انڈین ایڈیسن: بھیسو رائٹر بنانے والے شنکر اباجی بھیسے کی زندگی کی روداد

بھیسے
Image caption آج 19ویں صدی کے مقبول انڈین سائنسدان شنکر اباجی بھیسے کو بھلا دیا گیا ہے

انڈیا کے لوگ انھیں امریکی سائنسدان تھامس ایڈیسن کے نام سے منسوب کر کے 'انڈین ایڈیسن' کہہ کر پکارتے تھے۔

بین الاقوامی سرمایہ داروں کا یہ ماننا تھا کہ ان کی ایجادات پرنٹنگ (چھاپے خانے) کی عالمی صنعت میں انقلاب برپا کر دیں گی اور انڈیا کے مشہور قوم پرستوں کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی تھی۔

لیکن آج 19ویں صدی کے اس مقبول انڈین سائنسدان شنکر اباجی بھیسے کو بھلا دیا گیا ہے۔ آخر ایسا کیوں کر ہوا؟

یہ بھی پڑھیے

معروف برطانوی سائنسدان سٹیفن ہاکنگ چل بسے

انڈین خلائی مشن تکنیکی پیچیدگی کے باعث التوا کا شکار

اپالو مشن کی آٹھ چیزیں جنھوں نے ہماری زندگی بدل دی

آج انڈیا کو جدت اور سائنسی ٹیلنٹ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے لیکن جس زمانے میں بھیسے مقبولیت کی بلندیاں تک پہنچے تب انڈیا میں سائنسدانوں، انجینئرز اور موجدوں کی تعلیمی تربیت کے لیے بہت کم ادارے موجود تھے۔

وہ اپنے استاد خود تھے، جس گمنامی کے اندھیرے سے نکل کر انھوں نے اپنی پہچان بنائی وفات کے بعد گمنامی کے وہی اندھیرے ان کا مقدر بنے۔

بھیسے انگریز سامراج کے دور کے بومبے (آج کے ممبئی) کی پر ہجوم گلیوں میں پلے بڑھے جہاں وہ سارا سارا دن امریکی سائنسی رسالوں کے مطالعہ کرنے میں گزارتے تھے۔

دہائیوں بعد انھوں نے بروکلِن کے ایک اخبار کو بتایا کہ 'میں نے ان امریکی رسالوں سے حاصل کردہ میکینیکل تعلیم سے بہت کچھ سیکھا۔'

Image caption انھوں نے 'بھیسوٹائپ' کے نام سے جانا جانے والا ایک ٹائپ کاسٹر بنایا جس نے پرنٹنگ کی صنعت میں انقلاب برپا کر دیا

انھوں نے بمبئی میں ایک سائنسی کلب کی بنیاد رکھی اور کم عمری میں ہی انھوں نے متعدد مشینی پرزے اور مشینیں ڈیزائن کرنا شروع کر دیں جن میں چھید لگنے سے محفوظ بوتلیں اور ایک برقی آلہ جو بمبئی کے مضافات میں واقع ریلوے سٹیشن کی نشاندہی کرتا تھا۔

ان کی سب سے مقبول ایجاد 1890 کی دہائی کے آخر میں سامنے آئی جب انھوں نے ایک ایسے مقابلے کے بارے میں سنا جس میں ایک ایسی مشین کا خاکہ بنانا تھا جس کی مدد سے اشیا خرد و نوش کا وزن کیا جا سکے۔

لندن نقل مکانی

ایک دن صبح تین اور سات بجے کے درمیان انھوں نے اس مشین کا ایک ڈیزائن تیار کیا اور اس مقابلے میں شرکت کرنے والے تمام برطانوی سائنسدانوں کو ہرا دیا۔

اب تک ممبئی کی انتظامیہ کو اس ذہین انڈین موجد کے بارے میں علم ہو چکا تھا۔ انھوں نے بھیسے کی لندن نقل مکانی کے خواہش کی حوصلہ افزائی کی تاکہ وہ وہاں سرمایہ داروں کی توجہ حاصل کر سکیں۔

بھیسے نے ممبئی میں موجود اپنے دوستوں سے عہد کیا کہ وہ 'تب تک ممبئی واپس نہیں لوٹیں گے جب تک انھیں کامیابی نہ مل جائے یا جب تک ان کا آخری پاؤنڈ خرچ نہ ہو جائے۔'

اور اس طرح اس نوجوان موجد کے کریئر کے ایک سنہری دور کا آغاز ہوا جس میں وہ انگریز سامراج کے وسط میں بسنے والے سامراج مخالف گروہوں کا حصہ بن گئے۔

بھیسے جب لندن پہنچے تو ان کے پاس انڈین نیشنل کانگریس کے ممبئی میں مقیم سیکریٹری ڈنشا واچا کی جانب سے دیا گیا ایک تعارفی خط تھا۔

Image caption ان کی آخری ایجاد ایک 'روحانی ٹائپ رائٹر' تھا جو کہ اوجیا بورڈ کی بہتر قسم تھی

انڈیا کی مقبول سیاسی جماعت کی تنظیم کے علاوہ ڈنشا ایک ہوشیار تاجر بھی تھے اور تکنیکی ٹیلنٹ کو پرکھنے میں خاص مہارت رکھتے تھے۔

لندن میں ایک صبح بھیسے نے ڈنشا کا یہ خط ان کے قوم پرست دوست دادا بھائی ناورو جی کو دیا۔ دادا بھائی انگلینڈ میں ایک لمبے عرصے سے تجارت کر رہے تھے۔

دادا بھائی بھیسے کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی ایجادات سے متاثر ہوئے اور انھوں نے کاروباری افراد کا ایک سنڈیکیٹ بنانے کی حامی بھر لی۔ اس حوالے سے معاہدے پر دستخط کے بعد بھیسے کو انڈین قوم پرست ایجنڈے کی ایک فہرست پکڑا دی گئی۔

شمالی لندن کی ایک خنک اور سرد ورک شاپ سے بھیسے نے اپنے کام کا آغاز کیا۔

Image caption انھوں نے ایک جدید راہنمائی کے تختے کا نمونا بنایا جو لندن کے کرسٹل پیلس پر نصب کیا گیا اور بعد میں ایسے تختے وسطی لندن ویلز اور شاید پیرس کے سٹورز نے بھی اپنا لیے

حیرت انگیز ایجادات

انھوں نے ایک الیکڑانک سائن بورڈ تخلیق کیا جو لندن کے کرسٹل پیلس پر نصب کیا گیا اور بعد میں ایسے سائن بورڈز وسطی لندن، ویلز اور شاید پیرس کی دوکانوں میں بھی لگائے گئے۔

انھوں نے دادا بھائی کو ان حیرت انگیز ایجادات کی بابت بتایا جن میں کچن گیجٹ، ٹیلی فون، سر درد کا علاج کرنے والی مشین، اور بیت الخلا میں خود کار فلشنگ سسٹم شامل تھے۔

سنہ 1905 میں انھوں نے ایک پش اپ برا کا نمونا تیار کیا جس سے 'چھاتی میں ظاہری طور پر بہتری' آتی تھی اور یہ 'چھاتی کے خدوخال میں خوبصورتی اور بھراؤ' پیدا کرتا تھا۔ (شرمیلے بھیسے نے شاید دادا بھائی کو اپنی اس ایجاد کے متعلق آگاہ نہیں کیا)۔

لیکن بھیسے کی سب سے اہم ایجاد پرنٹنگ سے متعلق تھی۔ انھوں نے 'بھیسو ٹائپ' کے نام سے جانا جانے والا ایک ٹائپ کاسٹر بنایا جس نے پرنٹنگ کی صنعت میں انقلاب برپا کر دیا۔

اس کی مدد سے دھاتوں کی وہ اقسام بنائی گئیں جن سے اخبار اور کتابیں جلدی اور سستے چھائی ہونے لگے۔

اس موقع پر دادا بھائی نے بھیسے کو کہا کہ اسے اب مزید امیر سرمایہ کاروں کی ضرورت ہے۔ انھوں نے بھیسے کو ہینری ہیڈمین کی جانب بھیجا جنھیں 'برطانوی اشتراکیت کا بانی' بھی کہا جاتا ہے۔

ہنڈمین کارل مارکس کے شاگرد تھے اور وہ انڈیا پر برطانوی راج کے سخت ترین مخالفین میں سے ایک تھے۔ وہ 'لندن کی منافع پرست گروہوں' کے سخت ناقد تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے سخت مخالف ہونے کے باوجود ہنڈمین ایک معروف کاروباری شخصیت تھے اور ان کا پرنٹنگ کی صنعت میں خاصا اثر و رسوخ تھا۔ انھوں نے بھیسو ٹائپ کے لیے 15 ہزار پاؤنڈ جمع کرنے کا وعدہ کیا۔

یہاں سے معاملات خراب ہونا شروع ہو گئے۔

Image caption انھوں نے اپنی مشین کو بہتر بنانے میں خاصا وقت سرف کیا کیونکہ انھیں یقین تھا کہ ہنڈمین سرمایہ لگانے کے وعدے پر پورا اتریں گے

بھیسے نے پرنٹنگ کی صنعت میں لینو ٹائپ نامی بڑی کمپنی کی جانب سے دی گئی بھیسو ٹائپ کو خریدنے کی آفر کو مسترد کر دیا۔ انھوں نے اپنی مشین کو بہتر بنانے میں خاصا وقت صرف کیا کیونکہ انھیں یقین تھا کہ ہینری ہیڈمین بھیسو ٹائپ پر سرمایہ لگانے کے وعدے کو پورا کریں گے۔

لیکن سنہ 1907 تک ہنڈمین کو اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ اس کام کے لیے مطلوبہ سرمایہ اکھٹا نہیں کر سکتے۔ دادا بھائی کا سرمایہ بھی اگلے سال ختم ہو گیا اور دسمبر سنہ 1908 میں بھیسے مایوس ہو کر بمبئی واپس لوٹ گئے۔ انھوں نے واقعی اپنا 'آخری پاؤنڈ‘ تک لگا دینے کا وعدہ پورا کر دیا۔

اور یہاں انھیں ایک دوسرا موقع ملا۔

ممبئی جانے والے بحری جہاز میں معروف کانگریس لیڈر گوپال کرشنا گوکھلے بھی موجود تھے۔ وہ بھیسے کے بنائے گئے ٹائپ کاسٹر کو دیکھ کر ششدر رہ گئے۔

ممبئی پہنچ کر گوکھلے نے ٹاٹا گروپ کے مالک رتن جے ٹاٹا سے رابطہ کیا اور انڈیا کے ممتاز صنعتی گھرانوں پر مشتمل ایک بڑا تجارتی سنڈیکیٹ قائم کیا۔

ٹاٹا سنڈیکیٹ سنہ 1917 میں ختم ہو گیا لیکن یہ بھیسے کے لیے امریکہ میں ایک نیا کریئر بنانے میں مدد گار ثابت ہوا۔

حیرت انگیز طور پر بھیسے نے کبھی بھی بھیسو ٹائپ کی تشہیر نہیں کی۔ نیو یارک میں بھیسے آیوڈین کا ایک محلول بنانے کے باعث امیر ہو گئے۔

صحت پر اس محلول کے مضر اثرات کے حوالے سے کچھ سوالات بھی اٹھے لیکن ایک امریکی صوفی ایڈگر کیس نے اس محلول کی تائید کی اور کیس کے ماننے والے آج بھی اس محلول کی تشہیر کرنے کے ساتھ ساتھ اسے استعمال بھی کرتے ہیں۔

اپنے آخری برسوں میں بھیسے روحانیت کی جانب مائل ہو گئے۔ ان کی آخری ایجاد ایک ’روحانی ٹائپ رائٹر‘ تھا جو کہ اوجیا بورڈ کی بہتر قسم تھی۔

یہ ایجاد اور بھیسو ٹائپ کی ناکامی کے باعث 'انڈین ایڈیسن‘ کے کریئر کا مشکوک انداز میں اختتام ہوا۔ شاید اسی وجہ سے آج انھیں بھلا دیا گیا ہے۔

لیکن پھر بھی ان کی سائنسی زندگی کا ایک پہلو یاد رکھنے کے قابل ہے۔

اپنی زندگی کے آخری ایام تک بھیسے انگریز سامراج کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔

لندن میں وہ دادا بھائی اور ہنڈمین کے ساتھ مل کر احتجاجی مظاہروں اور میٹنگز کا حصہ بنے اور نیو یارک میں انھوں نے گاندھی کے خیالات کا پرچار کیا اور وہ انڈین قوم پرستوں کی نیو یارک میں میزبانی بھی کرتے تھے۔

انڈیا سے برطانیہ تک بھیسے نے ترقی پسند سیاست اور سائنس کو ساتھ ساتھ چلایا۔ کوئی ’روحانی ٹائپ رائٹر‘ ان کے اس کام کی اہمیت کی عکاسی نہیں کر سکتا۔

دنیار پٹیل جنوبی کیرولیانا یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

اسی بارے میں