’کشمیر کی صورتحال حساس ہے‘: انڈین سپریم کورٹ کا فوری حکم جاری کرنے سے انکار، سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین سپریم کورٹ کشمیر میں عائد پابندیوں کے کیس کی سماعت آج کر رہی ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی جانب سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت بدلنے کے بعد وہاں لگائی جانے والے پابندیوں کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے انڈین سپریم کورٹ نے فوری طور پر کوئی حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق عدالت عظمٰی کے تین رکنی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی صورتحال حساس ہے اس لیے حالات معمول پر آنے تک انتطار کرنا چاہيے۔

واضح رہے کہ درخواست گزار کانگریس کے رہنما تحسین پونے والا نے پٹیشن میں استدعا کی ہے کہ ریاست کشمیر میں نافذ کرفیو، ٹیلی فون، موبائل اور انٹرنیٹ کی معطلی اور ٹی وی چینلز کی بندش ختم کی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین حکومت کا اعتراف کہ صورہ میں احتجاج ہوا تھا

کیا کشمیر واقعی ’خوبصورت قید خانہ‘ ہے؟

کشمیر: سخت پابندیوں میں عید پر حالات پرامن

’عید گزرنے دو، کشمیر میں طوفان آئے گا‘

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ کشمیری سیاسی قیادت مثلاً سابق وزرا اعلی کشمیر عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو رہا کیے جانے کے ساتھ ساتھ انڈین حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد پیدا ہونی والی صورتحال پر کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پٹیشن میں کشمیر میں نافذ کرفیو، ٹیلی فون، موبائل اور انٹرنیٹ کی معطلی، ٹی وی چینلز کی بندش ختم کرنے سمیت تمام پابندیاں ہٹانے کی درخواست کی گئی

انڈیا کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کانگریس پارٹی کے رکن تحسین پونے والا کی جانب سے دائر اس درخواست کی سماعت جسٹس ارون مشرا، جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس اجے رستوگی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کی۔

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق انڈین سپریم کورٹ نے اس بارے میں آج کوئی حکم نہیں دیا اور اس معاملے کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

دوسری جانب مقامی اخبار کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹیو ایڈیٹر انورادھا بھاسن کی جانب سے بھی سپریم کورٹ میں کشمیر میں عائد پابندیوں کے حوالے سے جمع کروائی گئی درخواست پر عدالت اعظمیٰ نے فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا اور درخواست گزار سے کہا وہ فوری سماعت کے لیے اپنی پٹیشن رجسٹرار کو جمع کروائے۔ عدالت ان کی درخواست پر غور کرے گی۔

یاد رہے کہ فون اور انٹرنیٹ کی سروس معطل ہونے کی وجہ سے عام افراد اپنے رشتہ داروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں اور نہ ہی انھیں معلومات تک رسائی حاصل ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل جموں و کشمیر کی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس نے بھی انڈین حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے خلاف انڈین سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔

یہ درخواست لوک سبھا کے دو اراکین محمد اکبر لون اور سابق جسٹس حسنین مسعودی نے جمع کروائی تھی جس میں انڈین پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون سازی اور اس کے نتیجے میں صدر سے جاری کردہ احکامات کو'غیر آئینی، کالعدم اور غیر فعل' قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عید کے دوسرے روز بھی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں لاک ڈاون جاری ہے

کشمیر کی صورتحال

عید کے دوسرے روز بھی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں لاک ڈاون جاری ہے، مرکزی بازار اور شاہراؤں پر سکیورٹی فورسز کا سخت پہرہ ہے۔ جگہ جگہ روکاٹیں لگا کر ناکے لگائے گیے ہیں اور شہریوں کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔

اس سے قبل پیر کو سخت سکیورٹی کے سائے میں کو عید الاضحٰی کے موقع پر کسی قسم کے پرتشدد واقعات کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی تھیں۔ انتطامیہ نے نماز عید اور قربانی کے لیے جموں و کشمیر میں کرفیو اور پابندیوں میں عارضی نرمی کی تھی جسے نماز کی ادائیگی کے بعد دوبارہ نافذ کر دیا گیا تھا۔

کشمیر میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق عید کے موقع پر سری نگر میں مرکزی جامع مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں تھی اور شہریوں نے اپنے محلوں کی مقامی مسجدوں میں عید کی نماز ادا کی۔

انڈین صحافتی تنظمیوں کے مطالبات

دوسری طرف انڈیا کی خاتون صحافیوں کے پریس کلب آئی ڈبلیو پی سی نے وادی کشمیر میں مواصلات اور رابطے کے سبھی ذرائع بند ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کلب کی صدر جیوتی ملہوترا کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمہوری نظام میں میڈیا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے انڈیا میں میڈیا کا کردار بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔' اگر رابطے کے بنیادی وسائل تک رسائی نہیں ہوگی تو میڈیا اپنا کام صحیح طرح سے نہیں کر سکے گا۔ آرٹیکل 370 کو ختم کیے جانے کے حکومتی فیصلے کے ایک ہفتے بعد انٹرنیٹ تقریباً بند ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ میڈیا کو پوری طرح بند کرنے کے مترادف ہے۔'

خاتون پریس کلب نے کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام رکاوٹوں کے باوجود اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تین روز قبل مدیروں کی ایسوسی ایشن ایڈیٹرز گلڈ نے بھی وادی کشمیر میں رابطے کے سبھی ذرائع معطل کیے جانے پر گہری تشویش ظاہر کی تھی۔ گلڈ نے ایک بیان میں حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ میڈیا کے لیے رابطے کے وسائل بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے بیان میں کہا گیا تھا کہ میڈیا کی شفافیت ہمیشہ انڈیا کی طاقت رہی ہے اور رہنی چاہیے۔'

گلڈ نے کشمیر سے غیر معمولی مشکلات کے باوجود خبریں بھیجنے والے تمام صحافیوں کی ستائش کی ہے اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔گلڈ نے تمام لوگوں سے بالخصوص حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کو ہر جگہ آنے جانے کی آزادی دی جائے اور ان کے تحفط کو یقینی بنایاجائے۔

انڈیا-چین مذاکرات

اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پیر کو انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات میں چین کی طرف سے کشمیر تنازع پر بات کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر زور دیا ہے کہ اپنے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔

اسی بارے میں