مسئلہ کشمیر ابھی باقی رہے گا!

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر کا ذکر کہاں سے آیا فی الحال کسی کو نھیں معلوم۔

اگر انڈیا نے اپنے انکار میں ذرا دیر کردی ہوتی تو کشمیر کا مسئلہ منگل کی شام ہی حل ہو گیا ہوتا۔

صدر ٹرمپ کسی بھی کام میں اس سے زیادہ وقت کہاں لگاتے ہیں۔

وہ زمانے اور تھے جب امریکی صدور کہا کرتے تھے کہ ایران کی عقل ٹھکانے لگانی ہو یا شمالی کوریا کو بات چیت کی میز تک لانا ہو، میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانی ہو یا پھر چین کو اس کا تجارتی قد دکھانا ہو۔۔۔ ہمیشہ بہت دیر کر دیتا ہوں میں۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش، انڈیا کا انکار

ثالثی کی پیشکش: ’پاکستان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا‘

ٹرمپ کی ثالثی کی آفر پر کشمیری خوش

اب تو حالات یہ ہیں کہ صبح سویرے اٹھتے ہی صدر ٹرمپ اپنے مشیروں کو طلب کرتے ہیں کہ بتاؤ دنیا میں کہیں کوئی نیا پرانا تنازع تو باقی نہیں ہے، اگر ہے تو آج ہی نمٹا دیتے ہیں، کل کی کسے خبر کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی اور حل کردے اور ہم سوچتے ہی رہ جائیں۔

تو کشمیر کا ذکر کہاں سے آیا فی الحال کسی کو نھیں معلوم۔ انڈین وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی نے کشمیر کا ذکر کیا ہی نہیں ( اس لیے ثالثی کی درخواست کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا) اور صدر ٹرمپ کی ویڈیو کو اگر غور سے سنیں تو لگتا ہے کہ جیسے کشمیر کے علاوہ اور کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو! انھوں نے تو پورے ڈائلاگ دہرائے ہیں۔

اور ایسے ہی نئے تنازعے جنم لیتے ہیں تاکہ انہیں حل کیا جاسکے۔ انڈیا کے لیے یہ مشکل کی گھڑی ہے۔ نہ صدر ٹرمپ کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں اور ظاہر ہے نہ اپنے وزیر اعظم کو!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایک سینئر صحافی نے صدر ٹرمپ کے دعوے اور ان کی پیشکش کو 'آوٹ ریجئیس' قراد دیا ہے

بہرحال، میرے نزدیک بنیادی سوال یہ نہیں ہے کہ کس نے کیا کہا، سوال یہ ہے کہ اگر کشمیر کا تنازع حل ہو جائے تو اس میں برائی کیا ہے، اگر وزیر اعظم مودی نے یہ کہا بھی ہو کہ یہ پاکستانی نہیں مانتے، عمران خان آپ سے ملنے آنے والے ہیں، ذرا ان سے معلوم تو کیجیے گا کہ آخر وہ چاہتے کیا ہیں، تو اس میں کیا برائی ہے؟

لیکن انڈیا میں جس طرح کا ردعمل سامنے آیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ جیسے ملک کے مفادات کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کر لیا گیا ہے۔ ایک سینئر صحافی نے صدر ٹرمپ کے دعوے اور ان کی پیشکش کو ’آوٹ ریجئیس‘ قراد دیا ہے، اس تناظر میں شاید توہین آمیز اور ناقابل قبول کے درمیان کی کوئی چیز!

اور تقریباً یہی گونج پارلیمان میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ حزب اختلاف وزیراعظم سے پارلیمان میں بیان دینے کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن اگر نریندر مودی خود پارلیمان میں آکر یہ کہتے ہیں کہ بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہوئی، صدر ٹرمپ نے پوری کہانی خود گھڑی ہے، تو بس اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ جواب میں ٹوئٹر پر کیا کچھ کہہ سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ بات تقریباً طے ہے کہ دونوں حکومتوں کی جانب سے سفارتکار ہی محتاط زبان استعمال کرتے ہوئے معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

لیکن اگر انڈیا اور پاکستان آپس میں بھی بات نہیں کریں گے اور نہ کسی تیسرے فریق کو بیچ میں آنے دیا جائے گا تو بات آگے کیسے بڑھے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا اور پاکستان نے آپس میں بات چیت کرکے اور نا کرکے تو بہت مرتبہ دیکھ لیا

امریکہ طالبان سے بات کر رہا ہے، طالبان بس ماننے سے انکار کرتے ہیں، براہ راست نا ہی سہی لیکن وہ افغان حکومت کے نمائندوں سے بات کر رہے ہیں۔ (دوحہ میں اس ماہ ہونے والے مذاکرات میں افغان حکومت کے نمائندے اپنی ’نجی‘ حیثیت میں شریک ہوئے تھے!) اور انڈیا کو اب اپنی افغانستان پالیسی میں ترمیم کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے، یعنی افغانستان میں اسے الگ تھلگ ہونے سے بچنا ہے تو اسے بھی طالبان سے بات چیت کے راستے کھولنے چاہئیں۔

انڈیا اور پاکستان نے آپس میں بات چیت کرکے اور نا کرکے تو بہت مرتبہ دیکھ لیا، اب تو لگتا ہے کہ فاصلے کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی جارہے ہیں، ایسے میں صدر ٹرمپ سے جو بات نہیں کہی گئی، کہہ بھی دی جاتی تو کیا قیامت آجاتی؟

یہ بات اور ہے کہ تنازعات نمٹانے میں صدر ٹرمپ کا ریکارڈ کچھ ایسا ہے کہ کچھ دن بعد انڈیا اور پاکستان خود ہی آپس میں مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہوجاتے!

اسی بارے میں