انڈیا کی مسلم رکن پارلیمان کی حلف بردای پر ’جے شری رام‘ کے نعرے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسد الدین اویسی نے اردو میں اپنے عہدے کا حلف لیا

انڈیا کی 17ویں لوک سبھا کے پہلے اجلاس کے دوسرے دن مسلم اراکین پارلیمان کی حلف برداری کے دوران ’جے شری رام‘ اور ’مندر وہیں بنے گا‘ کے نعرے بلند کیے گئے۔ اور پارلیمان میں جے شری رام کے ساتھ ساتھ اللہ اکبر کے نعرے بھی لگائے گئے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے۔

منگل کے روز جب حیدارآباد سے رکن پالیمان اسد الدین اویسی نے حلف اٹھایا تو اس دوران کچھ اراکین پارلیمان نے جے شری رام اور وندے ماترم کے نعرے لگائے۔ اس دوران اویسی نے ہاتھ کا اشارہ کر کے اور زور سے نعرے لگانے کے لیے کہا۔

یہ بھی پڑھیے

کیوں بھئی،انڈین مسلمان پاکستانی ہیں کیا؟

مسلمان بھی ہجومی تشدد میں کسی سے کم نہیں

انڈیا: مسلمان اپنی نماز کا انتظام خود کریں

’موسیقی پر تنازع‘، مسلمان نوجوان کو مار ڈالا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسد الدین اویسی نے حلف برداری کے بعد ’اللہ اکبر‘ اور ’جے بھیم‘ کے نعرے لگائے

اویسی نے خالص اردو میں حلف اٹھایا اور حلف برداری کے بعد اویسی نے ’جے بھیم، اللہ اکبر اور جے ہند‘ کے نعرے لگائے۔ اس دوران ترنمول کانگریس یعنی ٹی ایم سی کے ابو ظاہر خان، رکن پارلیمان خلیل الرحمان نے بھی حلف لینے سے پہلے بسم اللہ پڑھی جبکہ ایک خاتون رکن پالیمان زور زور سے ’جے ماں کالی‘ کا نعرہ بلند کرتی حلف لینے پہنچیں۔

حلف برداری کے بعد پارلیمان کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اویسی کا کہنا تھا کہ امید کرتا ہوں کہ ان نعروں کے ساتھ ساتھ یہ لوگ آئین کی پاسداری اور مظفر پور میں ہلاک ہونے والے بچوں کو بھی یاد رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس، تفتیشی ادارے اعتبار کھو رہے ہیں

انڈیا: ٹرین میں ایک اور مسلم خاندان پر حملہ

’گائے کا گوشت کھانے پر مسلمان لڑکوں کو نشانہ بنایا‘

پارلیمان میں حلف برداری کی اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی اور بہت سے لوگوں نے اسے غیر جمہوری قرار دیا۔

ممتاز صحافی برکھا دت نے لکھا ’وندے ماترم گانا فرقہ پرستی نہیں لیکن اگر مسلم رہنماؤں کی حلف برداری میں یہ نعرہ بلند کیا جائِے تو یہ فرقہ پرستی ہوگی۔‘ برکھا دت نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ’اسے بھگوان رام کے نام کو بدنام کرنے کے مترادف کہا جائے گا‘۔

ٹوئٹر پر ایک صارف نازیہ اِرم لکھتی ہیں کہ یہ اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور دھمکانے کے مترادف ہے۔ اگر پارلیمان میں اقلیتوں کو کھلے عام ہراساں کرنے کی ایسی مثالیں قائم ہوں گی تو اس سے ملک کے حالات مزید خراب ہوتے جائیں گے۔

ایک سماجی اور سیاسی کارکن سودھیندر کلکرنی پارلیمان میں جے شری رام کے نعروں پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’یہ انڈیا، انڈیا کے مسلمانوں، جمہوریت، آئین اور خود بھگوان رام کی بے حرمتی ہے۔‘

اسی بارے میں