برطانیہ نے برصغیر کی تیسری صنف کو کیوں مٹانا چاہا؟

انڈیا کے خواجہ سرا تصویر کے کاپی رائٹ Bridgeman Images

اگست 1852 میں بھورا نامی خواجہ سرا کو شمالی انڈیا کے مین پوری ضلع میں سفاکی سے قتل کیا گیا۔

بھورا اس وقت شمال مغربی صوبوں میں اپنے دو چیلوں اور ایک محبوب کے ساتھ رہتی تھیں۔ بچوں کی پیدائش سے لیکر شادی بیاہ کی تقریبات جیسے خوشی کے موقعوں پر رقص کرنے کے علاوہ وہ تحائف بھی قبول کرتی تھیں۔

قتل ہونے سے پہلے انھوں نے اپنے محبوب کو ایک اور شخص کے لیے چھوڑ دیا۔ برطانوی جج قائل تھے کہ انھیں ان کے سابقہ محبوب نے غصے میں آ کر قتل کر دیا تھا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران خواجہ سراؤں کی وضاحت کرنے کے لیے جج نے ان کے لیے کراس ڈریسر یعنی جنسِ مخالف کے ملبوسات پہننے والے، بھکاری اور غیرقدرتی فاحشہ جیسے الفاظ استعمال کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک جج کا کہنا تھا کہ یہ برادری سامراجی نظام کے لیے ذلت کا باعث ہے

'اخلاقی خوف و ہراس'

ایک جج کا کہنا تھا کہ یہ برادری سامراجی نظام کے لیے ذلت کا باعث ہے۔ ایک اور جج نے دعویٰ کیا کہ ان لوگوں کا وجود برطانوی حکومت کے لیے رسوائی کا باعث بن چکا تھا۔

یہ ردِ عمل اس لیے عجیب تھا کیونکہ ایک خواجہ سرا کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاریخ دان جسیکا ہنچی کے بقول قتل نے 'خواجہ سراؤں کے بارے میں برطانوی عوام میں اخلاقی خوف و ہراس' کو بھڑکا دیا۔

ڈاکٹر ہنچی نے مجھے بتایا کہ 'بھورا جرم کا نشانہ بنیں مگر ان کی موت کو جرم کے ثبوت اور خواجہ سراؤں کی بد کرداری کے طور پر دیکھا گیا۔‘

یہ بھی پڑھیے!

کانز فیسٹیول میں پاکستانی فلم ’رانی‘ کی نمائش

میں نے خواجہ سرا کی خاطر گھر بار کیوں چھوڑا؟

’آپ کے بچے کی جنس واضح نہیں تو اس کا علاج ممکن ہے‘

برطانوی افسران خواجہ سراؤں کو 'بے قابو' خیال کرنے لگے۔ مبصرین کا کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کو دیکھ کر ذہن میں 'غلاظت، بیماری، متعدی مرض اور آلودگی' کی تصاویر آتی تھیں۔ انھیں ایسے لوگوں کے طور پر دیکھا جاتا جنھیں مردوں کے ساتھ سیکس کرنے کی لت پڑی ہوئی تھی۔

سامراجی نظام میں کام کرنے والے افسران کے بقول خواجہ سرا 'عوامی اخلاق' کے ساتھ ساتھ 'سامراجی سیاسی اقتدار کے لیے بھی ایک خطرہ' تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواجہ سرا اکثر کہتے ہیں کہ وہ ایسے ہی پیدا ہوئے تھے

تقریباً ایک دہائی تک ڈاکٹر ہنچی نے خواجہ سراؤں سے متعلق سامراجی دور کی دستاویزات کی چھان بین کی، جن میں انھیں انڈین لوگوں کو غیر اہم گرداننے والے سامراجی قوانین کے اثرات کے بارے میں تفصیلی معلومات ملیں۔

خواجہ سرا اکثر خواتین کی طرح کا لباس زیب تن کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ایسے ہی پیدا ہوئے تھے۔

شاگردوں یا چیلوں پر مبنی اس برادری کا بہت سی ثقافتوں میں اہم کردار ہے مثلاً محلوں میں خواتین کے لیے مخصوص کمروں کی حفاظت کرنے سے لیکر گانا گانے اور رقص کرنے کا کام انھی کے سپرد کیا جاتا تھا۔

جنوبی ایشیا کی ثقافتوں میں کہا جاتا ہے کہ تولیدی صلاحیت کے بارے میں خواجہ سراؤں کی دعائیں یا بددعائیں قبول ہوتی ہیں۔

وہ لے پالک بچوں اور اپنے مرد ساتھیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ آج کے دور میں کئی لوگ خواجہ سراؤں کو ٹرانسجینڈر سمجھتے ہیں حالانکہ اس اصطلاح میں انٹر سیکس یا مختلف جنسی خصوصیات والے افراد بھی شامل ہوتے ہیں۔

بھورا کا شمار شمال مغربی صوبوں میں رہنے والے ان 2500 خواجہ سراؤں میں ہوتا ہے جن کا ریکارڈ درج کیا گیا۔ آج ان صوبوں کی جگہ انڈیا کی سب سے کثیر آبادی والی ریاست اتر پردیش اور ہمسایہ ریاست اترکھنڈ نے لے لی ہے۔

ان کے قتل کے برسوں بعد صوبوں میں خواجہ سراؤں کی تعداد میں کمی لانے کے لیے مہم شروع کی گئی جس کا حتمی مقصد خواجہ سراؤں کی معدومی تھا۔ سنہ 1871 کے متنازعہ قانون کے مطابق انھیں ایک 'مجرم قبیلہ' سمجھا جاتا تھا۔

قانون نے پولیس کو اس کمیونٹی کی کڑی نگرانی کا اختیار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواجہ سراؤں کو عوامی مقامات پر رقص کرنے کی اجازت نہیں تھی

پولیس اہلکاروں نے خواجہ سراؤں کی ذاتی معلومات کا اندراج کرتے ہوئے انھیں 'مجرم اور جنسی تعلقات میں دلچسپی رکھنے والا' شخص قرار دیا۔ معلومات کا اندراج ان پر نگرانی رکھنے کا ایک ذریعہ تھا تا کہ مزید خواجہ سرا نہ پیدا ہو سکیں۔'

خواجہ سراؤں کو زنانہ ملبوسات اور زیورات پہننے یا عوامی مقامات پر رقص کرنے کی اجازت نہیں تھی اور اگر وہ حکم نہ مانتے تو ان کو جرمانہ کیا جاتا یا جیل میں ڈال دیا جاتا۔

پولیس ان کے لمبے بال کاٹ دیتی اور اگر انھوں نے خواتین کے ملبوسات یا زیورات پہنے ہوئے ہوتے تو ان کے کپڑے اور زیور اتار دیے جاتے۔ ڈاکٹر ہنچی کہتی ہیں کہ پولیس انھیں دھمکاتی اور ان پر ظلم کرتی لیکن پولیس تشدد کے طریقوں کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔'

خواجہ سرا برادری نے عوامی مقامات مثلاً میلوں میں رقص کرنے کے لیے پٹیشن دائر کی۔ ڈاکٹر ہنچی کے مطابق پٹیشن میں خواجہ سراؤں کے ناچ گانے پر پابندی لگانے سے معیشت کو پہنچنے والے بڑے نقصان کی طرف اشارہ کیا گیا۔ سنہ1870 کے وسط میں ضلع غازی پور کے خواجہ سراؤں نے شکایت کی کہ وہ فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر خواجہ سرا کسی لڑکے کے ساتھ رہ رہے ہوتے تو انھیں جرمانہ کیا جاتا۔

سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ حکام نے خواجہ سراؤں کے ساتھ رہنے والے بچوں کو یہ کہہ کر ان سے الگ کر دیا کہ وہ ان بچوں کو بدنامی کی زندگی سے بچا رہے ہیں۔ اگر خواجہ سرا کسی لڑکے کے ساتھ رہ رہے ہوتے تو انھیں جرمانہ کیا جاتا۔

ان میں سے کئی بچے دراصل چیلے تھے۔ باقی بچے یتیم، لے پالک یا بچپن میں غلامی کا شکار ہوئے تھے۔ ان میں سے کچھ ان موسیقاروں کے بچے ہوتے جو خواجہ سراؤں کے ساتھ گاتے بجاتے اور ان کے آس پاس رہائش پزیر ہوتے۔

کچھ خواجہ سرا ایسی بیواؤں کے ساتھ بھی رہتے جن کی اولاد ہوتی۔ برطانوی حکام بچوں کو وبا پھیلانے والے اور اخلاقی خطرے کے ذریعے کے طور پر دیکھتے۔

برطانوی حکمرانوں نے ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کرنا شروع کر دی جو خود کو دو صنفوں میں شمار نہیں کرتے تھے یعنی زنانہ کپڑے پہننے والے مرد جو پبلک مقامات پر رقص کرتے یا گاتے بجاتے، ایسے مرد جو تھیٹر میں خواتین کا کردار ادا کرتے ہیں یا وہ عقیدت مند مرد جو عورتوں کی طرز کے کپڑے پہنتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانوی اور امرا کا خواجہ سراؤں کے ساتھ رویہ ہندو عقیدے کی عکاسی کرتا تھا

ڈاکٹر ہنچی کا کہنا ہے کہ 'صنف کی پیروی نہ کرنے والے متنوع اقسام کے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اس قانون کا استعمال کیا جاتا۔'

کئی طریقوں سے برطانوی اور انگریزی بولنے والے انڈین امرا کا خواجہ سراؤں کے ساتھ رویہ ہندو عقیدے کی عکاسی کرتا تھا اور یہ بات سامراجی حکمرانوں کو ناگوار گزرتی تھی۔

اس تاریک تاریخ کے باوجود خواجہ سراؤں نے اپنی معدومیت کے خلاف ڈٹ کر پولیس کا سامنا کیا۔

ڈاکٹر ہنچی کہتی ہیں کہ وہ قانون توڑنے اور پولیس کو ٹالنے میں ماہر ہو گئے۔ انھوں نے اپنی برادری اور ذاتی زندگی میں ان ثقافتی سرگرمیوں کو زندہ رکھا جو غیرقانونی نہیں تھیں۔ انھیں اپنا مال چھپانے کی عادت ہو گئی تھی جس کی وجہ سے پولیس اسے ریکارڈ میں درج نہیں کر سکتی تھی۔

ان کی کامیابی اس بات سے واضع ہوتی ہے کہ خواجہ سرا کی وضاحت کرنے کے لیے 'بھٹکا ہوا اور شور شرابہ کرنے والا شخص' جیسے الفاظ استعمال ہونے کے باوجود جنوبی ایشیا کے عوامی مقامات پر، سیاست کے میدان میں اور سماجی کارکنون کے طور پر ان کی موجوگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

جنوبی ایشیا میں ان کے ساتھ کیے جانے والے امتیازی سلوک کے باوجود وہ شادیوں اور مختلف تقریبات میں رقص کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ ان کی کہانی بقا اور نظام کے سامنے ڈٹ جانے کی متاثرکن مثال ہے۔

اسی بارے میں