’خلیجِ عُمان میں ٹینکروں سے بارودی سرنگ ہٹانے کی ویڈیو‘، ایران کا انکار

عمان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خلیج عمان میں دو ٹینکروں کو جمعرات کو دھماکوں میں نقصان پہنچا تھا

امریکی فوج نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ارکان کو ایک ایسے تیل بردار بحری جہاز سے ایک نہ پھٹنے والی بارودی سرنگ ہٹاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بحری جہاز ان دو آئل ٹینکرز میں سے ایک ہے جو جمعرات کو خلیج عُمان میں ہونے والے دھماکوں میں متاثر ہوئے تھے۔

امریکی حکام نے جاپانی بحری جہاز کی ایک تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں بارودی سرنگ کو ہٹائے جانے سے قبل دیکھا جا سکتا ہے۔

دھماکوں میں متاثر ہونے والا دوسرا ٹینکر ناروے سے تعلق رکھتا ہے۔

امریکہ نے ان حملوں کے لیے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ ایران نے کہا ہے کہ وہ خلیجِ عُمان میں دو تیل کے ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کے بارے میں امریکی دعووں کو ’مکمل طور‘ پر مسترد کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

خلیج اومان میں ٹینکرز پر ’حملے کا ذمہ دار ایران‘

یو اے ای: بحری جہازوں پر حملوں میں ’ریاستی عنصر‘ ملوث

امریکہ: ایران سے بغیر کسی شرط کے بات چیت کرنے کے لیے تیار

جمعے کو اقوام متحدہ میں ایرانی نمائندے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے: ’ایران 13 جون کو ہونے والے ٹینکر حملوں سے متعلق امریکہ کے بے بنیاد دعووں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور سخت الفاظ میں اس کی مذمت کرتا ہے۔‘

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خلیجِ عُمان میں تیل کے ٹینکروں پر ’بلا اشتعال حملوں‘ کا الزام ایران پر عائد کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ US Govt

انھوں نے کہا ہے کہ امریکہ نے یہ اندازہ ان حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی قسم سے متعلق انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر لگایا ہے۔

اس سے قبل ایران کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جمعرات کی صبح ہونے والے دھماکوں سے ’ایران کا کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ عمان کی خلیج میں دو تیل کے ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کے بعد عملے کے درجنوں افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

جہاز رانی کی کمپنیوں کا کہنا تھا کہ کوکوکا کریجیئس ٹینکر جو کہ جاپان کی ملکیت ہے پر موجود 21 افراد جبکہ فرنٹ الٹیئر جو کہ ناروے کی ملکیت ہے پر موجود 23 افراد کو نکال لیا گیا ہے۔

ریاستی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران نے 44 افراد کو 'حادثے' کے بعد بچا لیا۔ تاہم حادثے کی وجہ کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

یہ واقعہ متحدہ عرب امارات کے قریب چار ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کے ٹھیک ایک ماہ بعد پیش آیا ہے۔

جمعرات کو ہونے والے اس واقعے کے بعد تیل کی قیمتوں میں چار فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پومپیو نے کیا کہا؟

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے مطابق امریکہ کا اندازہ ہے کہ ان حملوں کا ذمہ دار ایران ہے۔

انھوں نے یہ بات واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اندازہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔ جس قسم کے ہتھیار استعمال ہوئے، آپریشن کو کرنے کے لیے جس لیول کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، ایران نے حال ہی میں جہازوں پر اس سے مماثلت رکھتے حملے کیے ہیں، اور یہ حقیقت کہ اس علاقے میں کارروائیاں کرنے والے کسی پراکسی گروپ کے پاس اتنے وسائل اور مہارت نہیں کہ وہ اتنے اعلی پیمانے کا حملہ کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایران کی جانب سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات پر کیے جانے والے مسلسل حملوں میں تازہ ترین حملہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بلااشتعال حملے عالمی امن اور سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایران کی جانب سے کشیدگی کو بڑھانے کی ناقابل قبول مہم ہے۔

متحدہ عرب امارات نے ایک ماہ پہلے ہونے والے حملے کا الزام ریاستی عناصر پر ٹھہرایا تھا جس میں بحری بارودی سرنگیں بھی شامل تھیں۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں ایران ملوث ہے جبکہ تہران کی جانب سے یہ الزام مسترد کر دیا گیا تھا۔

ان حملوں کے پیشِ نظر ایران اور امریکہ اور خلیج میں موجود اس کے حامیوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً پانچ ماہ تک قیمتیں کم رہنے کے بعد جمعرات کو ہونے والے واقعہ کے بعد تیل کی قیمتوں میں تین اعشاریہ نو فیصد اضافہ ہوا۔

امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کے جوش فرے نے ایک بیان میں کہا 'علاقے میں موجود امریکی بحریہ کو دو الگ الگ پریشان کُن کالز موصول ہوئیں، ایک مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بج کر 12 منٹ پر اور دوسری صبح سات بجے۔

Image caption خلیج عُمان میں ٹینکرز کا محل وقوع

ان کا مزید کہنا تھا 'امریکی بحریہ کے بیڑے علاقے میں ہیں اور مدد فراہم کر رہے ہیں۔‘

فرنٹ الٹیئر کو چارٹر کرنے والے تائیوان کے ریاستی تیل ریفائنر سی پی سی کارپوریشن کے ترجمان وو آئی فینگ کا کہنا تھا کہ بیڑا 75000 ٹن نیفتھا لے جا رہا تھا اور شک کیا جا رہا ہے کہ اس پر 'تارپیڈو سے حملہ کیا گیا'۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی۔

کوکوکا کریجیئس کی مالک کمپنی بی ایس ایم شپ منیجمنٹ کا کہنا ہے کہ جہاز کے عملے کو پاس سے گزرتے ہوئے ایک بیڑے نے بچا لیا۔

ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ کوکوکا کریجیئس ٹینکر میتھانول لے جا رہا تھا اور اس کے ڈوبنے کا خدشہ نہیں تھا۔

یہ ٹینکر متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ سے 80 میل جبکہ ایران سے 16 میل دور تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی طرف سخت رویہ اختیار کیا ہوا ہے اور مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے والی قوت کا الزام بھی ایران کو دیا ہے۔

امریکہ کے مطابق امریکی فورسز پر ایسے عناصر کی طرف سے حملہ کرنے کا خدشہ تھا جس کی پشت پناہی ایران کر رہا ہے۔ اس خدشے کے پیشِ نظر مئی کی شروعات میں امریکہ نے علاقے میں طیارہ بردار بیڑا اور B-52 بومبرز بھیجے۔

عالمی ردعمل

تصویر کے کاپی رائٹ FREDERICK A TERRY/ARTJOM LOFITSKI

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے جمعرات کو ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ دنیا خلیج میں بڑے تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

یورپی یونین نے حد درجے تک تحمل سے کام لینے کو کہا ہے جب کہ روس نے کہا ہے کہ کسی کو بھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے یا پھر اس واقعے کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

جمعرات کو ہی اس معاملے پر سکیورٹی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں بھی بات چیت ہونا متوقع ہے۔

ٹینکر ایسوسی ایشن، انٹر ٹینکو کے چیئرمین پاؤلو ڈی امیکو نے کہا ہے کہ ٹینکروں پر حملہ دیگر عملوں کے لیے بھی خطر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ پانی غیر محفوظ ہے تو پوری مغربی دنیا کو تیل کی فراہمی خطرے میں ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں