بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والوں کے لیے نہ دلیل، نہ وکیل نہ اپیل

فوجی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 30 سالہ شورش کے دوران کم از کم 25000 افراد کو پبلک سیفٹی ایکٹ یا پی ایس اے کے تحت قید کیا گیا۔

یہ قانون 42 سال قبل اُس وقت کی حکومت نے جنگل سے عمارتی لکڑی چُرانے والوں کے خلاف بنایا گیا تھا لیکن اسے سیاسی مخالفین کو قید کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

اس قانون کے تحت کوئی بھی پولیس اہلکار کسی بھی شہری کو گھر یا باہر سے محض شک کی بنیاد پر گرفتار کر سکتا ہے اور گرفتار کیے گئے شہری کے اہل خانہ کو اطلاع نہیں دی جاتی نہ ہی اسے قانونی امداد حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

پی ایس اے کے تحت بغیر عدالتی سماعت کے کم سے کم دو سال تک کسی کو بھی بلا لحاظ عمر قید کیا جا سکتا ہے۔ متعدد کمسن بچوں کو بھی اب تک اس قانون کے تحت قید کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر: ریاست کے پاس کوئی راستہ نہیں

کشمیریوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا؟

’کشمیر کے علاوہ ایسا صرف اسرائیل میں ہوتا ہے‘

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر: بچپن جو چھروں کی نذر ہوئے

آٹھ سال قبل ایمنسٹی نے اس قانون کو 'لا لیس لا' یعنی غیر قانونی قانون قرار دے کر اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

قانون تو ختم نہیں ہوا البتہ حکومت نے اس میں ترمیم کی کہ اس قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر کے شہری کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 44 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق یہ قانون مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کا باعث بن رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صحافی پرویز احمد کے مطابق صرف گزشتہ چھہ ماہ کے دوران پی ایس اے کے تحت گرفتاری کے 500 معاملات رپورٹ ہوئے۔

واضح رہے کہ اس ادارے نے ایک پریس کانفرنس میں یہ رپورٹ جاری کرنے کا اہتمام کیا تھا مگر پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی اور بعد میں یہ رپورٹ صحافیوں کو ای میل کی گئی۔

ایمنسٹی کی رپورٹ میں ایسے 210 معاملوں کا تجزیہ کیا گیا ہے جن میں جسمانی طور پر معذور اور عمررسیدہ شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔

تنظیم کے مقامی کو آرڈینیٹر ظہور وانی کہتے ہیں کہ پی ایس اے کو کچھ اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ عدالتوں کی طرف سے قیدی کی رہائی کے احکامات کے باوجود پولیس قیدی کو دوبارہ پی ایس اے کے تحت گرفتار کر سکتی ہے۔

طریقہ کار یہ ہے کہ پولیس پہلے مشکوک افراد کی شناخت کرتی ہے، پھر انھیں گرفتار کیا جاتا ہے اور الزامات کی فہرست تیار کر کے ضلع مجسٹریٹ کو دی جاتی ہے جو پولیس کی چارج شیٹ پر ہی پی ایس اے کا حکم صادر کرتا ہے۔

یہ الزامات اکثر خیالی اور مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر دو سال قبل نثار احمد نجار نامی کشمیری نوجوان کے خلاف یہ الزام تھا کہ وہ شعلہ بیان مقرر ہیں اور ان کی تقریروں سے نوجوانوں میں حکومت مخالف جذبات پروان چڑھتے ہیں اور بعد میں وہ پرتشدد مظاہرے کرتے ہیں۔

ان پر لگے پی ایس اے کو عدالت نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ پولیس نے اُن نوجوانوں کی تفصیل نہیں دی ہے جو نثار کی تقریروں سے ’گمراہ‘ ہو چکے تھے۔

بارہمولہ کے تنویر احمد ڈار پولیو کے مریض ہیں اور بیساکھی کے سہارے چلتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں گرفتار کیا گیا تو وہ تھانے کے غسل خانے میں گر پڑے اور ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ پولیس نے ان کا علاج معالجہ کیا لیکن اُن کی بیوی سے اس کے پیسے وصول کیے۔

تنویرکہتے ہیں ’گرفتاری سے قبل میں نے تجارت کے لیے بینک سے قرض لیا تھا، لیکن میں وہ ادا نہ کر سکا جس کے نتیجہ میں میری بیوی کو زیورات بیچنے پڑے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

75 سالہ محمد سبحان وانی کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کر کے جیل کی 6x6 کال کوٹھری میں رکھا گیا اور اس دوران جب ان کے بیٹوں نے قانونی چارہ جوئی کی کوشش کی تو انھیں بھی باری باری پی ایس اے کے تحت قید کیا گیا۔

واضح رہے اگر حکومت کسی شہری، سیاسی کارکن یا سماجی رضاکار کو طویل مدت کے لیے جیل میں بغیر عدالتی سماعت رکھنا چاہے تو اس پر پی ایس اے کا اطلاق کیا جاتا ہے۔

لیکن سرینگر میں دفتر داخلہ کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ پولیس کی چارج شیٹ کا مجسڑیٹ سطح پر باریک بینی سے تجزیہ کرنے کے بعد ہی کسی شخص پر پی ایس اے کا اطلاق ہوتا ہے۔

تاہم سیاسی حلقے اعتراف کرتے ہیں کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حالیہ انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو وہ پی ایس اے کا قانون ختم کر دیں گے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پی ایس اے اُن عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے جن پر بھارت نے بھی دستخط کیے ہیں۔

تنظیم کے بھارت میں سربراہ آکار پٹیل نے رپورٹ میں کہا ہے کہ کشمیر میں انتخابات کے بعد جو نئی حکومت وجود میں آئے گی اس پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس قانون کے غیر انسانی پہلوؤں کو ختم کر کے انسانی حقوق سے متعلق جوابدہی، شفافیت اور وقار کو بحال کرے۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ نابالغ افراد پر اس قانون کا اطلاق نہ ہو، قیدیوں کو گھر کے قریب جیل میں رکھا جائے اور انھیں قانونی چارہ جوئی کی سہولت فراہم کی جائے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ فی الوقت جو بھی پی ایس اے کے تحت گرفتار ہوتا ہے اس کے لیے دلیل، وکیل یا اپیل کوئی معنی نہیں رکھتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں