کشمیر میں سخت پابندیوں میں عید کے موقع پر حالات پرامن

Image caption سری نگر میں لوگوں نے سخت پابندیوں کے سائے میں عید کی نماز ادا کی

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سخت سکیورٹی کے سائے میں عید الاضحٰی کے موقع پر کسی قسم کے پرتشدد واقعات کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

انتطامیہ نے نماز اور قربانی کے لیے جموں و کشمیر میں کرفیو اور پابندیوں میں نرمی کی تھی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ فون اور انٹرنیٹ کی سروس معطل ہونے کی وجہ سے عام افراد اپنے رشتہ داروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں اور نہ ہی انھیں معلومات تک رسائی حاصل ہے۔

حکومت کے ترجمان چیف سکریٹری روہت کنسل نے سری نگر میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’عید کی نماز اپنے مقررہ وقت پر سری نگر، بانڈی پورہ، بارہمولہ، کپواڑہ، ترہگام، بڈگام، سوپور، کلگام، شوپیاں، پلوامہ، اونتی پورہ، اننت ناگ جموں اور دورس سبھی شہروں اور قصبوں میں روایتی مذہبی جوش وخروش کے ساتھ منائی گئی۔‘

یاد رہے کہ کشمیر میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق عید کے موقع پر سری نگر میں مرکزی جامع مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں تھی اور شہریوں نے اپنے محلوں کی مقامی مسجدوں میں عید کی نماز ادا کی۔

یہ بھی پڑھیے

’عید گزرنے دو، کشمیر میں طوفان آئے گا‘

’میرا بچہ کہتا ہے بنکر میں دم گھٹتا ہے‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

’میں اپنے بیٹے کو بھی بندوق اٹھانے کے لیے تیار کروں گا`

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی جگہ سے کسی ناخوش گوار واقعے کی کوئی خبر نہیں آئی ہے۔‘

قربانی کے لیے پابندیوں کے باوجود جانوروں کی فروخت کا انتظام کیا گیا تھا۔

فون اور انٹرنیٹ پر پابندیوں کے سبب مختلف مقامات پر لوگوں کے لیے 300 ٹیلی فون بوتھوں کا انتظام کیا گیا تھا جہاں سے لوگوں نے اپنے رشتے داروں سے بات کی۔

نماز کے دوران قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈوبال نے سری نگر، بارہمولہ، بڈگام، آونتی پورہ اور کئی دیگر علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔

کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل سویم پرکاش نے عید کے موقع پر صورتحال پر امن رہنے کے لیے شہریوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بعض ٹوئٹر اکاؤنٹس کے ذریعے وادی کی صورتحال کے بارے میں ’گمراہ کن اور جھوٹی باتیں‘ پھیلائی جارہی تھیں جنھیں بند کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے کہا گیا ہے۔

حکومت کے ترجمان چیف سکریٹری روہت کنسل نے کہا کہ مقامی حالات کے مطابق پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور جس حد تک ممکن ہو اس میں نرمی کی جاتی ہے اور یہ ایک مسلسل عمل ہے اور جیسے جیسے صورتحال بہتر ہوگی اسی کی مناسبت سے پابندیوں میں نرمی کی جائیگی۔

اسی بارے میں