ٹرمپ کی ثالثی کی آفر پر کشمیری خوش

تصویر کے کاپی رائٹ PM OFFICE

امریکی صدر ڈونلڈ کی طرف سے ہند پاک مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہند نواز اور ہند مخالف سیاسی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی امریکہ میں موجودگی کے دوران صدر ٹرمپ نے کشمیر کے تنازع میں دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کے لیے آمادگی کا اظہار کر کے کشمیر کے سیاسی حلقوں میں توقعات کی لہر کو جنم دیا ہے۔

گو ہند نواز حلقے محتاط لہجہ اختیار کررہے ہیں، علیحدگی پسندوں نے امریکی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔ حریت کانفرنس کے کلیدی رہنما میرواعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ کشمیر کے تنازعے میں انڈیا اور پاکستان کے علاوہ کشمیری عوام تیسرا مگر مظلوم فریق ہیں، ’اسی لیے کشمیری عوام کا امریکی پیشکش پر خوش ہونا فطری بات ہے۔‘

مزید پڑھیے

ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش، انڈیا کا انکار

کشمیر کے اجڑے آشیانے

’اسرائیل کی طرح انڈیا کشمیر میں قابض طاقت بن جائے گا‘

انھوں نے کہا کہ ملکی سیاست کی مجبوریوں کے لیے فی الوقت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس بات کی تردید کرسکتے ہیں کہ انھوں نے ٹرمپ کے ساتھ کشمیر پر کوئی گفتگو نہیں کی، ’لیکن حق یہ ہے کہ تیزی سے بدل رہی جیوپولیٹکل صورتحال کے بیچ انڈیا کو بہرحال کشمیر کا حتمی حل ڈھونڈنا ہوگا۔‘

مقامی ہند نواز سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے کئی رہنماؤں نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ’نریندر مودی کی حکومت کشمیر کی صورتحال سے اپنی ٹرمز پر نمٹنا چاہتی تھی۔ لیکن کشمیر ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے گرد ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ امریکہ، چین، روس اور ایران کے مفادات بھی پائے جاتے ہیں۔

مبصرین کہتے ہیں کہ امریکہ کی کشمیر میں ایک بار پھر سے دلچسپی کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو روکنا چاہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تجزیہ نگار ریاض ملک کہتے ہیں: ’انڈیا میں فی الوقت ایک نظریاتی جماعت بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت کررہی ہے۔ کشمیر کی پالیسی کے بارے میں کسی طرح کی کوئی اعتدال پسندی نہیں دکھائی جارہی ہے۔ پاکستان کے ساتھ بات نہیں ہورہی ہے اور علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ بندشیں اور قدغنیں جاری ہیں۔ ایسے میں اگر امریکہ دلچسپی لے رہا ہے تو مودی حکومت کو اپنی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔‘

قابل ذکر بات یہ ہے کہ گذشتہ تین سال کے دوران کشمیر میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن ہوا جس میں تقریباً ایک ہزار عسکریت پسند مارے گئے۔

وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس مدت میں ساڑھے چار سو فورسز اہلکار اور سو سے زیادہ عام شہری بھی مارے گئے۔ لیکن اس مدت میں حکومت ہند نے مقامی سیاست کو کنارے کر کے انتظامیہ کو براہ راست دلی سے چلایا اور علیحدگی پسندوں کو بھی منظر سے ہٹایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ریاض ملک کہتے ہیں کہ ’حکومت ہند یہاں کی سیاست کو بدلنا چاہتی ہے، وہ اپنے بل پر حکومت قائم کر کے کشمیر کا آئینی انضمام چاہتی ہے۔ لیکن امریکہ کی مداخلت کی باتیں جب سامنے آرہی ہیں تو دیکھنا ہوگا کہ انڈیا اس کے باوجود اپنی ہی پالیسی پر عمل کا متحمل ہوگا یا نہیں۔‘

سماجی رضاکار سفینہ کہتی ہیں کہ ’اب تو صاف ظاہر ہے کہ ٹرمپ ہی اگلے انتخابات میں منتخب ہوں گے۔ انڈیا اب امریکی مداخلت کو روک نہیں پائے گا، کیونکہ امریکہ کے سٹریٹیجک مفادات پاکستان اور افغانستان کے ساتھ وابستہ ہیں اور پاکستان کے چین کے ساتھ بھی تعلقات اچھے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک اُمید افزا تبدیلی ہے، ہوسکتا ہے اب کشمیر میں انڈیا کی سکیولر پالیسی بھی بدل جائے۔‘

اسی بارے میں