آخر یہ سب کب رکے گا؟ کارگل میں جان دینے والے انڈین فوجی کی بیٹی کا سوال

گُرمہر تصویر کے کاپی رائٹ Gurmeher Kaur

گرمہر کور کے والد بھارتی فوج میں کپتان تھے اور کارگل کی جنگ کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ سنہ 2017 میں گرمہر نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جس میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان نے نہیں میرے والد کو جنگ نے مارا تھا۔‘

گرمہر نے کارگل کی جنگ کے 20 برس کی تکمیل پر بی بی سی اردو کے لیے ایک بلاگ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے:

اس بات کو کتنے برس گزر چکے ہیں، ہمارے گھر میں کوئی بھی اس کا حساب نہیں رکھتا۔

ہاں اگر کبھی یہ بتانے کی ضرورت پڑ ہی جائے کہ یہ واقعہ کب ہوا تھا تو ہم لوگ میری بہن سے اس کی عمر پوچھ لیتے ہیں کیونکہ جب آپریشن وِجے کی کامیابی کے چند دن بعد ہمارے والد کا انتقال ہوا، اس وقت چھوٹی بہن صرف تین ماہ کی تھی۔

ان گزرے برسوں کا حساب ہماری بہن کی ہڈیوں میں لکھا ہوا ہے کیونکہ اس عرصے کے دوران اس کے چھوٹے چھوٹے بازو اور ٹانگیں بہت بڑے ہو چکے ہیں اور وہ تین ماہ کی بچی اب طویل قامت خاتون بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

گر مہر کے باپ کو کس نے مارا ؟

مجھے تنہا چھوڑ دو جو کہنا تھا کہہ چکی

پاکستانی فوجی جس کی بہادری کا دشمن بھی قائل ہوا

ان 20 برسوں میں ہم نے کبھی اس کی زبان سے اس واقعے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں سنا۔ ہم جب بھی اس بارے میں بات کرتے ہیں، اس سے کچھ پوچھتے ہیں تو جواب میں وہ مشکل سے چند الفاظ ہی کہہ پاتی ہے اور ہلکے سے سر ہلا کر ہاں میں ہاں ملا دیتی ہے۔

میں اور میری والدہ ان مٹھی بھر یادوں کا سوچ کر خوش ہو جاتے ہیں جو ہمارے پاس بچی ہیں۔

ہم دونوں ان دنوں کی دھندلی تصویروں میں میرے والد کا چہرہ دیکھ کر معنی تلاش کرتے رہتے ہیں لیکن یہ تصویریں میری بہن کے لیے سوائے ایک اداسی کے کوئی مطلب نہیں رکھتیں۔ وہ کبھی کچھ نہیں کہتی اور ہم نے بھی کبھی اسے مجبور نہیں کیا کہ وہ بات کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آج جب انڈیا ہر سال 26 جولائی کو ’کارگل وِجے دیواس‘ کا جشن مناتا ہے تو ہم بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں، پاکستانی دراندازوں کے خلاف ہماری اس بڑی فتح کا جشن جو ہم نے 1999 میں حاصل کی تھی۔

گذشتہ چند برسوں سے جولائی ہمارے لیے ایک ایسا مہینہ بن چکا ہے جب غیر سرکاری تنظیموں، مقامی سیاستدانوں، لیڈیز کلب اور ان جیسے دیگر لوگوں کی طرف سے دعوت نامے ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ہر کوئی چاہتا ہے کہ میری والدہ ان کی تقریب میں شامل ہو کر اپنی جرات اور بہادری کے گن گائیں اور لوگوں کو بتائیں کہ وہ ابھی تک کس بہادری سے زندگی کا مقابلہ کر رہی ہیں۔

میری والدہ اکثر ان تقریبات میں جانے سے کتراتی تھیں کہ وہاں ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے غم کا اظہار کھل کر کریں، اتنا کھل کر کہ تمام حاضرین سنیں۔ وہ لوگوں کی توقعات سے دو حصوں میں بٹ جاتیں، ایک وہ حصہ جو اپنے شوہر کی یاد میں ان کے بارے میں ہونے والی گفتگو میں شامل ہو جاتا ہے، اور دوسرا وہ جو سمجھتا ہے کہ وہ ہمارے والد کے بارے میں جتنی زیادہ بات کریں گی، وہ اتنے ہی زیادہ یاد آئیں گے اور ہمیں اپنی زندگی میں ان کی کمی زیادہ محسوس ہو گی۔

لیکن میری سوچ والدہ سے ہمیشہ مختلف رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ youtube
Image caption ’میں نے یہ کبھی نہیں چاہا کہ میں تقریبات میں جا کر اپنے دکھوں کی نمائش کروں‘

میں نے یہ کبھی نہیں چاہا کہ میں تقریبات میں جا کر اپنے دکھوں کی نمائش کروں۔ اپنی داستان وہاں آئی ہوئی آنٹیوں کو سناؤں اور وہ پیار سے میرے گال پر چٹکی کاٹ کر مجھے احساس دلائیں کہ میں کس قدر بد قسمت ہوں، ایک ایسی بیٹی جس کا والد اب اس کے پاس نہیں۔ پھر اس کے بعد آنٹیاں مجھے اپنی گود میں اٹھا لیں، مجھے دلاسا دیں اور یوں اپنے بارے میں اچھا محسوس کر سکیں۔ خیرات میں ہمدردی مجھے پسند نہیں۔

پاکستانی فوج سے اپنی چوکیاں چُھڑائے ہوئے اب ہمیں دو عشرے گزر چکے ہیں، لیکن وادی میں بے چینی اب بھی اتنی ہی ہے جیسی ہمیشہ رہی ہے۔ جنگ بندی کے اعلانات ہو چکے ہیں، لیکن پرتشدد کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ اُس وقت سے لیکر اب تک، کشمیر میں فوج کی تعیناتی میں کبھی کوئی کمی نہیں ہوئی ہے، فوجیوں اورعام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی ہی رہتی ہے۔

اگرچہ انڈیا اور پاکستان کی اِس آخری جنگ کو صرف بیس برس ہوئے ہیں لیکن یہ تنازع تقسیم ہند کے وقت سے جاری ہے۔

انڈیا میں یہ بات ہمارے خمیر میں شامل کی جا چکی ہے کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے اور پاکستان کے خمیر میں یہ بات کہ یہ تقسیم ہند کا وہ ایجنڈا ہے جو ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے اور کوئی بھی فریق نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی حل تلاش کیا جائے۔

گذشتہ دس برسوں میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کئی مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں لیکن ان کی طرف سے تصویروں کے علاوہ کچھ نہیں آیا۔

میرے خیال میں وقت آگیا ہے کہ ان سیاستدانوں کو بتایا جائے کہ ہمارے لیے ان کی وہ تصویریں اور ویڈیوز کسی کام کی نہیں جن میں وہ یا تو ایک دوسرے سے بغلگیر ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور جب مدبر رہنما رہنما نہیں کھیل رہے ہوتے اور ایک دوسرے خلاف نفرت کے انگارے اگل رہے ہوتے ہیں، تو اس سے نہ تو ہمارا کوئی مقصد پورا ہوتا ہے اور نہ ہی ہمارے زخموں پر مرہم لگتی ہے۔

ایل او سی نہ انچ اِدھر ہوئی ہے اور نہ ایک انچ اُدھر، لیکن جوں جوں سال گزر رہے ہیں سرحد کے آر پار فائرنگ اور اس تنازعے کو زندہ رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہیں۔

یوں جوں جوں تشدد بڑھ رہا ہے، لوگوں کے خوف میں اضافہ ہو رہا اور اس سوال کا جواب تلاش کرنا ضروری ہو گیا ہے آخر یہ سب کچھ کب اور کہاں جا کے رکے گا؟

اسی بارے میں