آرٹیکل 370: کیا انڈیا نے کشمیر کی واپسی کا راستہ بند کر دیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈین حکومت کی جانب سے ان کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے کشمیر میں گذشتہ ایک ہفتے سے غیر معمولی لاک ڈاؤن جاری ہے۔ لندن اسکول آف اکنامکس (ایل ایس ای) میں بین الاقوامی اور تقابلی سیاست کے پروفیسر سمانترا کا اس مضمون میں تجزیہ کہ انڈین حکومت کا یہ فیصلہ چیلنجز سے کیوں گھرا ہوا ہے۔

اکتوبر کے آخر میں جموں و کشمیر انڈیا کی ریاست نہیں رہے گا۔

گذشتہ ہفتے انڈیا کی پارلیمنٹ نے واضح اکثریت سے وفاقی حکومت کے ذریعے ریاست کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کے فیصلے کی منظوری دی ہے۔ وفاقی حکومت سے ریاستوں کی نسبت مرکز کے تحت کام کرنے والے علاقوں یعنی یونین ٹریٹریز کو خود مختاری بہت کم ملتی ہے اور وہ بنیادی طور پر دہلی کے براہ راست حکمرانی کے تابع ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کا ’لاک ڈاؤن‘ انڈین سپریم کورٹ میں چیلنج

کشمیر مانگو گے۔۔۔

کشمیر: سخت پابندیوں میں عید پر حالات پرامن

’عید گزرنے دو، کشمیر میں طوفان آئے گا‘

ریاست کی تقریباً 98 فیصد آبادی یونین ٹریٹری جموں و کشمیر میں ہوگی، جو دوخطوں پر مشتمل ہے۔ مسلم اکثریتی کشمیر وادی جس میں تقریباً اسی لاکھ آبادی ہے اور ہندو اکثریتی جموں جس میں تقریباً ساٹھ لاکھ افراد آباد ہیں۔

تیسرا علاقہ، لداخ جو نو تشکیل شدہ مرکزی علاقہ ہے، سطح سمندر سے کافی اونچائی پر موجود ایک صحرا ہے جہاں تین لاکھ آبادی ہے جس میں مسلمان اور بدھ مذہب کے پیرو کاروں کی تقریباً برابر تعداد ہے۔

گذشتہ ہفتے کے واقعات نے ہندو قوم پرستوں کا 1950 کی دہائی کے اوائل میں کیا گیا مطالبہ پورا کیا جو آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنا تھا۔

سات دہائیوں سے ہندو قوم پرست مسلسل آرٹیکل 370 کی مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں اور وہ اس کو انڈیا کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کے ساتھ ’خوشامدانہ پالیسی‘ کے تحت گردانتے رہے ہیں۔ آئین کی اس شق پر اعتراض ہندو قوم پرستوں کے نظریاتی عقیدے کے مطابق بھی تھا کہ انڈیا کو ایک یکجہتی اور مرکزیت پسند قومی ریاست ہونا چاہئے۔

جموں و کشمیر کی 'تنظیم نو' بھی ایک دیرینہ ہندو قوم پرست ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہے۔

سنہ 2002 میں ہندو قوم پرست تحریک کی بنیادی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے تحت ایک الگ ہندو اکثریتی جموں ریاست، مسلم اکثریتی وادی کشمیر اور لداخ کے لیے یونین ٹریٹری کی حیثیت شامل تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس کے ساتھ ہی آر ایس ایس سے وابستہ وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے ریاست کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے تحت ایک علیحدہ جموں ریاست اور لداخ کو مرکزی خطے کے طور پر اور اس کے علاوہ وادی کشمیر کا ایک بڑا حصہ کاٹ کر کشمری پنڈتوں کو دینا جس کی حیثیت یونین ٹریٹری کی ہو اور وہاں مکمل طور پر صرف کشمیری پنڈت آباد ہوں گے۔

یہ وہ ہندو اقلیت ہے جو 1990 میں وادی میں شورش پھوٹ پڑنے پر اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وہاں سے نکلنے پر مجبور ہوگئی تھی۔ وی ایچ پی کے منصوبے کے تحت وادی کشمیر میں جو حصہ باقی بچ جائے وہ پھر مسلم اکثریت آبادی کو دیا جائے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے کیا گیا دعویٰ کہ آرٹیکل 370 کے ذریعے قائم کردہ خود مختاری جموں و کشمیر میں خارجی علیحدگی پسند تحریک کی وجہ بنی ہے، ’بدنیتی پر مبنی ہے۔‘

’کشمیری خود مختاری پہلے ہی بڑے پیمانے پر ختم ہو چکی ہے‘

1950 اور 1960 کی دہائی میں وفاقی حکومتوں کے ذریعے کشمیر کی ریاست پر ایسے اقدامات لیے گیے جن سے یہ خود مختاری پہلے ہی بڑے پیمانے پر ختم ہو چکی ہے۔

1960 کی دہائی کے بعد سے آرٹیکل 370 کی جو چیز باقی رہ گئی تھی وہ زیادہ تر علامتی تھی۔ ریاست کا ایک جھنڈا 1950 کی دہائی کا ایک ایسا ریاستی دستور جو کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں تھا اور ریاست جموں و کشمیر کا وہ ریاستی تعزیرایتی ضابطہ باقی رہ گیا تھا جو وہ کشمیر میں سنہ 1846 سے 1947 تک موجود تھا۔

آرٹیکل 35 اے، جو ریاست میں باہر سے آئے لوگوں کو زمین یا جائیداد خریدنے سے روکتا ہے، اور ریاست کے رہائشیوں کو ملازمتوں میں ترجیح کی یقین دہانی کراتا ہے کا نفاذ جاری رہا۔ لیکن ایک یہ قانونی دفعات جموں و کشمیر کے لیے منفرد نہیں تھیں۔

انڈیا کی متعدد ریاستوں بشمول شمالی ریاستوں ہماچل پردیش ، اتراکھنڈ اور پنجاب کے ساتھ انڈیا کے شمال مشرقی علاقوں کی متعدد ریاستوں کو بھی مقامی باشندوں کے لیے اسی طرح کی حفاظت حاصل ہے۔

ریاست میں 'علیحدگی پسندی' کی اصل وجہ جو سنہ 1990 میں بغاوت کی صورت میں سامنے آئی تھی، وہ تھی 1950 اور 1960 کی دہائی میں ریاست کی خودمختاری کی مکمل منسوخی۔ اس کے علاوہ وہ احکامات اور اقدام جس کے تحت دہلی کے ذریعے قائم کٹھ پتلی مقامی حکومتوں کی ملی بھگت سے یہاں سخت قوانین کو رائج کر کے اسے ایک پولیس ریاست بنانا تھا۔

جموں وکشمیر کو اس کی ریاستی حیثیت سے محروم کرنا اور اس کو پامال کرنے جیسے اقدام کی مثال آزادی کے بعد کے انڈیا میں نہیں ملتی لیکن برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت اس سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔

انڈین یونین کی بنیاد 29 ریاستوں پر ہے جو جلد ہی 28 ہونے والی ہیں۔ یہ ریاستیں دہلی کی حمکرانی سے خود مختار ہیں۔ جبکہ انڈیا کی یونین ٹریٹریز سات ہیں جن میں 31 اکتوبر سے اضافہ ہو کر ان کی کل تعداد نو ہو جائے گی۔ ان میں سے کسی کے پاس ریاستوں جیسے اختیارات نہیں ہیں۔

قطبيت کا حصول

آر ایس ایس اور وی ایچ پی کی جانب سے 2002 میں چلائی جانے والی مہم کے تحت جموں اور کشمیر کے نقشے میں مزید تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔ اس سے خطے میں ہندو مسلم آبادی میں مزید تقسیم بڑھنے کا اندیشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’پاکستان 370 کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا تھا‘

’میں اپنے بیٹے کو بھی بندوق اٹھانے کے لیے تیار کروں گا`

کیا کشمیر واقعی ’خوبصورت قید خانہ‘ ہے؟

انڈیا کا کشمیر کی ’نیم خودمختار‘ حیثیت ختم کرنے کا اعلان

مغربی لداخ کے کارگل ضلع میں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے جو انڈیا کے ساتھ اپنے انضمام پر خوش نہیں ہیں۔

مشرقی لداخ کے ضلع میں بدھ مت کے پیرو کار زیادہ ہیں جبکہ جموں میں ہندو اکثریت میں ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ آرٹیکل 35 اے کے خاتمے سے ان کے حقوق ختم کردیے اور اب وہ محکوم بن کر رہ گئے ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے کشمیر میں بسنے والوں سے شاندار تعمیر اور ترقی والے مستقبل کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جموں اور کشمیر میں جلد قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد لداخ کو کشمیر سے علیحدہ کر لیا گیا ہے اور یہ علاقہ اب بغیرکسی قانون ساز اسمبلی کے حق کے ہی براہ راست انڈیا کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

کشمیر کی حثیت کی تبدیلی کے بعد ہونے والے کسی بھی طرز کے انتخابات کا جموں اور کشمیر کی اکثریتی مسلم آبادی کی طرف سے بائیکاٹ کیا جا سکتا ہے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں بی جے پی کی حمایت یافتہ بے اختیار حکومت قائم کی جا سکے گی۔

حکومت کی جموں کشمیر سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات گذشتہ حکومتوں کی آمرانہ اور مرکزیت کی پالیسیوں سے دو اہم پہلوؤں سے کھلا انحراف ہے۔

پہلا پہلو یہ ہے کہ اس سے قبل وفاق میں بننے والی حکومتیں کشمیرکی سیاسی قیادت کے درمیان ایک ثالث کے طور پر کام کرتی تھیں۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسلم اکثریت کو برقرار رکھتے ہوئے دہلی کے 1950 سے اب تک جموں اور کشمیر پر تسلط کا یہ ایک جواز حاصل رہا ہے۔ یہ انڈیا کے سیکولر تشخص کے ثبوت کے لیے بھی انتہائی اہم تھا۔ مودی اور امت شاہ دونوں ہی انتہا پسند رہنما ہیں جو ان باتوں کا کوئی پاس نہیں رکھتے۔

سخت اقدام

اپنے انتہا پسند انداز کی بدولت ان کو وہ کچھ بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی ان کی برداشت بھی نہیں ہے۔

کشمیر پر کھیلا گیا جوا شاید بی جے پی کو اکتوبر میں ہونے والے کچھ ریاستوں کے انتخابات میں تو فائدہ پہنچائے اور ممکن ہے کہ اس سے وقتی طور پر اس سے انڈیا کی روز بروز دگرگوں معاشی صورتحال سے بھی توجہ ہٹ جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن یہ انتہا پسندانہ سوچ کشمیر تنازعے میں ایک ایسی چنگاری بھڑکا سکتی ہے کہ پھر شاید اس کو قابو میں لانا ان دونوں رہنماؤں کے بس میں بھی نہ رہے۔

دنیا کی بہت سی جمہوریتوں میں ایسے علیحدگی پسندانہ اثر و رسوخ والے علاقے شامل ہیں جیسا کہ برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ، کینیڈا میں کیوبیک ، سپین میں کاتالونیا۔

بی جے پی حکومت نے وہی اقدام اٹھایا جو 1989 میں سربیا کی مِلوزوِک حکومت نے یک طرفہ طور پر کوسوو کی آزاد حیثیت ختم کرکے اسے البانین اکثریت والی ایک پولیس ریاست میں بدل دیا تھا۔ لیکن بی جے پی حکومت نے ملوزوک سے بھی آگے بڑھ کر اقدامات اٹھائے ہیں۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ہندو قوم پرست حکومت جموں اور کشمیر میں بسنے والے مسلمانوں کو اپنے نظریے کے مطابق انڈین شہری بنانا چاہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح چین نے اویغرز مسلمانوں کے ساتھ سنکیانگ صوبے میں میں کیا ہے۔

لیکن ہندو قوم پرست جانتے ہیں کہ انڈیا ایسی ریاست نہیں ہے جہاں صرف ایک پارٹی نظام رائج نہیں ہےاور بظاہر صورتحال بہت خطرناک لگ رہی ہے۔

سمانترا بوس لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس (ایل ایس ای) میں بین الاقوامی اور تقابلی سیاست کے پروفیسر ہیں۔

اسی بارے میں