ابھینندن کا طیارہ گرانے والے پاکستانی افسر وِنگ کمانڈر محمد نعمان علی خان کے لیے ستارہ جرات کا اعزاز

ونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان تصویر کے کاپی رائٹ ISPR handout
Image caption ونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان

پاکستان نے فضائیہ کے ان دو افسروں کو فوجی اعزازات سے نوازنے کا اعلان کیا ہے جنھوں نے 27 فروری کو انڈیا کے دو جنگی طیاروں کو مار گرایا تھا۔

ادھر انڈیا نے بھی اپنے یوم آزادی کے موقع پر رواں برس فروری میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گرائے جانے والے انڈین جنگی طیارے کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کو ملک کے فوجی اعزاز ’ویر چکر‘ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پاکستان انڈیا کے خلاف F 16 طیارے استعمال کر سکتا ہے؟

ابھینندن کی ڈرامائی گرفتاری کی کہانی

پاکستانی اشتہار میں ابھینندن کے مذاق پر انڈین شائقین ناراض

ویر چکر انڈیا کا تیسرا بڑا فوجی اعزاز ہے جو کہ میدانِ جنگ میں بہادری کا مظاہرہ کرنے پر دیا جاتا ہے۔

رواں برس 27 فروری کو انڈین ونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کے طیارے کو پاکستانی فضائیہ کے طیارے نے اس وقت مار گرایا تھا جب وہ لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوا تھا۔

طیارے کی تباہی کے بعد ابھینندن پاکستانی علاقے میں ہی اترے تھے جہاں انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا اور دو دن بعد انھیں انڈیا کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کے ایک بیان کے مطابق صدر مملکت نے جن دو افسروں کو اعزازات سے نوازا ہے ان میں وِنگ کمانڈر محمد نعمان علی خان اور سکواڈرن لیڈر حسن محمود صدیقی شامل ہیں۔ ان دونوں افسران کو بالترتیب ستارہ جرات اور تمغۂ شجاعت کے اعزازات دیے جائیں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وِنگ کمانڈر نعمان نے ونگ کمانڈر ابھینندن کے مِگ 21 کو گرایا تھا جبکہ سکواڈرن لیڈر حسن محمود صدیقی نے انڈیا کے ایک دوسرے جنگی جہاز کو نشانہ بنایا تھا جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی حدود میں گرا تھا۔‘

یاد رہے کہ پاکستان میں سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر ہے، جس کے بعد ہلال جرات اور تیسرے درجے پر ستارہ جرات کا اعزاز آتا ہے، جبکہ تمغہ جرات چوتھا بڑا فوجی اعزاز ہے۔

ونگ کمانڈر ابھینندن کا طیارہ اس کارروائی کے دوران مار گرایا گیا تھا جسے پاکستان، انڈیا کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور حملے کے جواب میں کی گئی 'جوابی کارروائی' قرار دیتا ہے۔

اس وقت انڈین فضائیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے انڈین عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کے بعد ہونے والی لڑائی میں ایک پاکستانی ایف 16 طیارہ بھی گرایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ابھینندن کو اس ’ایف 16 طیارے کو گرانے‘ پر ہیرو قرار دیتے ہوئے ویر چکر سے نوازا جا رہا ہے۔

پاکستان نے ایف 16 طیارے کی تباہی کے اس دعوے کو متعدد بار مسترد کیا ہے۔

اس کے بعد امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھی کہا تھا کہ امریکہ کے محکمۂ دفاع کے اہلکاروں نے پاکستانی ایف 16 طیاروں کی گنتی کی ہے اور وہ تعداد میں پورے ہیں۔

’ابھینندن کے طیارے کے آلات کو پاکستان نے جام کر دیا تھا‘

انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق پاکستانی جنگی طیارے کا پیچھا کرتے ہوئے، پاکستانی سرحد میں داخل ہونے والے ونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کے مگ 21 طیارے میں جدید ٹیکنالوجی نہیں تھی۔

اس معاملے سے متعلق اہلکاروں کے حوالے اس اخبار نے لکھا ہے کہ ابھینندن کے جنگی طیارے میں جدید جیمرز نہیں تھے اور ان کے طیارے کے رابطے کے آلات کو پاکستان نے جام کر دیا تھا۔

جدید آلات کی کمی کو ہی ابھینندن کے پاکستانی سرحد میں داخل ہو جانے کی وجہ بھی بتایا جا رہا ہے۔ آلات جام ہو جانے کی وجہ سے وار روم سے آنے والی اطلاعات ابھینندن تک نہیں پہنچ سکیں اور وہ پاکستانی علاقے میں داخل ہو گئے۔

انڈین فضائی فوج کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پہلے بھی اینٹی جیمنگ ٹیکنالوجی کے بارے میں حکومت کو مطلع کیا جا چکا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

وِنگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کو ملک کے فوجی اعزاز ’ویر چکر‘ سے نوازنے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ ایئر مارشل شاہد لطیف نامی اکاؤنٹ نے ٹویٹ کیا ہے کہ انڈین حکومت نے یہ جانتے ہوئے کہ پی اے ایف شاہین نے ونگ کمانڈر ابھینندن کے طیارے کو تباہ کر دیا تھا، انھیں ویر چکر نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’دنیا قیامت تک مخمسے میں رہے گی کہ انڈیا کے ایک ناکام اہلکار کی عزت افزائش پر ہنسیں یا روئیں۔‘

آفاق بلوچ نے اپنے ٹویٹ میں ایک کاغذ کے طیارے کی جلتی ہوئی تصویر کے ساتھ انڈیا کے اس دعوے کا مزاق اڑایا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انڈیا نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ مار گرایا۔

چندن مودی نے ٹویٹ کر کے بتایا کہ ان کے بیٹے کو سکول میں ایک مقبول انڈین شخصیت پر ایک پیرا گراف لکھنے کے لیے کہا گیا اور اس نے ونگ کمانڈر ابھینندن کے بارے میں لکھا۔

اسی بارے میں