جبرالٹر میں ایرانی آئل ٹینکر: ’دھونس جمانے والوں کو بلاجھجک جواب دینا آتا ہے‘

آئل ٹینکر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایران کی شوریٰ کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہا اگر لندن ایران کے چار جولائی کو پکڑے جانے والے سپر ٹینکر کو نہیں چھوڑتا تو تہران کو بھی ایک برطانوی آئل ٹینکر پکڑ لینا چاہیے۔

محسن رضائی نے پانچ جولائی کو کی جانے والی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایران نے ’کبھی کوئی تنازع شروع نہیں کیا لیکن اسے ’دھونس جمانے والوں کو بغیر کسی جھجھک کے جواب دینا آتا ہے۔‘

پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکر نہ چھوڑے جانے کی صورت میں یہ متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ جواب دیں اور برطانوی تیل بردار جہاز کو پکڑ لیں۔

چار جولائی کو جبرالٹر میں برطانیہ کے رائل میرینز نے گریس 1 نامی ایرانی سپر ٹینکر کو تحویل میں لے لیاتھا۔ برطانوی بحریہ کے مطابق انھیں خدشہ تھا کہ یہ ٹینکر خام تیل شام لے جا رہا ہے جو یورپی یونین کی دمشق پر لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔

اس سے قبل ایران نے آئل ٹینکر تحویل میں لیے جانے پر احتجاج کے لیے تہران میں برطانیہ کے سفیر کو طلب کیا تھا۔

برطانوی رائل میرینز نے جبرالٹر میں حکام کو ایرانی جہاز ضبط کرنے میں مدد اس لیے کی کیونکہ ان کے پاس ثبوت تھا کہ وہ یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کی جانب گامزن تھا۔

یہ بھی پڑھیے

یو اے ای: بحری جہازوں پر حملوں میں ’ریاستی عنصر‘ ملوث

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای پر امریکی پابندیاں

پومپیو: امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا ہے

سپین کے قائم مقام وزیر خارجہ کے مطابق ’گریس ون‘ جہاز کو امریکہ کی درخواست پر تحویل میں لیا گیا تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان اقدامات کو ’بحری قزاقی کی ایک قسم‘ قرار دیا ہے۔

جمعرات کی صبح جبرالٹر کی بندرگاہ پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے میرینز کی مدد سے ایرانی آئل ٹینکر کو تحویل میں لیا تھا۔

بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ 30 میرینز کی ایک ٹیم جبرالٹر کی حکومت کی درخواست پر برطانیہ سے گئی تھی۔

دفاعی ذرائع کے مطابق یہ ’نسبتاً مہربان آپریشن‘ تھا جس میں کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔

تاہم ایرانی وزارت خارجہ عباس موسوی نے بتایا ہے کہ تہران میں برطانوی سفیر رابرٹ میکائر کو ’ٹینکر کو غیر قانونی طور پر تحویل ‘میں لینے پر طلب کیا گیا تھا۔

ایران کے ٹی وی چینل کو دیے جانے والے ایک مختصر انٹرویو میں عباس موسوی نے کہا کہ ٹینکر کو تحویل میں لینا ’بحری لوٹ مار کی ایک قسم‘ ہے اور اس کی کوئی قانونی یا بین الاقوامی بنیاد نہیں ہے۔ انھوں نے ٹینکر کو فوری طور پر چھوڑے جانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اپنا سفر جاری رکھ سکے۔

انھوں نے مزید کہا ’یہ اقدام اشارہ کرتا ہے کہ برطانیہ امریکہ کی دشمنی کی بنیاد پر قائم پالیسیوں کی پیروی کرتا ہے جو کہ ایرانی عوام اور حکومت کے لیے ناقابل قبول ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار جاناتھن بیال کے مطابق جہاں برطانیہ یہ رائے دیتا ہے کہ یہ کارروائی جبرالٹر حکومت کی جانب سے کی گئی وہیں ایسا لگتا ہے کہ اس کے لیے انٹیلیجنس امریکہ سے آئی تھی۔

سپین کے قائم مقام وزیر خارجہ جوزف بوریل نے کہا ہے کہ سپین اس کارروائی کے نتائج کا جائزہ لے رہا تھا، اور یہ بھی کہا کہ یہ ’برطانیہ کو امریکہ کے ایک مطالبے‘ کی پیروی تھی۔

واضح رہے کہ سپین جبرالٹر کی برطانوی ملکیت سے اختلاف کرتا ہے۔

تاہم امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ ٹینکر کی تحویل ’شاندار خبر‘ تھی۔ انھوں نے کہا کہ شام کے لیے تیل سے بھرا ٹینکر یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی تہران اور دمشق کی حکومتوں کو اس غیر قانونی تجارت سے فائدہ اٹھانے سے روکتے رہیں گے۔

برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ جیریمی ہنٹ نے کہا ہے کہ جبرالٹر کے حکام اور شاہی بحری جہازوں کی فوری کارروائی شام کے صدر بشارالاسد کی ’قاتل حکومت‘ کے قیمتی وسائل سے انکاری ہے.

جبرالٹر کے حکام نے کہا ہے کہ اس بات پر یقین کرنے کی وجہ ہے کہ یہ جہاز شام کے شہر ٹارٹس کی بندرگاہ پر قائم بینیاس ریفائنری کے لیے خام تیل لے کر جا رہا تھا۔

یہ آئل ریفائنری شام کی وزارت پیٹرولیم کا ایک حصہ ہے۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یہ ریفائنری شامی حکومت کی مالی مدد کرتی ہے۔

واضح رہے کہ اس ریفائنری کو سنہ 2014 سے یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ ایران کشیدگی

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو رکوانے کے لیے بین الاقوامی معاہدے سے یکطرفہ طور پر علحیدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اس معاہدے پر سنہ 2015 میں اقوامِ متحدہ سمیت امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے دستخط کیے تھے۔ معاہدے میں طے پایا تھا کہ ایران اپنے جوہری منصوبے کو کم تر درجے تک لے جائے گا اور صرف 3 فیصد یورینیم افزودہ کرسکے گا۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے اور پابندیوں کی بحالی کے اعلان کے جواب میں ایران نے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا تھا۔ یہ یورینیم جوہری بجلی گھروں میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے لیکن اسے جوہری بموں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ کی جوہری معاہدے سے علیحدگی اور پابندیوں کی بحالی کے اعلان کے جواب میں ایران نے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا تھا

امریکہ گزشتہ ماہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو پہچنے والے نقصان کا الزام ایران پر عائد کرتا ہے جبکہ ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ایران نے کچھ روز قبل فضائی حدود کی حلاف ورزی پر امریکہ کا بغیر پائلٹ کے ایک ڈرون بھی مار گرایا تھا۔ جس پر امریکی صدر ذونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ ’ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔‘

برطانیہ کے اس بیان کے بعد کہ جون میں آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کی ذمہ دار یقینی طور پر ایرانی حکومت ہے، ایران اور برطانیہ کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہونے لگا ہے۔

برطانیہ ایران پر دوہری شہریت رکھنے والی نازنین زغاری ریٹکلف کی رہائی کے لیے بھی دباؤ ڈال رہا ہے جن کو سنہ 2016 میں جاسوسی کے الزامات میں پانچ سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی تاہم وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات سے انکاری ہیں۔

اسی بارے میں