انڈیا: ڈھائی سال کی بچی کے قتل پر شدید ناراضگی

ٹپل گاؤں

انڈیا کے دارالحکومت دہلی سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر علی گڑھ ضلعے میں ٹپّل تحصیل کے لوگ بہت ناراض ہیں۔

یہاں کے لوگوں کو حیرت اور صدمہ ہے کہ کیسے کوئی شخص ایک ڈھائی سال کی بچی کو اغوا کرکے، اس کے جسم کے ٹکڑے کر کے، اس پر تیزاب ڈال کر اس کا قتل کر سکتا ہے، اور وہ بھی مبینہ طور پر چند ہزار روپے کے قرضے کے لیے۔

پایل (تبدیل شدہ نام) 30 مئی سے لاپتہ تھی۔ اس کی ماں نے بتایا کہ 'وہ صبح سے باہر کھیل رہی تھی اور صرف چند منٹ کے بعد ہم نے پایا کہ وہ وہاں نہیں ہے۔'

خاندان والوں، دوستوں اور رشتہ داروں نے ٹپل اور قریبی گاؤں میں پایل کو تلاش کیا، لیکن انھیں کہیں بھی اس کا سراغ نہیں ملا۔

پولیس نے گمشدگی کا معاملہ درج کر لیا گھر والوں نے پایل کی تلاش جاری رکھی۔ ہر شخص کو پتہ تھا فلاں گھر کی ایک ڈھائی سال کی شرارتی بچی غائب ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل نے کشمیر کو ہلا کر رکھ دیا

انڈیا: ہریانہ میں چھ سالہ بچی کا بہیمانہ ریپ اور قتل

Image caption لوگوں میں غم و غصہ نظر آ رہا تھا

بچی 30 مئی کو غائب ہوئي تھی اور دو جون صبح سات بجے چھایا (بدلا ہوا نام) لوگوں کے گھروں سے کوڑا اٹھا کر سر پر لاد کر نکل رہی تھی کہ انھیں لگا کہ تین کتے سڑک کے قریب کوڑے کے ڈھیر سے ایک بچے کے جسم کو کھینچ کر لے جا رہے ہیں۔

یہ کوڑے کا سب سے بڑا ڈھیر پایل کے گھر سے صرف 200 میٹر کے فاصلے پر ہے۔

ٹپل کی والمیکی بستی میں رہنے والی چھایا نے بی بی سی کو بتایا: میں زور سے چلائی کہ یہ کسی بچے کی لاش ہے اور منٹوں میں پورا گاؤں وہاں جمع ہو گیا۔'

جس نے بھی ننھی پایل کو اس حال میں دیکھا وہ رو پڑا۔

پایل کی ایک چچی نے بتایا: 'اس کی لاش کی بری حالت تھی، اس پر تیزاب ڈال دیا گیا تھا۔ میں اسے دیکھ بھی نہیں سکی۔

'اس کی شناخت ناممکن تھی۔ اس کے پیلے رنگ کے کچھے سے ہم نے اسے پہچانا۔'

ریپ کی تصدیق نہیں

پایل کی دادی رشتہ داروں میں گھری، زمین پر دیوار سے سر ٹکائے بیٹھی تھیں۔ انھوں نے کہا: 'وہ بہت شیطان تھی۔ بہت آہستہ بولتی تھی۔ لیکن بہت زیادہ بولتی تھی۔ وہ پانچ سال کی تپسیا (محنت اور دعا) کا پھل تھی۔'

ورشا (تبدیل شدہ نام) اور مکیش (نام تبدیل) کی بیٹی پایل بڑی منتوں اور علاج کے بعد پیدا ہوئي تھی۔

گھر کے باہر خیمے کے نیچے بیٹھے لوگ بہت ناراض تھے۔ کسی نے کہا کہ کوئی ڈھائی سال کی بچی کے ساتھ ایسا کس طرح کر سکتا ہے؟

پایل کے دادا نے مجرموں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بچی کا نام سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ کے ساتھ اجاگر کرنے سے تنازعات میں گھری علی گڑھ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک بچی کے ریپ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

قرض کا معاملہ

علی گڑھ پولیس کے سینئر آفیسر منی لال پٹیدار نے کہا کہ بظاہر تنازع قرض واپسی کا ہے لیکن تحقیقات جاری ہے۔

پولیس نے دو افراد زاہد اور اسلم کو گرفتار کر لیا ہے اور ان پر قومی سلامتی ایکٹ نافذ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

منیلال پٹيدار نے کہا: 'یہ ایسا معاملہ ہے جس سے لوگوں کے ذہنوں میں اپنے بچوں کی حفاظت کے تعلق سے تشویش پیدا ہوئی ہے۔ ہم نے دستاویزات کو جمع کرنا شروع کر دیا ہے اور انھیں منظوری کے لیے ہم انتظامیہ کے پاس بھیجیں گے۔'

گرفتار کیے جانے والے دونوں افراد پایل کے گھر کے قریب ہی رہتے تھے۔ پایل کی لاش جس کوڑے کے ڈھیر میں ملی وہ اس کے گھر کے قریب ہے۔

جب ہم زاہد کے گھر پہنچے تو گھر خالی پڑا تھا۔ دروازے بند کردیے گئے تھے۔ زاہد کے گھر میں کپڑے زمین پر بکھرے ہوئے تھے، آٹا باورچی خانے میں بکھرا ہوا تھا۔ اسلم کا گھر بھی بند تھا۔

پڑوسیوں نے بتایا کہ زاہد کی عمر 28-29 سال ہوگی اور اس کے دو تین بچے ہیں جبکہ اسلم 40 سے قریب ہے اور اس کے چار بچے ہیں۔

Image caption زاہد کا گھر

علاقے میں کشیدگی

جاٹ اکثریتی علاقے میں مسلمانوں کی تعداد کم ہے۔

زاہد کے گھر کے قریب رہنے والے رئیس خان ٹپل کے باہر کام کرتے ہیں اور عید کے موقعے پر گھر آئے ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں؛ 'چاہے ہندو ہو یا مسلم، کسی بھی بچے کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔‘

بعض لوگوں کو انتقامی کارروائی کا خدشہ ہے اور شاید اسی لیے علاقے میں چہار جانب پولیس تعینات ہے۔

Image caption اسلم کا گھر

ملزم نے دھمکی دی تھی

مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں لیکن یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ واقعے کی وجہ پایل کے دادا کی جانب سے زاہد کو دیا جانے والا قرض ہے۔

خاندان کے ایک قریبی رشتہ دار نے بتایا: 'پانچ سال پہلے، پایل کے دادا نے زاہد کو 50،000 روپے دیے تھے لیکن اس نے پورے پیسے نہیں لوٹائے۔

پایل کے دادا کے سوا کسی کو بھی اس قرض کا علم نہیں تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں