صدر ٹرمپ: ’ایرانی صدر کا بیان احمقانہ اور تضحیک آمیز ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی صدر حسن روحانی کے اُس بیان کو 'احمقانہ اور تضحیک آمیز' قرار دیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس 'ذہنی بیمار' ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت حقیقت کو نہیں سمجھ رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو ایران پر یہ کہہ کر اضافی پابندیاں عائد کر دی تھیں کہ یہ ایران کے جارحانہ رویے کا جواب ہیں۔

ان پابندیوں کی زد میں کئی افراد بھی آئے ہیں جن میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حسن روحانی نے صدر ٹرمپ کی پالیسی کو جنجھلاہٹ کا نتیجہ قرار ہے

امریکہ کا الزام ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو دولت کے ایک بڑے ذخیرے تک رسائی حاصل ہے جس کے ذریعے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی مالی معاونت کی جاتی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مائک پومپیو کے مطابق یہ دولت کم از کم 95 ارب ڈالر ہے۔

اس سے پہلے صدر حسن روحانی نے حالیہ امریکی پابندیوں پر اپنے ردِعمل میں کہا تھا کہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ جھوٹ بول رہا ہے کہ وہ مذاکرات چاہتا ہے۔

حسن روحانی نے صدر ٹرمپ کی پالیسی کو جنجھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کو 'ذہنی بیمار' کہا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ رہبرِ اعلیٰ کے خلاف پابندیاں بے کار ثابت ہوں گی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ ان کے وزیرِ خارجہ کو نشانہ بنا رہے ہیں وہ سفارت کاری کا راستہ بند کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای پر امریکی پابندیاں

امریکہ، ایران اور خلیج: آگے کیا ہو سکتا ہے؟

متعدد ایئر لائنز کا ایرانی فضائی حدود سے گریز

امریکہ کے ایران پر حملے کا پاکستان کے لیے کیا مطلب ہو گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں

نئی امریکی پابندیوں کی زد میں کون ہو گا؟

کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ پابندیاں بڑی حد تک علامتی ہیں۔ لیکن امریکہ کے محکمۂ خزانہ کا کہنا ہے کہ ان سے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد ہو جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے آیت اللہ خامنہ ای، ان کا دفتر اور وہ افراد جن کا ان سے قریبی تعلق ہے اہم مالی وسائل سے محروم ہو جائیں گے۔

گزشتہ ہفتے ایرانی فورسز نے ایک امریکی ’جاسوس‘ ڈرون کو جنوبی صوبے ہرمزگان کے علاقے کوہِ مبارک کے نزدیک ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر مار گرایا تھا۔

بعد میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی تھی کہ ایران نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے امریکی بحریہ کا ڈرون گرا دیا ہے۔

امریکہ کا اصرار ہے کہ اس کا ڈرون بین الاقوامی حدود میں پرواز کر رہا تھا۔

امریکہ نے خلیجِ عمان میں تیل کے ٹینکروں پر حملوں کا الزام بھی ایران پر عائد کیا تھا جبکہ ایران نے اس الزام کو رد کر دیا تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں گزشتہ برس مئی میں اس وقت اضافہ ہوا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان سنہ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکال لیا تھا۔

اس کے بعد امریکہ نے ایران پر اقتصادی پابندیاں لگانے کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا اور جوہری معاہدے پر نئے سرے سے مذاکرات کے لیے ایران پر دباؤ بڑھانا شروع کیا۔

گزشتہ مہینے صدر ٹرمپ نے ان ممالک پر بھی دباؤ بڑھایا تھا جو امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل خرید رہے ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کی آمدنی کے بڑے ذرائع روکنا چاہتے ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے ردِعمل میں اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک جوہری معاہدے کے کچھ حصوں سے انحراف کرے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ایران یورینیم کی افزدوگی کو اس سطح سے اوپر لے جا سکتا ہے جو جوہری معاہدے میں طے کی گئی تھی۔

افزودہ یورینیم جوہری ری ایکٹر میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور اس سے ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں