انڈیا کے زیر انتظام کشمیر: ’مظاہرین نے محصور عسکریت پسندوں کو بچا لیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہسپتال کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پچاس افراد فورسز کی کارروائی میں زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دس سے زیادہ کی آنکھوں میں چھرے لگے ہیں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کے مطابق رواں سال کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے کہ طویل جھڑپ اور مکان کو بارود سے اُڑائے جانے کے باوجود محصور عسکریت پسند فرار ہوگئے ہیں۔

لیکن جنوبی ضلع کولگام کے محمد پورہ علاقے میں ہونے والے اس تصادم کے دوران لوگوں نے شدید مظاہرے کیے اور مظاہرین کے خلاف سرکاری فورسز کی کارروائیوں میں 50 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

یہ تصادم جنوبی ضلع کولگام میں بدھ کی صبح فجر کی نماز سے قبل اُس وقت ہوا جب ضلع کے محمد پورہ علاقے میں مسلح عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاع ملتے ہی فوج، پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے گاؤں کا محاصرہ کر لیا۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ایک مکان میں چھپے عسکریت پسندوں نے فورسز پر فائر کیا جس کے بعد کراس فائرنگ ہوئی تاہم بعد میں فائرنگ کا سلسلہ رُک گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی دوران لوگوں کی بڑی تعداد جائے تصادم کے قریب مظاہرہ کرنے لگی۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر: ذاکر موسیٰ کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت

’مطلوب ترین‘ کشمیری کمانڈر کی ہلاکت پر مظاہرے

کیا دولتِ اسلامیہ برصغیر میں قدم جما رہی ہے؟

برہان وانی کے ساتھی ہلاک، کشمیر میں کشیدگی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چند روز قبل ذاکر موسیٰ کے جنازے کے جلوس میں خواتین بھی شامل تھیں

اس آپریشن میں شامل ایک جونئیر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ایک طرف فورسز اہلکار مظاہرین سے نمٹ رہے تھے اور دوسری طرف عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ جاری تھی۔‘

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ مکان کو بارود سے اُڑا دیا گیا تھا تاہم ملبے کے نیچے چھپے دو عسکریت پسند زندہ باہر نکلے اور بھیڑ میں غائب ہوگئے۔ پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ رواں سال عسکریت پسندوں کے خلاف ہونے والے 94 آپریشنوں میں یہ پہلا آپریشن ہے جس میں ’لوگوں نے محصور عسکریت پسندوں کو بچا لیا۔‘

جبکہ ہسپتال کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پچاس افراد فورسز کی کارروائی میں زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دس سے زیادہ کی آنکھوں میں چھرے لگے ہیں، تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ فقط دس افراد مظاہرین کو منتشر کرنے کی کارروائی میں زخمی ہوئے ہیں۔

دریں اثناء کولگام کے قریبی ضلع شوپیان کے پینجورہ علاقے میں بھی تلاشی کی مہم کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے مظاہرے کیے جس کے بعد فورسز نے مظاہرین پر راست فائرنگ کی۔ مقامی لوگوں اور ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ اس کارروائی میں تین نوجوانوں کو گولیاں لگیں جنہیں ہسپتال پہنچایا گیا۔ ہسپتال میں سجاد احمد پرے نامی نوجوان کو مردہ قرار دے دیا گیا۔

واضح رہے کہ انڈیا میں بھارتی جنتا پارٹی کی انتخابی جیت کے بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن میں شدت آگئی ہے اور گزشتہ چھ روز کے دوران القاعدہ کے حامی کمانڈر ذاکر موسیٰ سمیت کم از کم آٹھ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

تئیس مئی کو بھارت کے انتخابی نتائج کا اعلان ہوا اور نریندر مودی کی بھارتی جنتا پارٹی کو بھاری اکثریت ملی۔ نتائج کے فوراً بعد کشمیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنوں میں شدت آئی جس کے دروان آٹھ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا جن میں مطلوب ترین مسلح کمانڈر ذاکر موسیٰ بھی شامل ہیں۔ ان کی ہلاکت کے بعد کئی روز تک کشمیر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ذاکر واحد عسکری کمانڈر تھے جو القاعدہ کے حامی تھے۔

پولیس کے مطابق چھ ماہ کے دوران کشمیر میں تشدد کی مختلف وارداتوں میں 80 عسکریت پسند، 60 سے زیادہ فورسز و پولیس اہلکار اور سات عام شہری مارے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ رواں سال عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنوں کے تسلسل کی وجہ سے وادی میں عسکریت پسندوں کی تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سال کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہونے والے مقامی نوجوانوں کی تعداد 40 ہے، جو گزشتہ برس کی تعداد کے نصف سے کم ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ کشمیر میں گزشتہ پانچ برس کے دوران مقامی نوجوانوں کی بڑی تعداد روپوش ہوگئی جس کے بعد وادی میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیے گئے۔ وادی میں گزشتہ ماہ پارلیمانی انتخابات کے دوران حالات نسبتاً پرسکون رہے اور حکام کو توقعہ ہے کہ ریاست میں مجوزہ اسمبلی انتخابات کے لیے حالات جلد ہی ساز گار بنائے جائیں گے، تاہم عوامی حلقوں میں مسلسل گرفتاریوں اور مبینہ زیادتیوں کے خلاف سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں