ریپ، با اثر سیاستدان، بی جے پی اور متعدد ہلاکتیں، یہ حقیقت ہے یا کوئی فلمی کہانی

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/IKULDEEPSENGAR
Image caption کلدیپ سینگر پر ریپ اور قتل کے الزامات ہیں

انڈیا کی ریاست اترپردیش کا شہر اناؤ ایک ایسی خبر کے سبب سرخیوں میں ہے جس نے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آیا یہ حقیقت ہے یا کسی فلم کی کہانی۔ جس میں ایک نابالغ لڑکی کے ریپ سے لے کر اس کے گھر والوں کو ہراساں کرنا اور اس کے والد کا قتل بھی شامل ہے۔

چند روز پہلے ہی ریپ کی شکار لڑکی، اس کے وکیل اور دو گواہوں کی کار کو رائے بریلی کے نزدیک ایک ٹرک نے اڑا دیا۔ گواہ ہلاک اور لڑکی اور اس کا وکیل نازک حالت میں ہسپتال میں ہیں اور اب یہ کیس سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

کٹھوعہ ریپ کیس کا فیصلہ، تین مجرموں کو عمر قید

ایبٹ آباد میں تین سالہ بچی ریپ کے بعد قتل

تصویر کے کاپی رائٹ ANUBHAV YADAV
Image caption ٹرک کی نمبر پلیٹ کو مٹانے کی کوشش کی گئی تھی

لڑکی کے گھر والوں کا الزام ہے کہ لڑکی کی کار کو ٹکر اور گواہوں کی موت حادثاتی نہیں بلکہ سوچا سمجھا قتل ہے۔ ان کے قتل کی سازش کا الزام رکن اسمبلی کلدیپ سینگر پر لگایا جا رہا ہے جن پر پہلے ہی لڑکی کے ریپ کا الزام ہے اور وہ ہمیشہ اس کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ان کے وکیل اودیش سنگھ نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ متاثرہ لڑکی کی کار کا ٹرک سے ٹکرانا محض ایک حادثہ ہے۔

لڑکی جس کی عمر اب انیس سال ہے اپنے وکیل اور دو رشتے داروں کے ساتھ کار میں سوار اپنے چاچا سے ملنے جا رہی تھی جو اس وقت جیل میں قید ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rex Features
Image caption اناؤ ریپ کیس کے حوالے سے لوگ مظاہرے کر رہےہیں

راستے میں رائے بریلی کے نزدیک غلط سِمت سے آ نے والے ایک ٹرک نے انھیں ایک زور دار ٹکر ماری اور گاڑی میں سوار لڑکی کی چاچی اور خالہ نے موقع پر دم توڑ دیا جبکہ لڑکی اور وکیل کو انتہائی نازک حالت میں ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ ابتدائی رپورٹ میں اترپردیش پولیس کے سربراہ اوم پرکاش سنگھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسے حادثہ قرار دیا۔ یہ بات قابِلِ ذکر ہے کہ ٹرک کی نمبر پلیٹ پر کالی سیاہی لگائی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تاثرہ لڑکی اور اس کے رشتےدار اس کار میں سوار تھے

اناؤ شہر سے بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی کے ایم ایل اے کلدیپ سینگر جو پہلے ہی ریپ کے الزام میں جیل میں تھے اب ان پر قتل کا مقدمہ بھی درج ہو گیا ہے۔

2017 میں ایک سترہ سال کی نا بالغ لڑکی نے ایم ایل اے کلدیپ سینگر پر ریپ کا الزام لگایا تھا۔ لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ ملازمت کے سلسلے میں کلدیپ سینگر سے ملنے گئی تھی لیکن اسے قید کر کے ایک ہفتے تک اس کے ساتھ ریپ کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیر کی رات دلی کے انڈیا گیٹ پر لوگوں نے احتجاج کیا

لڑکی کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ بار بار شکایت کے باوجود بھی پولیس نے ایف آئی آر نہیں درج کی جس کے بعد انھیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔

متاثرہ لڑکی کے گھر والوں نے میڈیا کے ساتھ بات چیت میں الزام لگایا تھا کہ اس دوران ایم ایل اے اور اس کے لوگ انھیں دھمکاتے رہے۔ لڑکی کا کہنا تھا کہ انصاف کے لیے انھوں نے ہر اہلکار سے مدد کی اپیل کی لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اترپریش کے وزیر اعلی یوگی ادتیہ ناتھ پر ریاست میں امن و قانون کی صورتِ حال کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے

لڑکی کا کہنا تھا کہ پچھلے سال ایم ایل اے کے بھائی اتل سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے ان کے والد کے ساتھ مار پیٹ کی اور بعد میں پولیس نے ان کے والد کے خلاف ہی ایف آئی آر درج کر کے انھیں جیل میں ڈال دیا۔

پریشان ہو کر پچھلے سال آٹھ اپریل کو متاثرہ لڑکی نے اپنی ماں کے ساتھ لکھنؤ میں وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے باہر خود کو آگ لگا کر خود کشی کرنے کی کوشش کی لیکن انھیں بچا لیا گیا اور اگلے ہی دن لڑکی کے والد کی پولیس حراست میں موت ہو گئی اور معاملہ شہ سرخیوں میں آ گیا۔

چار مہینے بعد ہی لڑکی کے والد کی پولیس حراست میں مبینہ مار پیٹ اور موت کے چشم دید اور پورے معاملے کے اہم گواہ کی پر اسرار حالات میں موت ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کلدیپ سینگر کو گزشتہ سال گرفتار کیا گیا تھا

معاملے کو سرخیوں میں آنے اور مختلف سماجی اور سیاسی حلقوں کے دباؤ کے بعد سی بی آئی کے سپرد کر دیا گیا۔ تحقیقات شروع ہوئیں لیکن کلدیپ سینگر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی اور وہ اسے اپنے خلاف ایک سیاسی سازش قرار دیتے رہے۔ تیرہ اپریل 2018 کو سی بی آئی پوچھ گچھ کے لیے انھیں ساتھ لے گئی اور اسی دن الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

اب متاثرہ لڑکی کے رشتہ دار لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل کالج کے باہر دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں جہاں لڑکی اور اس کے وکیل کا علاج جاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کلدیھ سینگر ابھی تک بی جے پی کے رکن ہیں اور پارٹی میڈیا اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے پا رہی کہ اس پورے معاملے کے باوجود بھی اب تک کلدیپ سینگر کو پارٹی سے کیوں نہیں نکالا گیا۔

اسی بارے میں