انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر: حکام کہتے ہیں سب ٹھیک ٹھاک ہے

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایک حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ امرناتھ گھپا کے دیدار کے لیے آئے یاتریوں اور سیاح فوراً وادی چھوڑ دیں

گذشتہ کئی ہفتوں سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کسی بڑی کارروائی کی افواہیں گرم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں کے باسی خوف و ہراس کی گرفت میں ہیں۔ اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ سب ٹھیک ٹھاک ہے لیکن حکومتی سطح پر بعض اعلانات اور فوجی نقل و حمل مزید افواہوں کا باعث بن رہی ہیں۔

جمعہ کے روز کشمیر میں تعینات انڈین آرمی کی 15ویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل جے ایس ڈھلون، کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ اور سی آر پی ایف کے اے ڈی جی ذوالفقار حسن نے مشترکہ پریس کانفرنس میں ان افواہوں کی تردید کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مسئلہ کشمیر ابھی باقی رہے گا!

ثالثی کی پیشکش: ’پاکستان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا‘

’کشمیر پر ثالثی کی پیشکش ماننا مودی کا کام ہے‘

ایل او سی پر کشیدگی: ’مودی آرٹیکل 35 اے سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں‘

اس پریس کانفرنس کے فوراً بعد ریاستی دفتر داخلہ کے پرنسپل سیکرٹری شیلین کابرا نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں امرناتھ گھپا کے دیدار کے لیے آئے یاتریوں اور سیاحوں کو فوراً وادی چھوڑنے کے لئے کہا گیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے ’موجودہ سکیورٹی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یاتریوں اور سیاحوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ وادی میں اپنا قیام مختصر کر کے فوراً واپس لوٹ جائیں۔‘

حالانکہ ڈی جی پولیس دلباغ سنگھ نے بتایا کہ اضافی فورسز کی تعیناتی ایک معمول کا عمل ہے جسے میڈیا میں مبالغہ آمیز اعداد و شمار کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے تاہم اصرار کے باوجود انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنی اضافی فورسز کو تعینات کیا جا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر یہ افواہیں اُڑیں کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی انڈین آئین میں حاصل خصوصی پوزیشن کو ختم کیا جائے گا اور ممکنہ عوامی ردعمل کو روکنے کے لئے فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ تاہم بعد میں گورنرنے کہا آئین کی دفعہ 35-A کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہو گی۔

جمعہ کی دوپہر یہ افواہیں بھی گرم ہوئیں کہ انڈین حکومت نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں ہندو اکثریت والے علاقوں کو علیحدہ ریاست جبکہ کشمیر اور لداخ کو مرکز کے زیرِ انتظام خطے قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے کے ردعمل کو روکنے کے لئے سنیچر سے کرفیو نافذ ہو گا۔ ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے ان خبروں کی بھی تردید کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کے آئین کے مطابق انڈین حکومت کسی بھی ریاست کی جغرافیائی حدود یا نام مقامی قانون سازوں کی رضامندی کے بغیر تبدیل نہیں کر سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ NICHOLAS KAMM
Image caption جمعے کے روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مسئلہِ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو ماننا وزیراعظم مودی کا کام ہے

مصنف اور تجزیہ نگار پی جی رسول کہتے ہیں کہ ’بی جے پی کشمیر کے انڈین وفاق میں مکمل انضمام کی مہم ستر برسوں سے چلا رہی ہے۔ پہلی مرتبہ اس پارٹی کو سیاسی غلبہ حاصل ہے۔ اس لئے یہ توقع کرنا کہ کچھ نہیں ہو گا بے وقوفی ہے۔‘

واضح رہے انڈیا نواز سیاسی جماعتیں، علیحدگی پسند اور سول سوسائٹی طویل عرصے سے کہتے رہے ہیں کہ ایسا کچھ بھی ہوا تو کشمیر میں حالات خراب ہو جائیں گے۔

بی جے پی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’جو کچھ ہو گا کشمیر کی بھلائی کے لئے ہو گا اور حکومت نہیں چاہتی کہ عام انسانوں کی جانیں جائیں، لہذا یہ جو تیاری ہو رہی ہے اس پر افواہوں کا بازار گرم کرنے کی ضرورت نہیں۔‘

یہ بات قابلِ ذکر ہے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ ایک سال سے نئی دلی کا براہ راست انتظام گورنر ستیہ پال ملک کے ذریعہ چل رہا ہے۔

اسمبلی کے انتخابات کو بار بار ملتوی کیا جا رہا ہے، حالانکہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سال کے اندر ہی مسلح عسکریت پر قابو پا لیا گیا اور حالات بھی بہتر ہوئے ہیں۔

گذشتہ کئی برسوں بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ ایک ماہ کے دوران ساڑھے تین لاکھ یاتریوں نے ہمالیائی سلسلے پر واقع امرناتھ گھپا میں شولنگ کے درشن کیے۔

سیاحوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن ان سب ہی مثبت تبدیلیوں کے بیچ جو غیر یقینی کا ماحول قائم ہوا ہے اُس سے عام لوگ خوفزدہ ہیں۔

اسی بارے میں