کشمیر میں بڑھتی کشیدگی: انڈین حکومت کا سیاحوں اور ہندو زائرین کو وادی سے نکلنے کا مشورہ

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Amir peerzada

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت نے سیاحوں اور امرناتھ کے ہندو زائرین کے لیے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انھیں جلد از جلد وہاں سے نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔

اس ایڈوائزری سے وادی میں تشویش اور افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ 'شدت پسندی کے خطرے، بطور خاص امرناتھ کے زائرین کو نشانہ بنائے جانے کی خفیہ اطلاعات اور وادی کی موجودہ سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر سیاحوں اور امرناتھ یاتریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ فوراً واپس لوٹ جائيں۔'

اس ایڈوائزری کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور سیاحوں نے اپنے سامان باندھ کر واپس جانا شروع کر دیا ہے۔

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Amir peerzada

دو اگست سے ہی سیاح وادی سے نکلنے لگے ہیں۔ ہوٹلوں کو خالی کیا جارہا ہے۔ مقامی افراد ضروری سامان اکٹھا کر رہے ہیں، اے ٹی ایم اور پٹرول سٹیشنز کے باہر لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔

ایک سیاح وینوٹن نے کہا: ’ہمیں یہ ایڈوائزی انٹرنیٹ پر نظر آئی۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ صرف ہندو یاتریوں کے لیے ہے۔ ہم نے یہاں رکنے کا فیصلہ کیا۔ ہم ڈل جھیل دیکھنا چاہتے تھے کہ اچانک ہمیں پولیس کا فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ 'ہمیں فوراً ہی نکلنا ہوگا۔‘

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Amir peerzada

وینوٹن کا تعلق بیلجیم سے ہے اور وہ اسی دن کشمیر آئی تھیں جس دن یہ ایڈوائزری جاری کی گئی تھی۔ انھیں اگلے ہی دن وادی سے جانے کے لیے کہہ دیا گيا۔

ان کا کہنا ہے کہ 'میں کشمیری عوام کے لیے پریشان اور غمزدہ ہوں۔ میرے خیال سے یہ کشمیر کی سیاحت کے لیے برا ہے۔'

کشمیر کی معیشت کا ایک بہت بڑا حصہ سیاحت سے آتا ہے، لیکن کشیدگی میں اضافے کے سبب کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Amir peerzada

حالیہ برسوں میں گذشتہ سال سنہ 2018 میں کشمیر میں سب سے کم سیاح آئے۔ گذشتہ سال ملک اور بیرون ملک سے صرف آٹھ لاکھ سیاحوں نے وادی کا رخ کیا۔ سیاحوں کی یہ تعداد سنہ 2017 کے مقابلے میں 20 فیصد سے زیادہ کم ہے۔

سری نگر میں ٹریول ایجنسی چلانے والے آزاد بیگ کہتے ہیں کہ 'سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ اچانک یہ حکم آ گیا۔ اس سے صورت حال کشیدہ ہو گئی ہے۔ لوگ بھاگ رہے ہیں، سیاح جا رہے ہیں۔'

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Amir peerzada

آزاد کہتے ہیں: 'یہ ہمارا ٹورسٹ سیزن ہے۔ اور اس سال ہم امید کر رہے تھے کہ سیاحوں کے معاملے میں حالات بہتر ہوں گے، لیکن اب ہر جانب تاریکی ہی نظر آتی ہے۔

آزاد نے کہا: 'گلمرگ، سون مرگ اور دیگر مقامات کے سیاحتی ریزارٹس میں مقیم سیاح اپنے گھروں کو واپس جارہے ہیں اور ہوٹلوں کی بکنگ منسوخ کر رہے ہیں۔'

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Amir peerzada

گذشتہ ہفتے سے کشمیر میں بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی سے خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ کشمیر میں تقریباً 25 ہزار اضافی دستے بلائے گئے ہیں اس کی وجہ سے افواہوں کا بازار گرم ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت 35-اے ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یا ریاست جموں سے جموں کو علیحدہ کرنے جا رہی ہے۔

یہ افواہ گرم ہے کہ جموں کو علیحدہ کرکے اسے ریاست کا درجہ دے دیا جائے گا جبکہ کشمیر اور لداخ کو مرکز کے زیر انتظام خطہ (یونین ٹیریٹری) بنا دیا جائے گا۔

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Amir peerzada

سری نگر اور جموں ہوائی اڈے سے بیشتر پروازوں نے بغیر کسی اضافی قیمت کے ٹکٹ منسوخ کرنے اور سب کے لیے 15 اگست تک پروازوں کو ری شیڈیول کرنے کی پیش کش کی ہے۔

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Amir peerzada

جمعہ کی شام کشمیری رہنماؤں کے ایک گروپ نے وادی میں پھیلے خوف و ہراس کے متعلق جموں و کشمیر کے گورنر سے ملاقات کی۔ اس گروپ میں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، شاہ فیصل، سجاد لون اور عمران انصاری شامل تھے۔

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Amir peerzada

گورنر ستیپال ملک نے وفد سے کہا کہ وہ 'امن و امان قائم رکھیں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔'

اسی بارے میں