اویغور مسلمان: چینی سفیر نے بی بی سی کی اس رپورٹ کی تردید کی ہے کہ مسلمان بچوں کو والدین سے جدا کیا جا رہا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنکیانگ میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق تمام بچے اب ایسے سکولوں میں تعلیم حاصل کریں گے جن کا 'انتظام انتہائی الگ تھلگ انداز میں چلایا جاتا ہے‘

برطانیہ میں تعینات چینی سفیر نے اس بات کی تردید کی ہے کہ مشرقی سنکیانگ میں ایک منظم طریقے سے مسلمان بچوں کو زبردستی ان کے والدین سے الگ کیا جارہا ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ سے معلوم ہوا تھا کہ مسلمان اویغر برادری سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں بچوں کے والدین کو زیر حراست رکھا جا رہا ہے۔

اور یہ بھی کہ چین میں ان بچوں کے لیے وسیع پیمانے پر بورڈنگ سکول بنائے جارہے ہیں۔

ناقدین کا خیال ہے کہ ایسا اس لیے کیا جارہا تاکہ یہ بچے مسلمان برادری سے دور رہیں۔

لیکن برطانیہ میں چین کے سفیر لیو شیومِنگ نے اس بات کی تردید کی ہے۔

بی بی سی کے اینڈریو مار شو پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'کوئی بھی بچہ اپنے والدین سے الگ نہیں کیا گیا، ہر گز نہیں۔ اگر آپ ایسے لوگوں کو جانتے ہیں تو مجھے ان کے نام دیں، ہم ان کا پتہ لگانے کی کوشش کریں گے۔'

یہ بھی پڑھیے

’چین میں ہزاروں بچے والدین سے جدا کیے جا رہے ہیں‘

چین: مسلمانوں کی گرفتاریوں کی خبریں بے بنیاد ہیں

پاک چین ’غیر قانونی شادیوں‘ پر چین کی وارننگ

انھوں نے مزید کہا کہ جن والدین نے بی بی سی سے بات کی ہے وہ 'حکومت مخالف' لوگ ہیں۔

بی بی سی نے اس سلسلے میں ٹھوس ثبوت اکٹھے کیے ہیں جن کی بنیاد عوامی سطح پر دستیاب دستاویزات ہیں اور انھیں بیرون ملک مقیم افراد نے اپنی شہادتوں سے مزید سہارا دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق صرف ایک شہر میں ہی 400 سے زیادہ بچوں کو اپنے والدین سے الگ کیا گیا ہے۔ ان والدین کو کیمپوں یا جیلوں میں زیرِ حراست رکھا گیا ہے۔

چینی حکام کی موقف ہے کہ اویغر مسلمانوں کو مختلف شعبوں میں 'پیشہ ورانہ تعلیم' دی جارہی ہے اور اس کا مقصد شدت پسندی سے نمٹنا ہے۔

تاہم اگر اکھٹے کیے گئے ثبوتوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ پتہ لگتا ہے کہ لوگوں کو صرف اپنے مذہب کے اظہار، جیسے نماز پڑھنے یا نقاب کرنے، یا دوسرے ممالک جیسے ترکی میں بسنے والوں سے تعلقات رکھنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔

کچھ مواقعوں پر بڑی عمر کے افراد کے قید خانوں کے قریب بچوں کے سکول یعنی کنڈر گارڈن سکول بھی بنائے گئے ہیں جن کے چینی سرکاری میڈیا گُن گاتا ہے۔

اویغور مسلمانوں پر بی بی سی اردو کی خصوصی سیریز

چین کے خفیہ کیمپ: لاپتہ اویغوروں کے ساتھ کیا ہوا؟

میرے جمعہ پڑھنے کی سزا ’گل بانو کو ملی‘

’برسوں کی محنت سے کھڑا کیا کاروبار پل بھر میں تباہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین میں سیکنڑوں کی تعداد میں بچوں کے والدین کو زیر حراست رکھا گیا ہے۔ ان لوگوں کا تعلق مسلمان اویغر برادری سے ہے۔

ان کے مطابق ان بورڈنگ سکولوں کے ذریعے اقلیتی بچوں کو زندگی میں 'بہتر عادات' سکھائی جاتی ہیں اور حفظانِ صحت سے متعلق گھر سے بہتر معلومات فراہم کی جاتی ہیں جبکہ کچھ بچوں نے اپنی استانیوں کو 'ممی' کہنا شروع کر دیا ہے۔

ایک مقامی سرکاری افسر سے جب بی بی سی نے پوچھا کہ ان بچوں کا پرسانِ حال کیا ہے جن کے والدین کو کیمپس منتقل کر دیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 'وہ بورڈنگ سکولوں میں داخل ہیں۔ ہم انھیں رہائش، کھانا اور کپڑے فراہم کرتے ہیں۔۔۔اور ہمیں حکومتی اداروں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہم ان کی اچھی دیکھ بھال کریں'۔

سنکیانگ میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق تمام بچے اب ایسے سکولوں میں تعلیم حاصل کریں گے جن کا 'انتظام انتہائی الگ تھلگ انداز میں چلایا جاتا ہے۔'

تاہم برطانیہ میں چینی سفیر لیو شیومِنگ کا کہنا ہے کہ جن افراد سے بی بی سی نے بات کی ہے وہ ’حکومت مخالف‘ ہیں۔

’آپ ان سے حکومت کے بارے میں اچھا نہیں سنیں گے۔ اگر وہ اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو وہ واپس آسکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں