مودی حکومت کا انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا اعلان

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا نے حالیہ دنوں میں کشمیر میں ہزاروں اضافی فوجی تعینات کیے ہیں جبکہ غیرکشمیریوں کو علاقہ چھوڑنے کو کہا گیا ہے

انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے زیرِ انتظام کشمیر کو انڈین آئین میں دیے جانے والے خصوصی درجے اور اختیارات کو ختم کر رہی ہے۔

انڈیا کے وزیرداخلہ امت شاہ نے پیر کو راجیہ سبھا یعنی انڈین پارلیمان کے ایوان بالا میں کشمیر کو نیم خودمختاری دینے والے آرٹیکل 370 ختم کرنے کی تجویز پیش کی جس پر صدرِ مملکت پہلے ہی دستخط کر چکے ہیں۔

انڈین آئین کا آرٹیکل 370 جموں و کشمیر کو دیگر انڈین ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ خودمختاری دیتا تھا اور یہ وہی شق ہے جس کی بنیاد پر یہ ریاست انڈیا کے ساتھ شامل ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

آرٹیکل 370 تھا کیا اور اس کے خاتمے سے کیا بدلے گا؟

کشمیر سے غیر کشمیریوں کا انخلا کیوں ہو رہا ہے؟

فوجی مشقیں، حکم نامے، افواہیں: وادی میں خوف

دس ہزار اضافی فوج، کشمیر افواہوں کی گرفت میں

’دفعہ 35 اے گئی تو کشمیر فلسطین بن جائے گا‘

امت شاہ نے جو تجویز پارلیمان میں پیش کی اس کے مطابق جموں و کشمیر کی تنظیم نو کی جائے گی اور آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر اب مرکز کے زیر انتظام ریاست یا یونین ٹیریٹری ہو گی جن کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہو گی اور وہاں لیفٹیننٹ گورنر تعینات کیا جائے گا جبکہ لداخ مرکز کے زیر انتظام ایسا علاقہ ہوگا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہو گی۔

انڈین وزیرِ داخلہ کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اعلان کے موقع پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور کشمیر میں بھی اس فیصلے پر سخت ردعمل کا اندیشہ ہے۔

کشمیر سے کانگریس رہنما غلام نبی آزاد نے ایوان میں کہا کہ 'ہم انڈیا کے آئین کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بازی لگادیں گے۔ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ آج بی جے پی نے اس آئین کا قتل کیا ہے۔'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی تجویز سے پہلے امت شاہ کا خطاب: ’جموں و کشمیر کی تنظیم نو کی جائے گی‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے اس اعلان کے بعد اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ' آج کا دن انڈیا کی جمہوریت میں سیاہ ترین دن ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ جموں و کشمیر کی قیادت کی جانب سے سنہ 1947 میں دو قومی نظریے کو رد کرنا اور انڈیا کے ساتھ الحاق کا فیصلہ بیک فائر کر گیا ہے۔

‘ انڈیا کی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جس سے انڈیا جموں و کشمیر میں قابض قوت بن جائے گا۔`

ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’اس اقدام کے برصغیر پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انڈیا کی حکومت کے ارادے واضح ہیں، وہ جموں و کشمیر کے علاقے کو یہاں کے عوام کو خوفزدہ کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انڈیا کشمیر کے ساتھ کیے وعدوں پر ناکام ہو چکا ہے۔‘

ادھر اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔

او آئی سی نے ایک ٹویٹ میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال سمیت وہاں پیراملٹری فورسز کی تعیناتی اور انڈین فوج کی جانب سے شہریوں کو ممنوعہ کلسٹر بموں سے نشانہ بنائے جانے پر انتہائی تشویش ظاہر کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES/TWITTER
Image caption حکام نے نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی محبوبہ مفتی اور جموں کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون کو ان کے گھروں میں نظربند کر دیا ہے

انڈین آئین کی شق 370 عبوری انتظامی ڈھانچے کے بارے میں ہے اور یہ آرٹیکل ریاست جموں و کشمیر کو انڈین یونین میں خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتا تھا۔

اس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خاص مقام حاصل تھا اور انڈیا کے آئین کی جو دفعات دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتی ہیں اس آرٹیکل کے تحت ان کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر پر نہیں ہو سکتا تھا۔

اس آرٹیکل کے تحت دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمان ریاست میں ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر انڈین قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتی تھی۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی ریاست میں یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے تاہم آرٹیکل 370 کے تحت انڈین حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔

کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟

بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس اقدام سے قبل ہی چند دن سے کشمیر میں صورتِ حال کشیدہ ہے اور اس اعلان سے قبل انڈیا کے وادی میں ہزاروں اضافی فوجی تعینات کیے جا چکے ہیں۔

وادی میں دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ حکام نے نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی محبوبہ مفتی اور جموں کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون کو ان کے گھروں میں نظربند کر دیا ہے۔

دفعہ 144 کے تحت لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے اور وادی کے تمام تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ سری نگر سمیت پوری وادی کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے اپنی ایک ٹویٹ میں پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’یہ رات بہت لمبی ہونے جا رہی ہے، پتا نہیں کل کیا ہونے والا ہے۔‘

قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈووال نے گذشتہ ہفتے خاموشی سے سرینگر کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے پولیس، فوج اور خفیہ اداروں کے اعلیٰ اہلکاروں کے ساتھ سکیورٹی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ ان کے دورے کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اچانک دس ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی سے ریاست میں یہ افواہیں گرم تھیں کہ مرکزی حکومت ریاست کو خصوصی درجہ دینے والی آئینی شق کو ختم کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔

کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ اگر آئینِ ہند میں موجود یہ حفاظتی دیوار گر گئی تو وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہو جائیں گے کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیر مسلم آباد کار یہاں بس جائیں گے جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہو جائیں گے۔

یہ خدشہ صرف علیحدگی پسند حلقوں تک محدود نہیں بلکہ ہند نواز سیاسی حلقے بھی اس دفعہ کے بچاؤ میں پیش پیش ہیں۔

’کشمیر کو دنیا سے کاٹ دیا گیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سری نگر میں بی بی سی ہندی کے نامہ نگار عامر پیرزادہ نے بتایا ہے' کل شام تک کشمیر میں لینڈ لائن، موبائل اور انٹرنیٹ سب چل رہا تھا لیکن رات کو مواصلات کے تمام ذرائع کو مرحلہ وار بند کر دیا گیا ہے۔ صبح جب لوگ گھروں سےباہر آئے تو ہر گلی، ہر موڑ پر سیکورٹی کے دستے تعینات تھے۔یہ ایسا کرفیو ہے جس کا کوئی پیشگی اعلان نہیں کیا گیا۔

'ہر سڑک پر بڑے پیمانے پرسکیورٹی فورسز کو تعینات کیاگیا ہے۔ کشمیر کے دوسرے حصوں میں کیا ہو رہا ہے ہمیں اس کا معلوم نہیں ہے کیونکہ تمام رابطے منقطع کیے جا چکے ہیں۔

' کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ لینڈ لائن ٹیلیفون بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔حکومتی اہلکاروں کو آپس میں رابطے کےلیے سیٹلائٹ فون دیئے گئے ہیں کیونکہ ان کے بھی ٹیلیفون اور موبائل بھی بند ہیں۔

'تمام سرکردہ سیاستدانوں کو گھروں میں بند کر دیا گیا ہے۔ محبوبہ مفتی، عمر اللہ کو بھی گھروں میں بند کیا گیا ہے۔کسی کو کچھ نہیں معلوم کہ کیا ہو رہا ہے۔

'عامر پیرزادہ نے بتایا کہ وہ ایئرپورٹ کے باہر ایک ڈھابے پر ایک لینڈ لائن فون چل رہا ہے جو شاید پورے کشمیر میں واحد لینڈ لائن ہو گی جو چل رہی ہے۔

کشمیر میں ڈر اور خوف کا ماحول ہے، لوگ گھروں میں بند ہوگئے ہیں۔ لوگوں نے مہینوں کے لیے خوراک کا ذخیرہ کر رکھا ہے۔'

اسی بارے میں