’جے شری رام‘: ایک مذہبی نعرہ جو موت کا پیغام بنتا جا رہا ہے

تبریز انصاری تصویر کے کاپی رائٹ BBC Hindi
Image caption تبریز انصاری پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی تھی

انڈیا کے کئی علاقوں میں ہندو دیوتا رام کا نام اکثر ایک دوسرے سے ملتے یا بغل گیر ہوتے وقت مثبت انداز میں استعمال ہوتا ہے، لیکن بی بی سی دہلی کی نامہ نگار گیتا پانڈے کے مطابق گذشتہ کچھ برسوں سے مشتعل ہندو گروہوں نے اس دیوتا کے نام کو قتل و غارت گری کا نعرہ بنا دیا ہے۔

گذشتہ ماہ ملک کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں ایک سہمے ہوئے مسلمان کو بجلی کے کھمبے کے ساتھ بندھا ہوئے ایک مشتعل ہندو ہجوم کے ہاتھوں مار کھاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں 24 سالہ تبریز انصاری اپنی جان کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں جبکہ ان کے چہرے پر آنسو اور خون بہتا نظر آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے۔

انڈیا: گائے کے نام پر ہجومی تشدد میں اضافہ

ہندو مسلم منافرت کی دھیمی آنچ پر ابلتا بہار

مسلم نوجوان کو بچانے والے پولیس ’ہیرو‘ کو دھمکیاں

انڈیا میں مسلمان خاندان پر تشدد کی ویڈیو وائرل

ان پر حملہ کرنے والے انھیں باربار 'جے شری رام' کا نعرہ لگانے پر مجبور کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے 'بھگوان رام کی فتح ہو'۔

تبریز وہی کرتے ہیں جو انھیں کہا جاتا ہے اور جب مشتعل ہجوم نے جو ان کے ساتھ کرنا تھا کر لیا تو انھیں پولیس کے حوالے کر دیا۔

پولیس نے انھیں حوالات میں بند کر دیا اور ان کے اہلخانہ کو ان سے ملنے بھی نہیں دیا۔ چار دن بعد تبریز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

تبریز کے ساتھ ہونے والا واقعہ اس نوعیت کا واحد واقعہ نہیں ہے۔ انڈیا کے مسلمانوں کے لیے جون کا مہینہ بہت خونی رہا جس میں انھیں متعدد مرتبہ ایسے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

شمال مشرقی ریاست آسام کے برپیٹا ضلعے میں چند نوجوان مسلمانوں کے ایک گروہ پر حملہ ہوا اور ان کو مجبور کیا گیا کہ وہ 'جے شری رام'، 'بھارت ماتا کی جے' اور 'پاکستان مردہ باد' کے نعرے لگائیں۔

انڈیا کے تجارتی مرکز ممبئی میں ایک گروہ نے 25 سالہ مسلمان ٹیکسی ڈرائور کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے 'جے شری رام' کے نعرے لگانے پر مجبور کیا۔ ٹیکسی ڈرائیور فیصل عثمان خان کہتے ہیں کہ ان پر حملہ تب کیا گیا جب ان کی ٹیکسی خراب ہو گئی اور وہ اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حملہ آور اُس وقت بھا گئے جب ایک مسافر نے پولیس کو کال کر دی۔

اور مشرقی شہر کولکتہ میں مدرسے کے 26 سالہ استاد حافظ محد شاہ رخ ہلدر کو 'جے شری رام' کے نعرے لگاتے ہوئے مردوں کے ایک گروہ نے ہراساں کیا۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان لوگوں نے اُن کے کپڑے اور داڑھی کا مذاق اڑایا اور پھر ان پر زور دیا کہ وہ بھی نعرے لگائیں۔ جب شاہ رخ نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو انھوں نے انھیں چلتی ٹرین سے دھکا دے دیا۔ شاہ رخ اس واقع کے نتیجے میں زخمی ہوئے، تاہم ان کی جان بچ گئی۔

نعرے لگانا اور ہراساں کرنا اب ہجوم اور سڑکوں تک محدود نہیں رہا، فکر کی بات یہ ہے کہ اب یہ رجحان پارلیمنٹ تک پہنچ گیا ہے۔

17 جون کو جب پہلی دفعہ نئے ایوان زیریں کا اجلاس شروع ہوا تو حلف برداری کے دوران حزب اختلاف اور مسلمان اراکین کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومتی جماعت کے اراکین نے ہراساں کیا۔

مسلمان اقلیت پر حملوں کی حزب اختلاف کے سیاستدانوں نے شدید مذمت کی ہے۔ کانگرس پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہونے سے پہلے راہُل گاندھی نے تبریز انصاری پر ہونے والے حملے کو 'انسانیت پر سیاہ دھبہ' قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ COURTESY: SATISH ACHARYA
Image caption ستیش اچاریا کے اس کارٹون میں ’بولو جے شری رام‘ کہتے ہوئے مشتعل لوگوں سے دیوتا رام ہاتھ جوڑ کر التجا کر رہے ہیں کہ ’برائے مہربانی میرے نام پر نہیں‘

کئی ناقدین، بشمول معروف کارٹونسٹ ستیش اچاریہ، نے ان بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

شمالی ہند کے دیہی علاقوں میں روایتی طور پر لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہوئے 'رام رام'، 'جے سیا رام' یا 'جے رام جی کی' کہتے ہیں۔

انڈیا میں کئی لوگ پریشان ہیں کہ یہ حملے اور قتل ایسے دیوتا کے نام پر کیے جا رہے ہیں جنھیں کروڑوں لوگ ان کی عدل پسندی اور سخاوت کی صفات کی وجہ سے پوجتے ہیں۔

لیکن 'جے شری رام' اب حملے کا نعرہ بن گيا ہے جس کا مقصد ایسے لوگوں کو ڈرانا ہے جو مختلف طریقے سے عبادت کرتے ہیں۔

اس طریقۂ تخاطب کو پہلی دفعہ بی جے پی نے سنہ 1980 کی دہائی میں ہندؤں کو ایودھیا میں متنازع جگہ پر رام مندر بنانے کے لیے متحرک کرنے کے لیے بطور سیاسی نعرہ استعمال کیا تھا۔

اس وقت بی جے پی کے رہنما ایل کے اڈوانی نے مندر کی حمایت میں رتھ یاترا نکالی اور دسمبر سنہ 1992 میں 'جے شری رام' کا نعرہ لگاتے ہجوموں نے شمالی علاقے کا رخ کیا اور 16ویں صدی کی بابری مسجد کو مسمار کر دیا۔

بی جے پی کا موقف ہے کہ مسجد کو دیوتا رام کے مندر کو توڑ کر بنایا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس مقام پر کبھی مندر ہوا کرتا تھا۔

اس مہم نے ہندو ووٹروں کو بی جے پی کے حق میں یکجا کیا اور دیوتا رام کو ذاتی سے سیاسی بنا دیا۔ اس وقت سے جماعت نے انتخابات میں مسلسل رام کے نام کا استعمال کیا اور سنہ 2019 کے انتخابات بھی کچھ مختلف نہیں تھے۔

ناقدین کا کہنا ہے پارلیمینٹ کے اندر اور باہر اقلیتوں کو ہراساں کرنے والے لوگ بی جے پی کی اپریل/مئی کی زبردست کامیابی کو اپنے رویے کی سرکاری سطح پر پزیرائی کے طور پر دیکھتے ہیں۔

بی جے پی نے ایوان زیریں میں 543 میں سے 300 سے زیادہ نشتیں پر کامیابی حاصل کی، جس کی وجہ سے وزیر اعظم مودی کو دوسری مرتبہ وزارت اعظمیٰ کا منصب ملا۔

وزیر اعظم مودی کے پہلے دور حکومت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات ہوئے تھے۔ متعدد ایسے واقعات تھے جن میں نام نہاد 'گاؤ رکشک' یعنی گائے کے محافظوں نے گائے کا کوشت کھانے یا اسے لانے لیجانے کی افواہوں کو بنیاد بنا کر مسلمانوں پر حملہ کیا۔

گائے ہندو مذہب میں مقدس مانی جاتی ہے اور اس کو ذبح کرنا ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔

وزیر اعظم نے ان حملوں کی حمایت تو نہیں کی لیکن ان پر تنقید نہ کرنے پر ان پر تنقید کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بہت سارے لوگ اس بات سے پریشان ہیں کہ یہ حملے اور قتل ایسے دیوتا کے نام پر کیے جا رہے ہیں جنھیں کروڑوں لوگ ان کی عدل اور سخاوت کی صفات کی وجہ سے پوجتے ہیں

تاہم مئی میں بی جے پی کی حیران کن فتح کے بعد وزیر اعظم مودی نے اپنے نعرے 'سب کا ساتھ سب کا وکاس' یعنی سب کے لیے ترقی کو بڑھاتے ہوئے اس میں 'سب کا وشواس' یعنی سب کا اعتبار حاصل کرنا بھی شامل کر لیا، جس کی وجہ سے لوگوں میں یہ امید بڑھی ہے کہ نریندر مودی کا یہ دور مختلف ہو گا۔

تبریز انصاری کی موت کے کچھ دنوں بعد وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اس واقعے سے انھیں 'تکلیف' ہوئی اور یہ کہ 'مجرموں کو سخت سزا ملنی چاہیے۔'

لیکن بہت سے لوگوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف کوئی سنجیدہ کاروائی کی جائے گی۔

سنہ 2014 سے مشتعل ہجوم کے حملوں میں درجنوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی سو زخمی ہو چکے ہیں لیکن سزا گنتی کے مقدموں میں ہی سنائی گئی ہے۔ باقی مقدمات میں اکثر ملزمان شواہد کی کمی اور وزیر اعظم مودی کی پارٹی میں موجود اپنے ساتھیوں کی پشت پناہی کی وجہ سے آزاد ہیں۔

بی جے پی کے راہنما اکثر ان واقعات کو اہمیت نہیں دیتے اور انھیں 'معمولی' قرار دیتے ہیں۔ یہ راہنما میڈیا پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ حکومت کو بدنام کرتا ہے۔

بی جے پی کے ایک رکن پارلیمان نے ایک نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ 'جے شری رام' نعرے کی مقبولیت ایک قسم کا ہندوؤں کا 'ریاست کی مخصوص جانبداری اور اقلیت کی طرف جھکاؤ کے خلاف' احتجاج ہے۔

انھوں نے کہا کہ ' وہ اس بات پر زور دے رہیں کہ ہم ہندو ہیں اس لیے ہمیں ہندو کی طرح سمجھا جائے۔'

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بات اس سے بہتر طریقے سے بھی کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں