انڈیا: کشمیری قیدیوں کی 24 سالوں بعد رہائی 'کیا یہ انصاف ہے؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کم سنی اور جوانی جیل میں گزارنے کے بعد جب سرینگر کے رہائشی محمد علی بٹ گھر پہنچے تو وہ اپنے والدین کی قبروں کی زیارت کے لیے گئے۔

محمد علی بٹ کو سنہ 1996 میں نیپال سے گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ وہ سال تھا جب انڈیا کے لاجپت نگر اور سروجنی نگر علاقوں میں بم دھماکے ہوئے جن میں متعدد عام شہری مارے گئے تھے۔

چونکہ ان دنوں کشمیر میں مسلح شورش عروج پر تھی، انڈیا بھر میں تجارت یا تعلیم کے لیے مقیم کشمیری شک کے دائرے میں آ گئے۔

انڈین فورسز نے نیپال میں نہ صرف علی بٹ بلکہ سرینگر کے لطیف وازہ اور مرزا نثار حسین کو بھی گرفتار کیا تھا۔

علی بٹ اور مرزا نثار کی عمریں 20 سال جبکہ لطیف وازہ 17 سال کے تھے۔ تینوں سرینگر کے ان گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو کشمیری دستکاریوں کا کاروبار گذشتہ تین نسلوں سے کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کے اجڑے آشیانے

کشمیر:حکومت علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کرے گی؟

برہان وانی کی برسی پر سخت سکیورٹی، انٹرنیٹ معطل

کشمیر کی سنگ بار لڑکیاں

نیپال چونکہ دستکاریوں کی فروخت کے لیے ایشیا کا قریبی مرکز ہے، کشمیری طویل مدت سے نیپال میں اپنی دستکاریاں فروخت کرتے رہے ہیں۔

بٹ، مرزا اور وازہ بھی اسی سلسلے میں وہاں تھے کہ اچانک نئی دلی کے لاجپت نگر اور سروجنی نگر علاقوں میں دھماکے ہوئے۔ 23 سال کی قید کے بعد تینوں کو جے پور کی ہائی کورٹ نے ٹھوس شواہد نہ ملنے کی پاداش میں بے قصور قرار دے کر ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔ اب تینوں گھر لوٹے ہیں لیکن تینوں کی دنیا بدل چکی ہے۔

49 سالہ محمد علی بٹ

پرانے سرینگر کے خانقاہ معلی علاقے میں شمس واری محلے کے رہائشی محمد علی بٹ آسودہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ سنہ 1980 کی دہائی میں ہی کشمیری دستکاریوں بالخصوص قالین کی مانگ دنیا بھر میں بڑھ گئی تھی۔ بٹ کے چھوٹے بھائی ارشد احمد بٹ کہتے ہیں: ’ہم ہر سال رشتہ داروں، دوستوں اور دیگر تعلق داروں کے لیے دعوت کا اہتمام کرتے تھے، اس دعوت پر ایک لاکھ روپے کا خرچ ہوتا تھا لیکن پھر علی کی گرفتاری نے سب ختم کر دیا۔ والد انتقال کر گئے، کاروبار متاثر ہو گیا، ہم جیل اور وکیلوں کے چکر میں آ گئے۔ اب علی رہا ہو گیا ہے لیکن اب وہ بات نہیں، ہم خوشحالی سے بدحالی میں آ گئے ہیں۔‘

ارشد کے مطابق علی جب نیپال سے گرفتار ہوئے تو ان کی عمر 25 سال تھی۔ ان کی گرفتاری کے دوران ہمارے والدین کا انتقال ہو چکا ہے لیکن وہ جنازے پر نہ آ سکے۔ رہائی پر پہلا کام انھوں نے یہ کیا کہ والدین کی قبروں پر حاضری دی۔

ارشد کہتے ہیں کہ والدین کے علاوہ کئی رشتہ داروں کی موت ہو چکی ہے اور واپسی پر علی اپنی آزادی کا جشن کم اور اپنوں کی جدائی کا غم زیادہ محسوس کر رہا ہے۔

44 سالہ لطیف وازہ،

لطیف بھی علی کے ہی پڑوس میں سرینگر کے فتح کدل میں رہتے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی طارق وازہ نے دانتوں کے معالجہ یعنی ڈینسٹری میں ڈپلومہ لطیف کی گرفتاری کے بعد کیا۔

طارق کے بقول ’لطیف بھائی گرفتار ہوئے تو والد انتقال کر گئے۔ گھر میں بہن تھی، مجھ پر ذمہ داری تھی۔ ہر ماہ دلی، جے پور اور گجرات کی عدالتوں میں حاضری، بہن کی ذمہ داری، ماں کا خیال اور اپنی پڑھائی۔ یہ سب میں نے کیسے کیا، اللہ ہی جانتا ہے۔‘

طارق خوش ہیں کہ ان کے بھائی رہا ہو گئے ہیں لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ 23 سال کی قید کے بعد کسی کو بے قصور پا کر رہا کرنے کا مطلب واقعی انصاف ہے۔

40 سالہ مرزا نثار حسین

مرزا کو جب نیپال سے گرفتار کیا گیا تو اس وقت ان کی عمر 16 برس کی تھی۔ مرزا کے دوست طارق ڈار، جو خود 12 سال کی قید کے بعد دو سال قبل رہا ہوئے کہتے ہیں کہ مرزا کو انگریزی سیکھنے کا شوق تھا۔ طارق پڑھے لکھے تھے، لہذا انھوں نے مرزا کو انگریزی سکھائی۔

طارق کہتے ہیں: ’مرزا کو جیل میں 14 سال ہو چکے تھے۔ پہلی مرتبہ ان کی ماں ملاقات کے لیے تہاڑ جیل آئیں۔ ملاقات سلاخوں کی اوٹ سے کراتی جاتی تھی۔ 15 منٹ تک دونوں طرف آنسو بہتے رہے۔ جیل حکام کو سمجھ آیا، گیٹ کھولا گیا اور ماں بیٹا گلے ملے، اس دن کوئی بات نہیں ہوئی۔‘

واضح رہے علی بٹ، مرزا نثار اور لطیف وازہ کو سنہ 1996 میں نئی دلی کے لاجپت نگر اور سروجنی نگر میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزام میں نیپال سے گرفتار کیا گیا۔

جے پور کی ایک عدالت نے گذشتہ روز ان کے خلاف لگے الزامات سے متعلق حکومت کی دلائل کو ناکافی قرار دے کر تینوں کو بے قصور قرار دے کر ان کی رہائی کا حکم دیا۔

چارج شیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے محمد علی بٹ کے بھائی ارشد بٹ کہتے ہیں: ’الزام ہے کہ حملے میں جو گاڑی استعمال ہوئی اس کا ڈرائیور میرا بھائی علی تھا لیکن ارشد کو گاڑی چلانی ہی نہیں آتی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں