وایو طوفان: گجرات اور ڈیو میں ہائی الرٹ، لاکھوں افراد متاثر

نقل مکانی
Image caption لوگوں کو ساحلی علاقوں سے ہٹا کر محفوظ مقامات تک پہنچانے کا عمل شروع ہو گیا ہے

انڈیا کی وزارت داخلہ نے شدید سمندری طوفان 'وایو' کے خطرات کے پیش نظر انڈیا کی مغربی ساحلی ریاست گجرات اور جزیرہ ڈیو کے تین لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا حکم دیا ہے اور علاقے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

بحیرہ عرب سے اٹھنے والے اس طوفان کے بارے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ یہ جمعرات کی صبح گجرات کے ساحل سے ٹکرائے گا۔ اس دوران ہوا کے 100 سے 160 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح تک 'وایو' طوفان گوا کے ساحل سے 450 کلومیٹر، ممبئی سے 290 کلومیٹر اور گجرات کے ویراول سے 340 کلومیٹر دور تھا۔

اس طوفان کے اثرات سب سے زیادہ ڈیو، ویرل اور پوربندر کی بندرگاہ پر دیکھے جائیں گے تاہم پاکستان کے ساحلی علاقے بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ گجرات سے ہوتا ہوا پاکستان میں داخل ہوگا لیکن تب تک اس کی شدت میں کمی کا امکان ہے۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بندرگارہ پر موجود تمام بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق یہ طوفان 15 یا 16 جون کو کراچی اور انڈین ریاست کنڈالہ کے درمیان داخل ہو گا جس کے دوران تیز ہواؤوں کی رفتار 45 سے 88 ناٹ تک متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

انڈیا: طوفان فانی کے پیشِ نظر لاکھوں افراد کی نقل مکانی

سمندری طوفان :تقریباً 10 لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل

انڈیا: سمندری طوفان فانی سے نمٹنے کی کوششیں کامیاب

ریاستی حکومت نے بتایا ہے کہ اس طوفان سے ریاست کے دس اضلاع کے 408 گاؤں اور تقریباً 60 لاکھ افراد متاثر ہوں گے۔ یہ طوفان دو دن رہے گا جس کے پیش نظر ان اضلاع میں سکول کالج بند کر دیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANI
Image caption سمندر میں لہریں پیدا ہو رہی ہیں

بحیرہ عرب میں ہوا کا دباؤ بننے کی خاص وجہ سطح سمندر کے پانی کے درجۂ حرارت میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ سطح سمندر کے درجۂ حرارت میں اضافے سے آبی بخارات بن رہے ہیں جس سے گہرا دباؤ بن رہا ہے اور ہوا تیزی سے فضا میں بلند ہو رہی ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے طوفان کی سختی کا جائزہ لیا اور حکام سے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام مکنہ اقدامات کی بات کہی۔

قومی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) نے گجرات اور ڈیو میں مختلف مقامات پر اپنی 39 ٹیمیں تعینات کی ہیں جس میں ہر ایک ٹیم میں 45 افراد شامل ہیں۔

اس کے علاوہ فوج کی 34 ٹیمیں بھی تیار کھڑی ہیں۔ حکام کے مطابق انڈین کوسٹ گارڈ، بحریہ، فوج اور فضائیہ کی یونٹس کو بھی بوقت ضرورت تیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے جبکہ نگرانی کرنے والے ہیلی کاپٹر طوفان پر نظر رکھ رہے ہیں۔

بعض مقامات سے لوگوں کو ہٹانے کا عمل شروع ہو گیا ہے جنھیں مختلف مقامات پر قائم تقریباً 700 عارضی کیمپوں میں رکھا جائے گا۔

ریاست میں امریکی ضلع کے کلکٹر آیوش اوک نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ضلعے میں بھی لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کا کام شروع ہو گیا ہے۔

دریں اثناء ڈیو میں بارش شروع ہو گئی ہے۔

انڈیا میں مون سون کی دیر سے آمد کی وجہ سے بحیرۂ عرب میں ہوا کا دباؤ بنا ہے لیکن جنوبی ہند کی ریاست کیرالہ میں تیز مون سون کی بارش شروع ہو گئی ہے۔

پی ٹی آئی نے ہندوستان کے محکمۂ موسمیات کے حوالے سے بتایا ہے کہ ساحلی علاقوں میں تیز ہوا اور بارش کی وجہ سے پیڑ اکھڑ گئے ہیں اور متعدد گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو افراد جن میں ایک خاتون شامل ہے بجلی کے تار کے پانی میں گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے جبکہ ایک شخص پیڑ کے نیچے آ گیا۔

Image caption گجرات میں طوفان سے پہلے کا منظر

بہر حال تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ طوفان گذشتہ ماہ مشرقی ریاست اڑیسہ میں آنے والے 'فانی' طوفان سے زیادہ خطرناک نہیں ہوگا جس میں دو درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس بار طوفان کا نام انڈیا کے تجویز کردہ ناموں میں سے ایک ہے۔ ہندی میں 'ہوا' کو 'وایو' کہتے ہیں اور یہی اس طوفان کا نام ہے۔

اسی بارے میں