کارگل جنگ: جب انڈین انٹیلیجنس نے جنرل مشرف کا فون ٹیپ کیا

جنرل پرویز مشرف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

26 مئی سنہ 1999 کی شب ساڑھے نو بجے انڈیا کے آرمی چیف جنرل وید پرکاش ملک کی ’سکیور انٹرنل ایکسچینج‘ فون کی گھنٹی بجی۔ فون کے دوسرے سرے پر ہندوستانی انٹیلیجنس ایجنسی را کے سیکرٹری اروند دَوے تھے۔ انھوں نے جنرل ملک کو بتایا کہ ان کے اہلکاروں نے پاکستان کے دو بڑے جرنیلوں کے درمیان بات چیت کو ریکارڈ کیا ہے۔

ان میں سے ایک جنرل بیجنگ سے گفتگو کر رہے تھے۔ پھر انھوں نے ریکارڈ شدہ گفتگو کے حصوں کو جنرل ملک کو پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اس میں پوشیدہ معلومات ہمارے لیے اہم ہوسکتی ہے۔

جنرل ملک نے اس فون کال کے متعلق بی بی سی کو بتایا: ’دراصل دَوے وہ فون فوجی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل کو کرنا چاہتے تھے، لیکن اس کے سیکرٹری نے غلطلی سے مجھے فون پر رابطہ کرا دیا۔ جب انھیں پتہ چلا کہ ڈی جی ایم آئی کے بجائے فون پر میں ہوں، تو وہ بہت شرمندہ ہوئے۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ مجھے اس فون کی بات چیت کو ٹیکسٹ کی شکل میں فوری طور پر بھیج دیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

کارگل کی جنگ، انٹیلیجنس کی ناکامی

انڈیا، پاکستان 2001 میں جنگ کے دہانے سے کیسے واپس آئے؟

جنرل ملک نے مزید کہا: ’پورے متن کو پڑھنے کے بعد میں نے اروند دَوے کو فون کیا اور کہا کہ میرے خیال سے یہ بات جنرل مشرف، جو اس وقت چین میں تھے، اور ایک بہت سینیئر جنرل کے درمیان ہے۔ میں نے دَوے کو مشورہ دیا کہ آپ ان ٹیلیفون نمبروں کو ریکارڈ کرنا جاری رکھیں اور انھوں نے اس پر عمل کیا۔‘

Image caption ریحان فضل اور وید پرکاش ملک

را کی ٹرف وار میں بالادستی کی کوشش

جنرل ملک نے کہا: ’تین دن بعد را نے دونوں جرنیلوں کے درمیان ایک اور کال ریکارڈ کی۔ لیکن اس بار ڈی جی ایم آئی یا مجھ سے مشترک کرنے کی بجائے انھوں نے یہ معلومات براہ راست نیشنل سکیورٹی کے مشیر برجش مشرا اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو بھیج دی۔

دو جون کو جب میں وزیراعظم واجپائی اور برجیش مشرا کے ساتھ بحریہ کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے ممبئی گیا تو واپسی میں وزیر اعظم نے مجھ سے تازہ ترین ’انٹرسیپٹس‘ کے بارے میں پوچھا۔‘

’اس وقت برجیش مشرا کو احساس ہوا کہ میں نے تو اسے دیکھا ہی نہیں۔ واپسی پر انھوں نے اس غلطی کو درست کیا اور مجھے ٹرانسکرپٹ ارسال کر دی۔‘

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جنگ کے دوران انڈین انٹیلیجنس ہر شخص کے ساتھ معلومات شیئر کرنے کے بجائے اسے چند اعلیٰ سطح کے لوگوں تک ہی محدود رکھ رہی تھی تاکہ ’ٹرف وار‘ میں ان کی بالادستی قائم رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برجیش مشرا

ٹیپ میں کیا تھا؟

عزیز: ’یہ پاکستان ہے، کمرہ نمبر 83315 سے ہمارا رابطہ کرائیں۔‘

مشرف: ’ہیلو، عزیز‘

عزیز: ’گراؤنڈ سیچوئیشن اوکے ہے۔ کوئی تبدیلی نہیں۔ ان کے ایک ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔ کیا آپ نے کل کی خبر سنی کہ میاں صاحب نے اپنے بھارتی ہم منصب سے بات کی ہے۔‘

’انھوں نے ان سے کہا ہے کہ معاملے کو آپ لوگ طول دے رہے ہیں۔ فضائیہ کو استعمال کرنے سے پہلے آپ کو ذرا انتظار کرنا چاہیے تھا۔‘

’ہم کشیدگی کو کم کرنے کے لیے وزیر خارجہ سرتاج عزیز کو دلی بھیج سکتے ہیں۔‘

مشرف: ’او کے۔ کیا یہ ایم آئی 17 ہمارے علاقے میں گرا ہے؟‘

عزیز: ’نہیں سر۔ یہ ان کے علاقے میں گرا ہے۔ ہم نے اسے گرانے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ ہم نے مجاہدین سے اسے گرانے کا دعویٰ کروایا ہے۔‘

مشرف: ’اچھا کیا۔‘

عزیز: ’لیکن یہ منظر قابل دید تھا۔ ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے ان کا ہیلی کاپٹر گرا۔‘

مشرف: ’ویل ڈَن۔ کیا اس کے بعد انھیں ہماری سرحد کے پاس پرواز کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے؟ وہ خوفزدہ ہیں یا نہیں؟ اس پر بھی نظر رکھو۔ کیا وہ اب ہماری سرحد سے دور رہ کر پرواز کر رہے ہیں؟‘

عزیز: ’ہاں، اب ان پر بہت دباؤ ہے۔ اس کے بعد ان کی پروازوں میں کمی ہوئی ہے۔‘

مشرف: ’بہت اچھے۔ فرسٹ کلاس۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PAK ARMY
Image caption پاکستانی فوج کے سابق جنرل عزیز

ٹیپ کو نواز شریف کو سنانے کا فیصلہ

یکم جنوری تک وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور سکیورٹی کونسل کی کمیٹی کو یہ ٹیپ سنوائی جا چکی تھی۔

چار جون کو انڈیا نے ان ٹیپس کو ان کی ٹرانسکرپٹ کے ساتھ وزیر اعظم نواز شریف کو سنانے کا فیصلہ کیا۔ اگر مشرف کی بات چیت کو ریکارڈ کرنا انڈین انٹیلیجنس کی ایک بڑی کامیابی تھی تو نواز شریف تک ان ٹیپس کا پہنچانا کوئی کم بڑا کام نہیں تھا۔

سوال اٹھا کہ ان حساس ٹیپس کو لے کر اسلام آباد کون جائے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ orf
Image caption سابق سفارت کار وویک کاٹجو

انڈیا کے رابطہ کاروں کا اسلام آباد کا رازدارانہ سفر

ایک شخص نے نام نہ ظاہر کیے جانے کی شرط پر بتایا کہ مشہور صحافی آر کے مشرا کو اس کے لیے منتخب کیا گیا تھا جو اس وقت آسٹریلیا میں تھے۔ انھیں انڈیا بلا کر یہ ذمہ داری سونپی گئی۔

اس خوف سے کہ کہیں اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ان کی تلاشی نہ لی جائے اس لیے انھیں ’سفارتکار‘ کی حیثیت دی گئی ہے تاکہ انھیں سفارتی استثنیٰ حاصل ہو جائے۔

ان کے ساتھ ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری وویک کاٹجو بھی گئے۔

آرکے مشرا نے صبح 8:30 بجے ناشتے کے وقت نواز شریف سے ملاقات کی اور انھیں وہ ٹیپ سنوائی اور ٹرانسکرپٹ ان کے حوالے کی۔

اس کام کو مکمل کرنے کے بعد مشرا اور کاٹجو اسی شام دہلی واپس آ گئے۔ اس سفر کو اتنا خفیہ رکھا گیا کہ اس وقت کم از کم اس کا ذکر کہیں نہیں آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کارگل کے پاس انڈین فوجی

صرف کولکتہ سے شائع ہونے والے اخبار ’ٹیلی گراف‘ نے چار جولائی سنہ 1999 کے اخبار میں پرنے شرما کی ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا ’دہلی ہٹس شریف ود آرمی ٹیپ ٹاک‘ تھا۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس ٹیپ کو نواز شریف کو سنانے کے لیے انڈیا نے وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری وویک کاٹجو کو اسلام آباد بھیجا تھا۔

را کے سابق ایڈیشنل سکریٹری بی رمن نے 22 جون سنہ 2007 کو آؤٹ لک میگزین میں لکھے گئے ایک مضمون ’ریلیز آف کارگل ٹیپ ماسٹر پیس اور بلنڈر؟‘ میں لکھا کہ نواز شریف کو ٹیپ سنانے والوں کو یہ واضح پیغام دیا گیا تھا کہ وہ ٹیپ سنانے کے بعد اسے واپس لے آئيں اور ان کے حوالے نہ کریں۔

مشرا نے بعد میں اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ انھوں نے یہ کام کیا تھا۔ وویک کاٹجو نے بھی اسے باضابطہ تسلیم نہیں کیا۔

اس پسِ منظر میں را کے سیکرٹری اروند دَوے، قومی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا اور جسونت سنگھ کی سوچ یہ تھی کہ ان ثبوتوں اور خدشات کے باعث کہ انڈیا کے پاس اس طرح کے مزید ٹیپ ہو سکتے ہیں وہ پاکستان کی قیادت کو کارگل کے معاملے پر دباؤ میں لا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ orf
Image caption مبینہ طور پر سینيغر صحافی آر کے مشرا کو اس کام کے لیے روانہ کیا گیا

ٹیپس کو عوام کے سامنے لانا

وزیر اعظم نواز شریف کے ان ٹیپوں کو سننے کے ایک ہفتے بعد 11 جون سنہ 1999 کو پاکستانی وزیر خارجہ سرتاج عزیز کے دورے سے قبل انڈیا نے ایک پریس کانفرنس میں ان ٹیپس کو ظاہر کر دیا۔

ان ٹیپس کی سینکڑوں کاپیاں بنائی گئيں اور دہلی میں تمام غیر ملکی سفارت خانوں کو بھیجی گئیں۔

مشرف کی لاپروائی

انڈین انٹیلیجنس کمیونٹی کے لوگ اب بھی یہ بتاتے ہوئے ہچکچاتے ہیں کہ انھوں نے اس کام کو کس طرح انجام دیا۔

پاکستانیوں کا خیال ہے کہ اس کام میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے یا اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے انڈیا کی مدد کی۔ جن لوگوں نے ان ٹیپس کو سنا ہے ان کا خیال ہے کہ اسلام آباد کی جانب والی آواز زیادہ واضح تھی، شاید اس کا ذریعہ اسلام آباد ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم نواز شریف اور اٹل بہاری واجپئی

کارگل پر شائع ہونے والی معروف کتاب ’فرام کارگل ٹو دی کو‘ (کارگل سے تختہ الٹنے تک) لکھنے والی پاکستانی صحافی نسیم زہرہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں: ’اپنے چیف آف جنرل سٹاف سے اتنی حساس بات چیت کھلے فون پر کرکے جنرل مشرف نے یہ ثبوت دیا کہ وہ کس حد تک لاپرواہ ہو سکتے ہیں۔ اس گفتگو کے عام ہونے نے یہ ثابت کر دیا کہ کارگل آپریشن میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت کس حد تک ملوث تھی۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز مشرف نے اپنی سوانح عمری ’ان دی لائن آف فائر‘ میں اس واقعے کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ تاہم بعد میں پاکستان کے صدر کے طور پر ہندوستانی صحافی ایم جے ابر کو دیے ایک انٹرویو میں انھوں نے ان ٹیپس کی صداقت کو قبول کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دہلی میں جسونت سنگھ نے سرتاج عزیز کا سرد مہری کے ساتھ استقبال کیا

دہلی میں سرتاج عزیز کا سرد استقبال

نواز شریف کے ٹیپ سننے کے ایک ہفتے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ سرتاج عزیز جب انڈیا کے دورے پر دہلی آ رہے تھے تو ایئرپورٹ پر پاکستانی ہائی کمیشن کے پریس کونسل پریشانی کے عالم میں ان کی منتظر تھی۔

ان کے ہاتھ میں کم سے کم چھ ہندوستانی اخبار تھے جن میں مشرف - عزيز گفتگو شائع ہوئی تھی۔ جسونت سنگھ نے سرتاج عزیز سے بہت سرد مہری سے مصافحہ کیا۔

ان ٹیپس سے دنیا اور خاص طور پر ہندوستان میں اس خیال کو استحکام ملا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کا کارگل بحران میں براہِ راست ہاتھ نہیں ہے اور فوج نے انھیں کارگل مہم کی معلومات سے دور رکھا ہے۔

Image caption را کے سابق ایڈیشنل سیکریٹری میجر جنرل وی کے سنگھ کے ساتھ ریحان فضل

ٹیپس جاری کرنے پر تنقید

انڈیا کے بعض انٹیلیجنس حلقوں میں ان ٹیپس کے جاری کیے جانے پر تنقید بھی ہوئی۔

را میں ایڈیشنل سیکرٹری میجر جنرل وی کے سنگھ نے اس معاملے پر مشہور کتاب ’اڈياز ایكسٹرنل انٹیلیجنس - سيكرٹ ٹیل آف ریسرچ اینڈ انالسس ونگ‘ لکھی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ پتہ نہیں ہے کہ ان ٹیپس کو سامنے لا کر بھارت کو امریکہ اور اقوام متحدہ سے کتنے ’براؤنی پوائنٹس‘ ملے، لیکن یہ ضرور ہے کہ پاکستان کو اس کے بعد اسلام آباد اور بیجنگ کے اس خاص سیٹلائٹ لنک کا پتہ چل گیا، جسے را نے ’انٹرسیپٹ‘ کیا تھا۔

’اسے پاکستان نے فوری طور پر بند کر دیا۔ اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ اگر وہ ’لنک‘ جاری رہتا، تو ہمیں اس کے بعد بھی کتنی اور اہم معلومات حاصل ہوتی رہتیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چرچل کی مثال

میجر جنرل وی کے سنگھ نے مزید کہا ’شاید را یا وزیر اعظم کے دفتر کے اس وقت کے لوگوں نے سنہ 1974 میں شائع ہونے والے ایف ڈبلیو ونٹرباتھم کی کتاب ’الٹرا سیکرٹ‘ نہیں پڑھی تھی جس میں پہلی بار دوسری جنگ عظیم کے ایک اہم انٹیلیجنس ذریعے کا ذکر کیا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جنگ عظیم کی ابتدا میں ہی برطانیہ نے جرمن انسائفرنگ ڈیوائس 'اےنگما' کا کوڈ دریافت کر لیا تھا اور اس بات کو آخر تک راز میں رکھا گیا اور جرمن فوج نے پوری جنگ کے دوران ’اےنگما‘ کا استعمال جاری رکھا جس سے برطانوی انٹیلیجنس ڈیپارٹمنٹ کو قیمتی معلومات فراہم ہوتی رہیں۔

انھوں نے کہا ’ایک مرتبہ تو برطانیہ کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ جرمن فضائيہ ’لوفت وافا‘ کاوینٹری پر اگلی صبح بمباری کرنے والی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اس شہر کے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچا کر ان کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ لیکن چرچل نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس سے جرمنی کو شک ہو جاتا اور وہ ’اےنگما‘ کا استعمال بند کر دیتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption را کے سابق ایڈیشنل سیکریٹری بی رمن

نفسیاتی جنگ میں انڈیا کا فائدہ

لیکن دوسری طرف را کے سابق ایڈیشنل سکریٹری بی رمن کا خیال ہے کہ ان ٹیپس کو عوام کے سامنے لانا نفسیاتی جنگ میں سبقت حاصل کرنے کا سب سے بڑا نمونہ تھا۔

ایڈیشنل سکریٹری بی رمن کے مطابق اس نے ہماری فوج کے اس دعوے کو مستحکم کیا کہ کارگل میں لڑائی کرنے والے پاکستانی فوج کے ’باقا‏عدہ‘ سپاہی ہیں نہ کہ علیحدگی پسند جہادی جیسا کہ مشرف بار بار کہہ رہے تھے۔

ان معلومات نے امریکہ کو اس نتیجے تک پہنچنے میں مدد دی کہ پاکستان نے کشمیر میں کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی ہے اور اسے ہر قیمت پر انڈیا کی سر زمین سے ہٹانا چاہیے۔

ان ٹیپس کی وجہ سے پاکستانیوں کے درمیان پاکستانی فوج اور مشرف کے قابل یقین ہونے پر شک و شبہات پیدا ہوئے۔ آج بھی پاکستان میں بہت سے لوگ ہیں جو کارگل کے متعلق مشرف کی مبینہ کہانی کو مسترد کرتے ہیں۔

اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان ٹیپس کی وجہ سے پاکستان پر دنیا کا دباؤ بڑھا اور اسے کارگل سے اپنے فوجیوں کو ہٹانا پڑا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں