جنوبی ایشیا میں مون سون: سیلاب اور بارشوں سے کم از کم 600 ہلاکتیں

سیلاب انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ NDRF
Image caption ماہا لکشمی ایکسپریس کے مسافروں کو سیلاب سے نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر، کشتیاں اور ڈائیونگ ٹیمیں تعینات کی گئیں تھیں

گذشتہ ہفتوں کے دوران ہونے والی مون سون بارشوں کے باعث اب تک جنوبی ایشیا میں کم از کم 600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سیلابی صورتحال کی وجہ سے سینکڑوں لوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

سنیچر کے روز سیلاب کے باعث انڈیا میں ممبئی شہر کے قریب ایک ٹرین پانی میں رک گئی جس کی وجہ سے اس میں سوار تمام 700 مسافر اندر پھنس گئے تھے۔ تاہم امدادی کارروائیوں کے بعد تمام مسافروں کو بحفاظت ٹرین سے نکال لیا گیا۔

حکام کی جانب سے ماہا لکشمی ایکسپریس کے مسافروں کو سیلاب سے نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر، کشتیاں اور ڈائیونگ ٹیمیں تعینات کی گئیں تھیں۔ ٹرین کے مسافر جمعے کی رات ونگانی کے مقام پر پھنس گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

شدید موسم سے 49 ہلاکتیں، فصل کا نقصان

’رات کس طرح گزاری یہ بتانا الفاظ میں ممکن نہیں‘

چترال میں سیلاب: ’علیمہ خان سمیت درجنوں پھنس گئے‘

مسافروں نے خبر رساں ادارے آئی اے این ایس کو بتایا کہ وہ 15 گھنٹوں تک سیلاب میں پھنسے رہے اور ان کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ نہ تھا جبکہ حکام کی جانب سے حکم جاری کیا گیا کہ وہ ٹرین پر سوار رہیں۔

کچھ ہفتوں سے جاری مون سون بارشیں اور ان سے پیدا ہونے والے سیلاب کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں اب تک کم از کم 600 اموات ہو چکی ہیں۔

انڈیا میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی آر ایف نے کچھ تصاویر جاری کی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح مسافروں کو ربڑ کی کشتیوں سے محفوظ مقامات تک پہچایا گیا۔

حکام نے کہا ہے کہ جائے وقوعہ کے قریب عارضی طور پر ایک کیمپ قائم کردیا گیا ہے جہاں خوراک اور طبی امداد فراہم کی جائے گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق بچائے جانے والے مسافروں میں 9 حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مقامی میڈیا کے مطابق بچائے جانے والے مسافروں میں 9 حاملہ خواتین بھی شامل ہیں

ٹرین آپریٹر کے ایک ترجمان نے بتایا کہ متاثرین کے سفر کے لیے متبادل انتظامات بھی کر دیے گئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے شدید بارشوں کے باعث بدلہ پور، اُلہنس نگر اور ونگانی سمیت بیشتر قریبی علاقے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ بارشوں کی وجہ سے مقامی دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔

ممبئی میں آمد و رفت کے دیگر ذرائع بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اب تک 11 پروازیں منسوخ ہوئی ہیں جبکہ ممبئی آنے والی کئی پروازوں کے لیے متبادل راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سمیت دیگر صوبوں میں بھی بارش اور سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا انتظامیہ سے ملنے والی معلومات کے مطابق مندرجہ ذیل مقامات لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔

  • جل کھڈ (162 کلومیٹر) اور بیسل (168 کلومیٹر) کے درمیان
  • 130 کلومیٹر پر
  • ناران (122 کلومیٹر) اور بٹہ کنڈی (137 کلومیٹر) کے درمیان
  • بٹہ کنڈی (137 کلومیٹر) اور بُروائی (150 کلومیٹر) کے درمیان
  • 156 سے 157 کلومیٹر کے درمیان

حکام کے مطابق فی الوقت بٹہ کنڈی (137 کلومیٹر) اور بُروائی (150 کلومیٹر) کے درمیان اور 156 سے 157 کلومیٹر کے علاقے میں موجود لینڈ سلائیڈز صاف کرنی باقی ہیں۔

جبکہ پنجاب میں بھی شدید بارشوں کے باعث بوسیدہ گھروں کی چھتیں گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں