انڈیا میں ہر میچ پر اربوں کا دھندا کیسے ہوتا ہے

Image caption انڈیا کے بک میکر موبائل فون ایپس کے ذریعے شرطیں وصول کرتے ہیں۔

آئی سی سی کا کرکٹ ورلڈ کپ 2019 انگلینڈ کی فتح کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ نیوزی لینڈ کے گپٹل کا کریز سے فاصلہ اتنا ہی تھا جتنا کہ ان کے ملک کا پہلی مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے سے، مگر یہ نہیں ہوسکا۔

نیوزی لینڈ کی شکست پر ان کی ٹیم اور ان کی قوم تو سوگ میں ہے مگر کھلاڑیوں اور مداحوں سے زیادہ دکھ اس ٹیم پر پیسہ لگانے والوں کو ہوا جو مکمل میچ برابر ہوجانے کے باوجود اپنے پیسے سے محروم ہوگئے۔

کچھ ایسی ہی صورتحال صرف ایک میچ قبل انڈیا اور نیوزی لینڈ کے میچ کے دوران بھی تھی جب انڈین کپتان مہندرا سنگھ دھونی کریز سے صرف کچھ سینٹی میٹر ہی دور تھے کہ وکٹیں اڑا دی گئیں جس کے ساتھ ہی ڈیڑھ ارب لوگوں پر مشتمل قوم صدمے میں چلی گئی۔

مگر کم از کم ایک شخص کے علاوہ۔

آرین (فرضی نام) انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاستوں میں سے ایک میں بک میکر ہیں۔

ان کے کلائنٹس کی اکثریت نے، جو کہ زیادہ تر مقامی کاروباری افراد پر مشتمل ہے، مانچسٹر کے اولڈ ٹریفرڈ گراؤنڈ میں اپنی ٹیم کے نیوزی لینڈ کو شکست دینے پر شرط لگائی تھی۔

مگر ان کی بدقسمتی آرین کے لیے خوش قسمتی ثابت ہوئی جنھوں نے کچھ ہی لمحوں میں تقریباً پانچ لاکھ انڈین روپے کما لیے۔

پولیس کے مسلسل چھاپوں کے بعد دو دیگر بکیز نے بی بی سی کو انٹرویو دینے سے انکار کر دیا مگر آرین نے انٹرنیٹ کال پر بات کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس کے لیے انھوں نے رابطہ کرنے سے چند لمحے قبل ہی فرضی نام سے ایک اکاؤنٹ بنایا تاکہ انھیں ٹریس نہ کیا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سٹے باز کیش کے بدلے ٹوکن حاصل کرتے ہیں اور ان سے موبائل ایپس کے ذریعے سٹہ کھیلتے ہیں۔

ان کی یہ احتیاط حیران کن نہیں ہے۔ انڈین معاشرے کے تمام شعبوں میں انتہائی مقبول ہونے کے باوجود ملک کے زیادہ تر حصوں میں کھیلوں پر سٹے بازی ریاستی اور قومی قوانین کی وجہ سے غیر قانونی ہے۔ چنانچہ آرین جو کہ اپنی عمر کی دوسری دہائی میں ہونے کے باوجود 10 سال سے اس 'کاروبار' میں ہیں، قانون کی نظر میں مجرم ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ انڈیا کے سب سے پسندیدہ کھیل کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ یعنی کرکٹ ورلڈ کپ بکیز کے لیے 'میلے کی طرح' ہوتا ہے اور انھیں نہیں لگتا کہ یہ ماحول جلد ہی کبھی ختم ہوگا۔

آرین تسلیم کرتے ہیں کہ 'مجھے کبھی کبھی پکڑے جانے کا خوف محسوس ہوتا ہے مگر پھر یہ اعتماد بھی ہے کہ جو ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا۔'

وہ کہتے ہیں کہ: 'ہمیں کبھی بھی ضمانت مل سکتی ہے۔ میرے کچھ دوست گزشتہ آئی پی ایل [انڈین پریمیئر لیگ] کے دوران پکڑے گئے تھے اور سب کو 10 سے 15 دن میں ضمانت مل گئی تھی۔ اس کے بعد وہ دوگنے جوش کے ساتھ کاروبار میں واپس آئے۔'

خفیہ نیٹ ورک

آرین کے دعووں پر نہ ہی انڈیا کی وزارتِ قانون اور نہ ممبئی کی پولیس نے بی بی سی کے سوالوں کا کوئی جواب دیا۔ ان کے انتہائی پراعتماد رویے کی بنیاد درحقیقت اس غیر رسمی نظام کی وجہ ہے جو کہ سٹے بازی کی صنعت میں رائج ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک شخص کیسے سٹے بازی میں حصہ لے سکتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ وہ کبھی بھی شخصی حوالے کے بغیر کلائنٹ نہیں لیتے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'یہ کاروبار اچھے حوالوں کی بناء پر چلتا ہے۔ جب آپ ایک شخص کے ساتھ رابطے میں آتے ہیں اور اس شخص کے ساتھ آپ کی ڈیلنگ اور آپ کا لین دین دیانتداری سے ہوجائے تو وہ شخص آپ کا حوالہ دوسرے لوگوں کو دیتا ہے۔'

'آہستہ آہستہ آپ کا نیٹ ورک بننے لگتا ہے۔ شروع میں یہ پانچ لوگ ہوتے ہیں، بعد میں 10، پھر 15، اس طرح لڑی بنتی جاتی ہے۔'

اس کے علاوہ ان دنوں آرین عموماً آن لائن ایک پیچیدہ سسٹم کے ذریعے کام کرتے ہیں جس میں موبائل ایپس اور بار بار ری ڈائریکٹ ہونے والی ویب سائٹس شامل ہیں۔

ڈیجیٹل ہونے پر شرطوں کا اوسط سائز گر گیا ہے۔ پرانے زمانے میں جب سارا کام ذاتی طور پر ہوتا تھا، تب کچھ لوگ تو ایک ایک شرط 2 لاکھ ڈالر تک کی لگا دیا کرتے تھے، مگر کاروبار اب بھی پھل پھول رہا ہے۔

انڈیا کے زیرِ زمین سٹہ بازار کے حجم کے بارے میں اندازے ناقابلِ اعتبار ہیں اور 45 ارب ڈالر سے لے کر 150 ارب ڈالر تک ہو سکتے ہیں۔

اخباری رپورٹس کے مطابق انڈیا کی قومی کرکٹ ٹیم کے ہر ون ڈے انٹرنیشنل میچ پر 19 کروڑ ڈالر کی شرطیں لگائی جاتی ہیں۔

سٹے کی کشش

اصل اعداد و شمار جو بھی ہوں مگر اس بات پر کم ہی اختلاف ہے کہ کھیلوں پر سٹے کی انڈین صنعت دنیا کی سب سے بڑی صنعتوں میں سے ہے یہاں تک کہ برطانیہ جیسے ممالک سے بھی جہاں سٹے بازی کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔

اور بھلے ہی انڈین بکیز کی ایک بہت ہی چھوٹی سی تعداد ہی کرپشن میں ملوث ہے مگر بڑی اور بغیر ٹیکس کمائی بہت سے لوگوں کے لیے پرکشش ثابت ہوئی ہے۔

آرین اس بات پر تبصرہ نہیں کرتے کہ آیا پروفیشنل کرکٹر یا کھیل سے قربت رکھنے والے دیگر افراد نے کبھی ان کے ساتھ سٹہ کھیلا ہے یا نہیں۔

2013 میں کھلاڑیوں پر اس کام میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ ایک علیحدہ کیس میں ممبئی پولیس نے انڈین کرکٹ بورڈ کے ایک ملازم کے رشتے دار کو بکیز سے روابط ہونے پر دھر لیا تھا۔

بعد میں انڈین ججوں کی سربراہی میں بننے والی کمیٹیوں نے پایا کہ آئی پی ایل سے منسلک کئی شخصیات میچ فکسنگ اور غیر قانونی سٹے بازی میں ملوث تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کی سپریم کورٹ کی ایک کمیٹی نے آئی پی ایل کی دو ٹیموں کو میچ فکسنگ پر لیگ سے معطل کر دیا تھا۔

2016 میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملک کے لاء کمیشن سے سٹے بازی کو قانونی قرار دینے کے فوائد و نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے کہا۔ گزشتہ سال یہ کمیشن اس نتیجے پر پہنچا کہ قانونی قرار دی گئی صنعت 'کالے دھن کی پیداوار کے مسئلے کو مؤثر طور پر ختم کر دے گی۔'

کمیشن نے موجودہ شناختی دستاویزات کی مدد سے لائسنس یافتہ آپریٹرز کا ایک نیٹ ورک اور ایک رجسٹریشن سسٹم بنانے کی بھی تجویز دی۔

کمیشن کی تجویز تھی کہ قانونی قرار دینے پر اس سے ملازمتیں پیدا ہوں گی، معاشرے کے خطرے میں گھرے ہوئے طبقات محفوظ ہو سکیں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سے بوجھ کم ہوگا جو فی الوقت اپنے بہت سے وسائل بکیز کا پیچھا کرتے ہوئے صرف کر دیتے ہیں۔

ٹیکس سے کمائی

سپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کی گورننگ باڈی کے رکن اور ملک میں سپورٹس ٹیلنٹ کے فروغ کے لیے کام کرنے والکی رہی غیر منافع بخش تنظیم سٹیئرز کے بانی سدھارتھ اپدھیائے کہتے ہیں کہ 'سٹے بازی کو قانونی قرار دینے سے ہر چیز سب کے سامنے موجود رہے گی۔ سب کو یہ معلوم ہوگا کہ کون حصہ لے رہا ہے اور کون نہیں۔ اس سے مجرمانہ سرگرمیوں پر بڑی حد تک قابو پانے میں مدد ملے گی۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'مجھے معلوم ہے کہ ایسا کرنے کے لیے حکومت کے پاس بہت مضبوط ٹیکس نظام ہونا چاہیے مگر آج ہمارے پاس جو ٹیکنالوجی موجود ہے اس کے ذریعے یہ مشکل نہیں ہونا چاہیے۔'

اپدھیائے کہتے ہیں کہ قانونی قرار دینے سے ہر سال ٹیکس کی صورت میں اربوں ڈالر جمع ہو سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کھیلوں پر سٹے کی انڈین صنعت دنیا کی سب سے بڑی صنعتوں میں سے ہے یہاں تک کہ برطانیہ جیسے ممالک سے بھی بڑی ہے جہاں سٹے بازی کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔

جن دنوں ورلڈ کپ جاری تھا، ان دنوں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'اب تک اس ورلڈ کپ پر 60 ہزار کروڑ روپے (تقریباً 9 ارب ڈالر) کا سٹہ کھیلا جا چکا ہے اور یہ اب تک ختم بھی نہیں ہوا ہے۔'

ان کا خیال ہے کہ اس طرح کے سٹوں پر ٹیکس عائد کر کے جو پیسے جمع ہوں گے انہیں ملک کے دیہات میں کھیلوں کا انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے قومی کھیل کو بالآخر فائدہ ہوگا۔

انڈیا کے ایوان ہائے صنعت و تجارت کی مرکزی تنظیم فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف آئی سی سی آئی) نے، اپدھیائے جس کے شریک چیئرمین ہیں، عادی سٹے بازوں کو تحفظ دینے کے لیے شرط کے سائز کی بھی تجویز دی ہے۔

ایف آئی سی سی آئی کے مطابق اسے قانونی قرار دینے کا ایک اور ممکنہ فائدہ یہ ہوگا کہ انڈین حکومت یہ فیصلہ کر سکے گی کہ کس ایونٹ پر سٹہ کھیلا جا سکتا ہے، جس سے ملک میں کم مقبول کھیل بھی فروغ پا سکیں گے۔

سٹے بازی اور تاریخ

اگر مہم کے ذریعے کھیلوں پر سٹے کو قانونی قرار دینے میں حائل سیاسی مشکلات پر قابو پا بھی لیا جائے، تب بھی ثقافتی پابندیاں اپنی جگہ موجود رہیں گی۔

ہندومت کی صدیوں پرانی کتابوں میں سٹے بازی کے حوالے موجود ہیں مگر مثبت نہیں۔ مثال کے طور پر مہابھارت میں ایک حکمران اپنی سلطنت، اپنے بھائی اور اپنی اہلیہ کو 'پانسوں کے کھیل' میں ہار جاتا ہے۔

مگر اپدھیائے نشاندہی کرتے ہیں کہ زیادہ تر انڈین ریاستوں میں سگریٹ اور شراب باآسانی دستیاب ہیں جبکہ 'سکھ ازم سمیت تقریباً ہر مذہب میں ہی شراب کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔'

اپنی اہلیہ اور بیٹی کی خاطر آرین کو امید ہے کہ ایک دن وہ قانونی راستہ اختیار کرنے اور شاید مقامی کاروباری علاقے میں اپنی سٹے کی دکان بھی کھول سکیں۔

مگر انھیں لگتا ہے کہ اپنی جیت پر ٹیکس سے بچنے کے لیے سٹے باز ان تک نوٹوں کی گڈیوں کے ساتھ آئیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ قبول کریں گے؟ تو وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں، 'ہاں، مجھے پیسہ پسند ہے۔'

اسی بارے میں