایل تڈوی نے مبینہ طور پر ذات پات کی بنیاد پر مہینوں ہراساں کیے جانے کے بعد 22 مئی کو خودکشی کر لی۔ وہ ایسے قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں جو صدیوں سے تاریخی طور پر پسماندہ رہا ہے۔

پایل کے اہل خانہ نے ان کی تین سینیئر ڈاکٹر ساتھیوں کو ان کی موت کا ذمہ دار قرار دیا ہے کہ وہ انھیں ہراساں کیا کرتی تھیں۔ یہ تینوں ڈاکٹر خواتین ہیں۔

پولیس کے نائب کمیشنر ابھیناش کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے تینوں ملزمان کو منگل کے روز گرفتار کر لیا ہے اور معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نقل کرتے پکڑے جانے کے بعد طالبہ کی خودکشی

پونے نو لاکھ روپے بجلی کے بل پر ’خودکشی‘

لیکن خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق ان لوگوں نے ان الزمات کی تردید کی ہے اور کہا کہ انھیں ناحق پھنسایا جا رہا ہے اور انھوں نے ایک بیان میں 'منصفانہ جانچ' اور 'انصاف' کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کی گرفتاری سے قبل نایر ہسپتال نے ان تینوں کو معطل کر دیا ہے۔ اور اس معاملے میں کالج نے جانچ شروع کر دی ہے۔

پایل کی موت نے ان کے ساتھیوں اور دوستوں کو صدمہ پہنچایا ہے جو ہسپتال کے سامنے ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے کے لیے مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ممبئی جیسے شہر میں ذات کی بنیاد پر تعصب کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

پایل کا تعلق شمالی مہاراشٹر کے جلگاؤں سے تھا۔ ممبئی اسی ریاست کا سب سے بڑا شہر ہے۔ انھوں نے سلمان تڈوی سے شادی کی اور میڈیکل میں اپنی پوسٹ گریجویٹ ڈگری کے لیے ممبئی منتقل ہو گئیں۔

جب ان کی موت ہوئی وہ ٹوپی والا میڈیکل کالج میں گائناکلوجسٹ کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ ان کی والدہ عابدہ کہتی ہیں کہ وہ ہمیشہ سے ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ غریب قبائيلیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ہی اس کا خواب تھا۔

ان کا تعلق تڈوی بھیل قبیلے سے تھا جو کہ انڈیا کے 700 قبائل میں سے ایک ہے۔ سنہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ان قبائل کی تعداد انڈیا میں 80 لاکھ ہے اور انھیں ریزویشن یا کوٹہ دیا جاتا ہے تاکہ صدیوں تک ذات پات کے نام پر ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو درست کیا جاسکے۔

پایل کو کالج میں 'شیڈیول ٹرائب' کے کوٹے پر داخلہ ملا تھا۔ عابدہ کہتی ہیں کہ انھیں اپنی بیٹی پر فخر تھا کہ اس نے ذات پاٹ کی رکاوٹوں اور غربت کے باوجود یہ مقام حاصل کیا تھا۔

'وہ اس کو ہر چھوٹی بڑی چیز کا طعنہ دیتے'

عابدہ نے کہا کہ پایل نے انھیں بتایا تھا کہ اسے اس کی تین سینیئر ڈاکٹروں کی جانب سے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔

'اس نے بتایا کہ وہ مریضوں کے سامنے اسے ہر چھوٹی چیز کا طعنہ دیتے تھے۔ وہ اسے طرح طرح سے بے عزت کرتے۔ اس کے منہ پر فائل پھینکتے۔ اس نے یہاں تک کہا کہ وہ اسے اطمینان سے کھانے بھی نہیں دیتے۔'

وہ مبینہ طور پر اسے ڈاکٹری سے روکنے کی دھمکیاں بھی دیتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TADVI FAMILY
Image caption پایل اپنی والدہ عابدہ کے ساتھ

عابدہ اکثر نایر ہسپتال جاتی تھیں کیونکہ ان کا کینسر کا علاج ہو رہا تھا اور پایل کا کالج اس سے منسلک تھا جہاں وہ تعلیم کے ساتھ پریکٹس بھی کرتی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ شاذ و نادر ہی کبھی اپنی بیٹی کے ساتھ وقت گزار پاتی تھیں کیونکہ وہ ہمیشہ مشغول رہتی تھی۔ اس لیے عابدہ دور سے ہی اسے دیکھتی رہتی تھیں۔

انھوں نے کہا: 'میں نے دیکھا کہ اس کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے۔ میں نے شکایت کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پایل نے مجھے روک دیا۔'

پایل کو ڈر تھا کہ ایسے کسی قدم سے ان تینوں کے کیریئر کو نقصان پہنچے گا اور وہ اسے مزید ہراساں کریں گی۔

لیکن پھر دسمبر سنہ 2018 میں عابدہ اور سلمان نے دوسرے سینیئروں اور پروفیسروں سے پایل کے ہراساں کیے جانے کے متعلق بات کی۔

عابدہ نے بتایا کہ اس کے بعد اسے دوسری ٹیم کے ساتھ ڈیوٹی پر لگا دیا گیا اور وہ قدرے مطمئن نظر آنے لگی۔

لیکن عابدہ کے مطابق پھر سے ہراساں کیے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور دس سے 12 مئی کے آس پاس عابدہ نے بذات خود شکایت کی۔ وہ کہتی ہے کہ 'اس بار ان لوگوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔'

اس کے دس دن بعد پایل نے اپنی جان لے لی۔

'یہ افسوسناک اور المناک ہے'

پایل کی موت نے انڈیا بھر میں سکولوں اور کالجوں میں وسیع پیمانے پر ہراساں کیے جانے پر سوال اٹھایا ہے۔ عام طور پر اسے 'ریگنگ' کے نام سے جانا جاتا ہے اور ملک میں اس پر پابندی ہے۔ پسماندہ طبقے کے لوگوں کو عام طور پر اس کا سامنا ہوتا ہے۔

ٹوپی والا کالج کے ڈین ڈاکٹر رمیش بھرمال نے بی بی سی کو بتایا کہ نایر ہسپتال نے اس معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور انھیں جلد ہی رپورٹ داخل کیے جانے کی امید ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'یہ افسوسناک اور المناک ہے۔ ہم بہت زیادہ صدمے میں ہیں۔ یہ کیونکر ہو سکتا ہے؟ ہم کیا کرسکتے تھے اور اب ہم کیا کریں؟ یہ سب روکا جا سکتا تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سلمان نے کہا کہ وہ ڈاکٹر بھرمال سے ملے تو انھوں نے کہا کہ کسی نے ڈین آفس کو خبر کیوں نہ کی۔ سلمان نے بتایا کہ انھوں نے پایل کے دفتر میں سٹاف سے بات کی تھی اور انھوں نے ضابطے کی پیروی کی تھی۔

وہ پوچھتے ہیں کہ 'تو پھر انھوں نے کچھ کیوں نہیں کیا؟'

عابدہ کا بھی یہی سوال ہے: 'ہمیں اور کیا کرنا چاہیے تھا؟ کیا انھیں پتہ نہیں کہ ان کے کالج میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ انھوں نے اس پر دھیان دیا ہوتا؟'

ڈاکٹر بھرمال کہتے ہیں کالج میں ہراساں کیے جانے کی شکایتوں کے ازالے کے لیے ایک نظام ہے جس میں نئے طالب علموں کے لیے کاؤنسلنگ، شکایتوں کی جانچ کرنے کے لیے ایک کمیٹی اور سپروائزوں کی اچانک چیکنگ وغیرہ شامل ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں: 'مجھے علم نہیں تھا۔ نہیں تو یہ نہیں ہوتا۔ مناسب اقدامات کیے جاتے اور اس کو روکا جا سکتا تھا۔'

'وہ میری ریڑھ کی ہڈی تھی'

جلگاؤں کے جس گھر میں پایل پلی بڑھیں وہاں ان کے رشتے دار اور پڑوسی سب صدمے میں ہیں اور سوگ منا رہے ہیں۔ وہ پایل کے بارے میں بات کر نے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔ وہ انھیں ذہین، حوصلہ مند اور محنتی بتاتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر اس لیے بننا چاہتی تھی کہ اس کا چھوٹا بھائی معذور پیدا ہوا تھا، وہ چل نہیں سکتا تھا اور وہ ہمیشہ لوگوں کی مدد کیا کرتی تھی۔

عابدہ کہتی ہیں کہ پایل کے ساتھ جو ہوا اسے دیکھ کر وہ ان پسماندہ ذات کے طلبہ وطالبات کے بارے میں سوچ رہی ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا جو بہتر مستقبل کی کوشش میں لگے ہیں۔

وہ اپنے بھتیجے اور بھتیجیوں اور اپنے قبیلے کے دوسرے بچوں کے بارے میں فکرمند ہیں۔

عابدہ کہتی ہیں: 'ان کے والدین میرے پاس آ کر پوچھتے ہیں کہ کیا وہ اپنے بچوں کو گھر بٹھا لیں کیونکہ انھیں ان اداروں پر بھروسہ نہیں کہ وہ ان کے بچوں کا خیال رکھیں گے۔'

پایل کی والدہ کہتی ہیں: 'وہ میری ریڑھ کی ہڈی تھی وہ ہمارے ساری برادری کے لیے ریڑھ کی ہڈی تھی۔ وہ ہمارے قبیلے کی پہلی خاتون ڈاکٹر ہوتی۔ لیکن اب یہ خواب ادھورا ہی رہ جائے گا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں