چین میں مالی مدد کے مُنتظر پاکستانی طلبا: ’شنگھائی بہت مہنگا ہے، ہمیں پیسوں کی سخت ضرورت ہے‘

پاکستانی طلبا تصویر کے کاپی رائٹ FARHAN SABIR

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت کی جانب سے تعلیمی وظیفے کی رقم نہ دینے کے باعث چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

صوبہ پنجاب کے سابق وزیرِ اعلی شہباز شریف کی جانب سے چائنیز لینگویج سکالرشپ پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا جس کے تحت پنجاب بھر سے چار مرحلوں میں 500 طالبِ علموں کو دو سال کے لیے چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں بھییجا گیا تھا۔

پہلے تین فیز کے طالبِ علم اپنے کورسز مکمل کر کے واپس آچکے ہیں تاہم چوتھے فیز کے 150 طالبِ علم اب بھی چین کے مختلف شہروں میں موجود ہیں۔ جہاں دو ماہ سے ماہانہ وظیفہ نہ ملنے کے سبب اُن طالبعلموں کو مخلتف مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’چین میں مدرسہ بنا لیں ایسا کھلم کھلا ممکن نہیں‘

’امیروں کے بچے امریکی اسکالرشپ کے لیے ٹینس کھیلتے ہیں‘

پاک چین ’غیر قانونی شادیوں‘ پر چین کی وارننگ

صورتِ حال یہاں تک پہنچ گی ہے کہ کھانے پینے اور سفر کے لیے اُن کو مقامی افراد اور چینی اُستادوں سے قرض لینا پڑ رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بھی رقم کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FARHAN SABIR

شنگھائی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم احسان نعیم نے بی بی سی کی نازش فیض کو بتایا کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کے آنے کے بعد سے اُن کو فنڈز ملنا بند ہو گئے ہیں۔

احسان نعیم نے بتایا کہ اُنھیں ہر ماہ 2800 یوآن بینک آف پنجاب کے ذریعے ملتے تھے جو کہ پاکستانی 60 ہزار روپے بنتے ہیں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں بھی ایک ماہ اُنھیں سکالرشپ کی یہ رقم نہیں ملی تھی تاہم میڈیا پر بات آنے کے بعد فنڈز ریلیز کر دیے گئے تھے۔

’مگر اب پھر اپریل سے فنڈز بند ہیں اور ہم یہاں اپنے چینی دوستوں سے اُدھار لے رہیں۔ گزر بسر کے لیے اپنے گھروں سے بھی پیسے منگوانے پڑ رہے ہیں۔ لیکن ہر لڑکا گھر سے پیسے نہیں منگوا سکتا کیونکہ وہ مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہاں تک کہ وہ سکالرشپ سے ملنے والی رقم گھر بھی بھجواتے تھے۔ شنگھائی بہت مہنگا شہر ہے اور ہمیں پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔‘

احسان نے بتایا کہ وہ یہاں کوئی فل ٹائم یا پارٹ ٹائم نوکری بھی نہیں کر سکتے کیوںکہ چین کے قانون کے مطابق سٹوڈنٹ ویزے پر نوکری نہیں کی جا سکتی۔

احسان نے بتایا کہ انھیں کھانے کے لالے پڑئے ہوئے ہیں اور ہر طالبِ علم پر تقریباً دو ہزار یوآن کا قرض ہے۔

بیجنگ لینگویج اینڈ کلچرل یونیورسٹی میں پڑھنے والی ایک طالبِ علم عطیہ اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ اپریل کے بعد سے اُنھیں صرف تسلیاں ہی دی جا رہی ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ دو ماہ میں ’میں نے اپنے گھر سے چالیس ہزار روپے منگوائے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہیبی نورمل یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالبِ علم فرحان صابر نے بی بی سی کو بتایا کہ جب اُنھوں نے یونیورسٹی آف لاہور کے فوکل پرسن ڈاکڑ ثاقب سے بات کی تو اُنھوں نے بتایا کہ فنڈز موجود ہیں مگر پنجاب ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج انھیں آگے نہیں بھیج رہے۔

اسی بات کی تصدیق کے لیے جب ڈاکٹر ثاقب سے رابطہ کیا گیا تو اُنھوں نے بتایا ’پنجاب حکومت کی جانب سے فنڈز رکے ہوئے ہیں اور جیسے ہی فنڈز ملے گے ہم بچوں کو پیسے بھیج دیں گے۔`

اُنھوں نے مزید بتایا کہ اُن کے ڈپارٹمنٹ سے ابھی تک چین میں یونیورسٹیوں کو ٹیوشن فیس بھی ادا نہیں ہوئی۔ اُن یونیورسٹیز کی جانب سے بار بار فیس کے مطالبے پر یہی کہا جا رہا ہے کہ جیسے ہی رقم ملے گی ہم آپ کو منتقل کر دیں گے۔

ہائر ایجوکیشن کے لیے پنجاب کے صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں کا کہنا ہے کہ وہ دو ماہ سے لندن میں تھے لیکن جانے سے قبل اُنھوں نے فنانس ڈپارٹمنٹ کو یاد دہانی کروائی تھی لیکن چند مسائل کی بنا پر رقم منتقل نہیں کی جا سکی۔

اُن کے مطابق یہ رقم عید سے قبل طالبِ علموں تک منتقل کر دی جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں