انڈیا کی ریاست بہار میں دماغی بخار سے سو سے زیادہ بچے ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ بچہ دماغی بخار میں مبتلا ہے

انڈیا کی ریاست بہار میں حکام کا کہنا ہے کہ اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم (اے ای ایس) یعنی شدید دماغی بخار سے سو سے زیادہ بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔

ریاست کے دو بڑے ہسپتالوں میں ابھی بھی دو سو سے زیادہ مریض زیر علاج ہیں ان میں بہت سے بچے ایسے ہیں جن کی عمر دس برس سے کم ہے۔

ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر اموات 'ہائپوگلیسیمیا' یعنی خون میں شوگر کی مقدار بے حد کم ہونے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

دماغی بخار کا پہلا معاملہ انیس سو ستر میں سامنے آیا تھا اور تب سے بہار اور اترپریش میں اس بخار سے ہزاروں بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔

ریاستی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ مریضوں کے علاج کا سارا خرچ خود اٹھائی گی۔

وہیں وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ وہ متاثرین کے علاج اور ان کے خاندان کی مدد کے لیے اپنا پورا تعاون فراہم کرے گی۔

جون کے مہینے میں شروع ہونے والی اس بیماری سے سب سے زیادہ ہلاکتیں بہار کے مظفرپور علاقے میں ہوئی ہیں۔

یہ بیماری اکثر مون سون کے موسم میں پھیلتی ہے اور اس سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں انیس سو ستر سے اب تک ہزاروں بچے دماغی بخار سے ہلاک ہوچکے ہیں

دو ہزار پانچ تک ڈاکٹروں کا یہ موقف تھا کہ بیشتر اموات جاپانی انسیفلائٹس یعنی جاپانی دماغی بخار سے ہوتی ہیں جو مچھروں کے کانٹے سے ہوتا ہے۔

لیکن گزشتہ تقریبا دس برسوں سے بچے دیگر وائرل دماغی بخار سے مر رہے ہیں جس کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔

اس بخار میں پہلے سر میں درد ہوتا ہے اور الٹی ہوتی ہے ۔ اس کے بعد مریض کوما میں چلا جاتا ہے ، دماغ ناکارہ ہوجاتا ہے اور دل اور گردوں پر سوجن آ جاتی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے سب سے زیادہ چھ ماہ سے لے کر پندرہ برس تک کی عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں اور جو بچے علاج کے بعد بچ جاتے ہیں وہ تا عمر دماغی کمزوری کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔

' مجھے صرف یہ پتہ ہے کہ میری بچی کل تک بالکل ٹھیک تھی'

مظفر پور کے شری کرشنا میڈیکل کالج کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) کے دروازوں سے اندر سے آنے والی چیخیں وہاں موجود لوگوں کو اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ جو بچے کل تک صحت مند تھے وہ اب یا تو نازک حالت میں ہیں یا وفات پا چکے ہیں۔

بابیا دیوی اس واڑد کے ایک کونے میں بستر پر پڑی اپنی پانچ سالہ بچی کی حالت دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی ہیں۔

انہیں اب یقین ہو چلا ہے کہ ان کی بیٹی یہاں سے زندہ نہیں جائے گی۔

'ڈاکٹر اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ میری بچی منی نہیں بچے گی۔ مجھے نہیں معلوم میری بچی کو کیا ہوا ہے کیونکہ کل تک وہ ہنس کھیل رہی تھی'۔

نہ ان ڈاکٹروں کو یہ معلوم ہے کہ منی کو ہوا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہسپتال میں اموات: 'ایک کے اوپر ایک لاش پڑی تھی'

آجکل بیماریاں پھیلانے والے مہلک ترین وائرس

انڈیا: گورکھ پور میں دو روز میں 42 بچے ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بہار اور اترپردیش میں ماضی بھی بچے دماغی بخار کا شکار بنتے رہے ہیں

ڈاکٹر پورے یقین کے ساتھ یہ نہیں کہ سکتے کہ کیا واقعی منی دماغی بخار سے اس حال تک پہنچی ہے۔

یہی حال مظفر پور کے دوسرے ہسپتال میں زیر علاج چار سالہ تمنا خاتون کا ہے۔

ان کی والدہ روبی خاتون روتے ہوئے بتاتی ہیں 'گزشتہ دو دنوں میں اس ہسپتال میں کوئی بھی بچہ ٹھیک نہیں ہوا ہے۔ سب کی موت ہوگئی ہے'۔

' کیا میں اتنی تکلیف اٹھا کر اپنی بچی کو یہاں اس لیے لائی تھی کہ میں اسے اس طرح مرتے ہوئے دیکھوں'۔

بچوں کی اموات کے بارے میں ڈاکٹر مالا کانیریا نے بی بی سی ہندی کی پرینکا دوبے کو بتایا 'یہ بات یقین کے ساتھ کہنا ابھی بھی مشکل ہے کہ یہ بچے دماغی بخار سے مر رہے ہیں کیونکہ ان اموات کے پیچھے متعدد ديگر وجوہات ہو سکتی ہیں'۔

ان کا مزید کہنا تھا 'خوراک کی کمی اور خون میں چینی اور نمک کا صحیح توازن نہ ہونا بھی ان اموات کی وجہ ہوسکتا ہے۔‘

ڈاکٹر کانیریا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان اموات کی ایک وجہ خالی پیٹ پر لیچی کھانا بھی ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹروں کے علاوہ خود ریاستی حکومت بھی یہ کہ چکی ہے کہ لیچی ان اموات کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

لیچی کے بیج میں میتھائلین پروپائیڈ گلائسین ( ایم سی پی جی) کی موجودگی جسم میں گلوکوز کو بننے سے روکتی ہے اور جو بچے پہلے سے کمزور ہیں اور یا جن کے خون میں شوگر کم ہے وہ اس کا نشانہ بنتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Empics
Image caption ان اموات کے پیچھے ایک وجہ خالی پیٹ لیچی کھانا بھی بتایا جا رہا ہے

جن بچوں کی اموات ہوئیں ان میں سے بعض ایسے تھے جن کو رات کا کھانا میسر نہیں تھا اور ان کا شوگر لیول کم تھا۔

ان اموات کے پیچھے لیچی کھانے کی بات پر کسان ناراض ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس بیماری کا صحیح اندازہ نہیں لگا پارہی ہے اور اس کے لیے لیچی کو ذمہ دار ٹھہرانا آسان ہے۔

'بہار لیچی گروؤر ایسوسی ایشن' کے بچا پرساد سنگھ کو لگتا ہے کہ لیچی کو ان اموات کا ذمہ دار اس لیے ٹھہرایا جارہا ہے کیونکہ اس دماغی بخار کی وجہ سے بچوں کی اموات اور لیچی کی فصل کا وقت ایک ہی ہے۔

'اگر لیچی کھانے سے بچے مرتے تو بڑے شہروں کے گھروں کے بچے بھی مرتے لیکن ایسا تو نہیں ہے۔ صرف غریب گھروں کے خوراک کی کمی کا شکار بچے ہی متاثر ہو رہے ہیں'۔

بہار میں بڑے پیمانے پر لیچی پیدا ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف گرمیوں کے شروع کے پندرہ دنوں میں یہاں ڈھائی لاکھ ٹن سے زیادہ لیچی پیدا ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوراً اس بیماری کی صحیح اور پختہ وجوہات کے بارے میں جاننے کی کوشش کرے تاکہ مستقبل میں لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔

واضح رہے کہ سنہ دوہزار بارہ میں اترپردیش میں اس بخار سے 390 اموات ہوئی تھیں جن میں بیشتر بچے تھے۔ اس بیماری سے متاثر تقریبا دو ہزار افراد کو ہسپتال داخل کرایا گیا تھا۔

2011 میں شمالی اتر پردیش میں 460 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں بیشتر بچے تھے۔

2005 میں شمالی اترپردیش کے علاقے گورکھپور میں جاپانی دماغی بخار کی زد میں آکر ایک ہزار افراد کی موت ہوئی تھی جن میں بیشتر بچے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں