انڈیا: ’ڈوسا کنگ' نے ملازم کی بیوی سے شادی کے لیے ملازم کا قتل کروایا

سرونا بھون تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرونا بھون کے دنیا بھر میں 80 ریسٹورانٹ ہیں اور ان کے ہزاروں ملازم ہیں۔ ان کے نیویارک، لندن اور سڈنی میں ریسٹورانٹ ہیں۔

سرونا بھون نامی بین الاقوامی ریسٹورانٹس کے مالک کی قتل کے جرم میں عمر قید سے بچنے کی آخری اپیل بھی ناکام ہو گئی ہے۔

71 سالہ راج گوپال نے اپنے ایک ملازم کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا تھا کیونکہ وہ اس کی بیوی سے شادی کرنا چاہتے تھے۔

سنہ 2009 میں مجرم قرار پائے جانے کے بعد سے وہ عمر قید سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ منگل کے روز طبی بنیادوں پر کی گئی ان کی آخری اپیل بھی مسترد کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں ’سونے کا آدمی‘ قتل کر دیا گیا

’شادی سے انکار‘ پر لڑکی کو زندہ جلا دیا

دو خواتین کو ہراساں کرنے کے الزام میں تین گرفتار

سرونا بھون کے دنیا بھر میں 80 ریسٹورانٹس ہیں اور ان کے ہزاروں ملازمین ہیں۔ ان کے نیویارک، لندن اور سڈنی میں ریسٹورانٹس ہیں۔

اپنے ریسٹورانٹس میں جنوبی انڈیا کی معروف ڈش 'ڈوسا' پیش کرنے کے حوالے سے راج گوپال کو 'ڈوسا کنگ' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق راج گوپال اپنے ایک ملازم کی بیوی سے اس لیے شادی کرنا چاہتے تھے کیونکہ انھیں ایسا کرنے کے لیے ایک نجومی نے کہا تھا۔

ایک مقامی صحافی سریش کمار نے اے ایف پی کو بتایا کہ راج گوپال کے اعصاب پر ان کے ملازم کی بیوی سوار تھی۔

سنہ 2003 میں بھی راج گوپال اسی سلسلے میں ایک سکینڈل میں ملوث تھے جس میں انھوں نے اسی عورت (ملازم کی بیوی) کو رشوت دینے کی کوشش کی اور اس خاتون کی فیملی کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی جس میں اس کے بھائی پر تشدد بھی شامل تھا۔

اس سے قبل 2001 میں جب اس خاتون کے شوہر لاپتہ ہوگئے تو انھوں نے راج گوپال کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کروائی۔ بعد میں ان کے شوہر کی لاش ایک جنگل سے ملی اور پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ انھیں گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔

ایک مقامی عدالت نے سنہ 2004 میں راج گوپال کو دس سال قید کی سزا سنائی مگر بعد میں چینئی ہائی کورٹ نے ان کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا۔

رواں سال مارچ میں ان کی سزا سپریم کورٹ نے برقرار رکھی۔ منگل کے روز جب ان کی آخری اپیل مسترد ہوگئی تو انھوں نے خود کو چینئی میں عدالت کے حوالے کر دیا۔

اسی بارے میں